جب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردیا

جب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردیا

  

29 مئی 1974ء کوچناب نگر(ربوہ)ریلوے اسٹیشن میں مسلمان طلباء پرقادیانی حملے اوربے پناہ ظلم وتشددکیخلاف چلنے والی مسلمانوں کی مقدس تحریک تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کے ضمن میں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلے پربحث ومباحثہ اورغوروفکرکرنے کیلئے دوماہ میں 28اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ملکی تاریخ کایہ طویل ترین اجلاس تھا جوتسلسل سے جاری رہا۔مسلمانوں کی طرف سے ممبران پارلیمنٹ کو,,ملت اسلامیہ کامؤقف،،نامی کتاب پیش کی جسے اس وقت کے اُمت مسلمہ کے تمام مکاتب فکرکے جیدعلماءِ کرام نے مرتب کیاتھا جبکہ قومی اسمبلی میں قادیانی کے دونوں گروپوں (ربوہ)اور(لاہوری)کواپنامؤقف اورصفائی پیش کرنے کاموقع بھی دیاگیاان کامؤقف سنے بغیرہی فیصلہ کردیاگیا۔چناچہ قادیانی(ربوہ)گروپ کے سربراہ مرزاناصرپرگیارہ روزمیں 42گھنٹے اور قادیانی (لاہوری) گروپ کے سربراہ مرزا صدرالدین پر دو دن میں 7گھنٹے بحث کی گئی اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے دودن میں بحث کوسمیٹاکیونکہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوؒ نے 7ستمبرکوفیصلے کی تاریخ کااعلان کر رکھا تھااسی وجہ سے پوری قوم کی نظریں اس دن اور پارلیمنٹ پرلگی تھیں اور بالآخر 7ستمبر 1974ء کاوہ مقدس دن رحمتیں لیکرآن پہنچاجب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 4بج کر35منٹ پر منکرین ختم نبوت قادیانی کی دونوں شاخوں کوان کے کفریہ عقائدکی بناء پرآئینی وقانونی طورپرغیرمسلم اقلیت قراردے دیااوراس طرح حضورخاتم المرسلین ﷺ کے کلمہ کے صدقے قائم ہونے والی مملکت خدادپاکستان میں حضورخاتم النبیین رحمۃ اللعالمین حضرت محمدکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کوآئینی وقانونی تحفظ مل گیا۔یہ پارلیمنٹ کے حوالے سے بھی تاریخی فیصلہ تھاکہ کسی ایک ممبرنے بھی اس آئینی ترمیم کی مخالفت نہ کی۔ متفقہ فیصلے کے فوری بعدمولانامفتی محمودؒ اسمبلی ہاؤس سے باہرنکلے اور سیدھے دفترتحریک تحفظ ختم نبوت آگئے۔ جہاں مفتی صاحب کابڑی شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔مفتی صاحب پہنچے توقائدتحریک تحفظ ختم نبوت مولانا سید محمدیوسف بنوریؒ مصلے پرسجدہ ریزتھے اوراللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکر دعامانگ رہے تھے۔ آنسوؤں سے ان کی داڑھی ترہوگئی تھی۔مفتی صاحب تشریف لائے تو انہوں نے آوازدی:کہ حضرات اللہ پاک کالاکھ لاکھ شکرہے کہ ہمارامطالبہ مان لیا گیا۔ قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قراردے دیا گیا۔ مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ دوبارہ سجدہ ریز ہو کرشکربجالائے۔وہ روتے جاتے تھے اورکہہ رہے تھے,,اللہ پاک ہم آپ کاشکرکیسے ادا کریں آپ نے ہم پر بہت بڑااحسان کیاہے،،۔سجدے سے اُٹھتے ہوئے فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ نے مجھے سرخرو کیا ہے۔مرنے کے بعد امیر شریعت ؒ سے ملاقات ہوئی تومیں کہہ دوں گا کہ آپ کے مشن میں تھوڑا سا حصہ ڈال آیا ہوں۔ آپ نے ختم نبوت کے جس پودے کوپانی دیا تھا، میں اسے پھل لگے ہوئے دیکھ آیاہوں۔  دوستو! میری بات سن لو۔ حضرت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ صاحب کو امیر شریعت کاخطاب اس وقت کے 500اجل علماء نے دیاتھااورمیری خوش قسمتی ہے کہ میرے دستخط دوسرے یاتیسرے نمبر پر موجود ہیں۔ الحمداللہ یہ 90 سالہ قادیانی مسئلہ بھٹوکے دورحکومت میں صرف 90 دنوں میں ہی حل ہوگیا۔ عوام کے بے مثال اتحاد، ارکان اسمبلی کے جزبہ ایمانی،حکومت اورحزب اختلاف کاباہمی تعاون اور وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹوؒ کی سیاسی بصیرت اوردینی حمیت کی بدولت قادیانی کو جسدملت اسلامیہ سے کاٹ کرعلیدہ کرکے امام الانبیاء حضرت محمدمصطفی ﷺ کی نبوت ورسالت کی لاج رکھ لی گئی۔ یادرہے کہ 1974ء کوقومی اسمبلی میں حزب اختلاف اورحزب اقتدارکے متفقہ فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ میں ملت اسلامیہ کامؤقف مفکر اسلام مولانامفتی محمودؒ نے پیش کیااور قادیانیوں کوغیرمسلم اقلیت قراردینے کی قرارداد قائد اہلسنت مولاناشاہ احمد نورانیؒ نے پیش کی اور یوں مسلمانوں کی 90سالہ جدوجہد اور قربانیاں رنگ لائیں کہ منکرین ختم نبوت قادیانیوں کوآئینی وقانونی طور پر غیرمسلم اقلیت قرار دیدیا گیا غیور مسلمانو! بلاشبہ اس فقیدالمثال کامیابی اورتاریخی فتح کا سہرا مجاہدوں غازیوں کیساتھ ساتھ 1953ء کی تحریک مقدس تحفظ ختم نبوت کے اُن ہزاروں شہداءِ ختم نبوت کے سرہے جنہوں نے آقائے نامدارؐ کی عزت وناموس کے تحفظ کیلئے اپنی قیمتی جانوں کانظرانہ پیش کرکے عشق ووفا، صبرورضا کی روشن داستانیں رقم کیں۔ جنہوں نے جیلوں اور عقوبت خانوں کے اندھیروں کو عشق مصطفی ؐ سے روشن کیا۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -