قادیانیت:آئین و قانون کیا کہتا ہے؟

قادیانیت:آئین و قانون کیا کہتا ہے؟

  

حضرت محمد مصطفی ؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپؐ کے بعد کسی قسم کا کوئی تشریعی، غیر تشریعی، ظلی، بروزی یا نیا نبی نہیں آئے گا۔ آپؐ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے،وہ کافر ہے۔ قرآن مجید کی ایک سو سے زائد آیات مبارکہ اور حضور نبی کریمؐ کی تقریباً دو سو دس احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضور خاتم النبیینؐ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اس بات پر ایمان ”عقیدہئ ختم ِ نبوت“ کہلاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی موجودگی میں کسی نبی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟ یہ رشد و ہدایت کے دو سرچشمے ہیں،جو قیامت تک عالم اسلام کو سیراب کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی مدعی نبوت کا آنا گمراہی ہے۔ 

مسلمانانِ عالم کا حضور نبی کریم ؐ کے آخری نبی ہونے پر اجماع اور عقیدہئ جہاد 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد اسلام دشمن طاقتوں بالخصوص انگریزوں کے لئے سوہان روح بنا ہوا تھا اور ہے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ کسی طرح کوئی ایسا اہتمام ہو جائے کہ مسلمانوں کے دِل سے حضور نبی کریمؐ کی محبت و عقیدت اور جہاد کی روح دونوں ختم ہو جائیں، اب چونکہ ایک نبی کے حکم میں ترمیم و تنسیخ دوسرے نبی کے ذریعے ہی سے ہوتی ہے، چنانچہ حکومت برطانیہ کی سرپرستی اور لالچ پر سیالکوٹ کی ضلع کچہری کے ایک منشی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ وہ گورداسپور (بھارت) کی تحصیل بٹالہ کے ایک پسماندہ گاؤں قادیان کا رہنے والا تھانے پہلے خود کو عیسائیت اور ہندو مخالف مناظر کی حیثیت سے متعارف کروایا اور مسلمانوں کی جذباتی اور نفسیاتی ہمدردیاں حاصل کیں۔ پھر مجدد، محدث، امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح اور مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہوئے انجام کار باقاعدہ امرو نہی کے حامل ایک صاحب شریعت نبی ہونے کے ادعا تک جا پہنچا۔ یعنی باقاعدہ نبی و رسول ہونے کا دعویٰ کیا حتیٰ کہ اعلان کیا کہ وہ خود ”محمد رسول اللہ“ ہے۔ (نعوذ باللہ) پھر اس کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے کہا کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کی شکل میں دوبارہ ”محمد رسول اللہ ؐ“ کو بھیجا۔ مزید کہا کہ مرزا قادیانی خود ”محمد رسول اللہ“ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں آیا۔ اس لئے ہمیں کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، کیونکہ اب کلمہ طیبہ میں ”محمد رسول اللہ“ سے مراد مرزا قادیانی ہے۔ قادیانی، آنجہانی مرزا قادیانی کو ”محمد رسول اللہ“، اس کی بیوی کو ”ام المومنین“، اس کی بیٹی کو ”سیدۃ النساء“، اس کے خاندان کو ”اہل بیت“، اس کے خاص مریدوں کو ”صحابہ کرام“، اس کی نام نہاد وحی و الہامات کو ”قرآن مجید“، اس کی گفتگو کو ”احادیث رسول“، اس کے شہر قادیان کو ”مکہ“، ربوہ کو ”مدینہ“ اور اس کے قبرستان کو ”جنت البقیع“ قرار دیتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب باتیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے لئے بھی ناقابل ِ برداشت ہیں۔

پوری ملت اسلامیہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانی کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور اس فتنے کا استیصال کرنا ہر مسلمان کا اوّلین فریضہ ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط میں علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔“ قادیانیوں کے کفریہ عقائد و عزائم کی بناء پر اس وقت کی ملک کی منتخب جمہوری حکومت (پیپلز پارٹی) نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974 ء کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 106(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کر دیا۔ جمہوری نظامِ حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لیکن یہ دنیا کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے بلایا۔ اسمبلی میں اس کے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قادیانی عقائد کے حوالے سے اُس پر جرح کی جس کے جواب میں مرزا ناصر نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا،بلکہ باطل تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیانی، پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت،پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ انہیں ان کے عقائد کی بناء پر غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا، بلکہ اُلٹا وہ مسلمانوں کو کافر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔

قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال اور اس کی توہین سے روکنے کے لئے 26 اپریل 1984ء کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کے لئے اسلامی شعائرو اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے۔ اس سلسلے میں تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی فوجداری دفعہ298/C کا اضافہ کیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/C: ”قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے، کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی،جو تین سال تک ہو سکتی ہے، اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔“ قادیانیوں نے اس پابندی کو وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ، کوئٹہ ہائی کورٹ وغیرہ میں چیلنج کیا جہاں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بالآخر قادیانیوں نے پوری تیاری کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی کہ انھیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے، جو جناب جسٹس عبدالقدیر چودھری،جناب جسٹس شفیع الرحمن، جناب جسٹس محمد افضل لون، جناب جسٹس سلیم اختر، جناب جسٹس ولی محمد خاں پر مشتمل تھا، اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں اطراف سے دلائل و براہین دیئے گئے۔ اصل کتابوں سے متنازع ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسے یا اسلامی دارالعلوم کے مفتی صاحبان نہیں تھے، بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان نے جب قادیانی عقائد پر نظر دوڑائی تو وہ لرز کر رہ گئے۔ فاضل جج صاحبان کا کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کے حقوق سلب ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے تاریخی فیصلے ظہیرالدین بنام سرکار، (1993 SCMR 1718) کی رو سے کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مستوجب ہے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اپنے نافذ العمل فیصلہ میں لکھا:

”ہر مسلمان کے لئے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔“ (”صحیح بخاری“ ”کتاب الایمان“، ”باب حب الرسول من الایمان“) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد، جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے،سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے علانیہ رویے کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اِس لئے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا علانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ”رشدی“ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی، جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور اکرم ؐ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ 

 (ظہیر الدین بنام سرکار1993 SCMR 1718ء) 

مزید :

ایڈیشن 1 -