خامیوں اور خوبیوں سے آگاہ کرنے والی دلنشیں شخصیت!

خامیوں اور خوبیوں سے آگاہ کرنے والی دلنشیں شخصیت!

  

اشفاق احمد اور ریڈیو کی دنیا

تاریخ کے اوراق دہرائے جائیں تو یقینا ریڈیو پاکستان کے حوالے سے اشفاق احمد کا نام الگ اہمیت کا حامل ہے۔ ریڈیو پاکستان کے لیے اشفاق احمد کی خدمات بیش قیمت ہیں انہوں نے 1949ء کے لگ بھگ ریڈیو پاکستان کے لیے لکھنا شروع کیا۔ اور دیکھتے دیکھتے مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے”اپنی تمام تر تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جس محنت، لگن اور محبت کے ساتھ اس نے افسانے لکھے اسی محنت اور لگن کے ساتھ ریڈیو کے لیے لکھا۔“)

ریڈیو کی دنیا میں اشفاق احمد کا لازوال شاہکار ”تلقین شاہ“ ہے جو 30 برس بعد بھی اسی طرح مقبول خاص و عام رہا جس طرح پہلے تھا۔ ”تلقین شاہ“ ریڈیو پاکستان کے آسمان پر ستارہ بن کرچمکتا رہا اور اشفاق احمد کے فن کو نکھار بخشتا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فیچر کی کامیابی میں اشفاق احمد کی ادائیگی کا بہت عمل دخل ہے۔بقول ا ے حمید:

”جب تک تلقین شاہ کا فیچر ریڈیو پر نشر ہوتا رہتا لوگ ریڈیو سیٹ سے الگ نہیں ہوتے تھے۔ آج بھی جب ریڈیو پاکستان کے کسی سٹیشن سے یہ فیچر نشر ہوتا ہے تو اس کی تازگی اور شادابی روز اوّل کی طرح قائم و دائم رہتی ہے۔“ 1956ء میں اشفاق احمد نے باقاعدہ طور پر ”تلقین شاہ“ کا ہفتہ وارپروگرام شروع کیا۔یہ پروگرام دو کرداروں ”تلقین شاہ“ اور”ہدایت“ پر مشتمل تھا۔

”تلقین شاہ“ کی کامیابی ایک اوریجنل ادیب اور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک افسانہ نگار کی کامیابی تھی۔ اس فیچر میں اشفاق احمد کی باریک بین نظر اپنے معاشرے کے کرداروں کے روزمرہ معمولات کا گہرا مشاہدہ اور اس کی ہمدردی بھر ا طنز عروج پر ہے۔ اشفاق احمد نے تلقین شاہ میں جو کردار تخلیق کیے وہ ہمارے معاشرے کے سچے کردار ہیں۔ تلقین شاہ کا فیچر سنتے ہوئے اور اس کے کرداروں کو بولتے ہوئے سن کر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مختلف کرداروں کے روپ میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ اشفاق احمد کے قلم اور ایک بھر پور تخلیقی صلاحیتوں کے مالک افسانہ نگار کے فن کا کمال ہے۔ اشفاق احمد نے تلقین شاہ محض ہنسی مذاق کے لیے نہیں لکھا بلکہ اس غرض سے لکھا کہ ہم اپنی خامیوں سے آگاہ ہوسکیں۔

اس طرح اپنے ریڈیائی فیچر ”ٹاہلی دے تھلے“ میں اشفاق احمد نے پاکستان کے دیہاتی افراد کی خوشیوں اور ان کے مختلف مسائل کی بڑی جامع تصویر کشی کی ”یہ پاکستانی معاشرے کی بڑی سچی تصویریں تھیں جو ریڈیو کے ذریعے ہمارے دل و دماغ میں نقش ہوتی چلی گئیں۔“(?) اپنے افسانوں کی طرح اشفاق احمد نے اپنی ریڈیائی تخلیقات کے ذریعے بھی ہمیں ہماری خامیوں اور خوبیوں سے آگاہ کیا۔

”یہ حقیقت ہے کہ اشفاق احمد نے ریڈیو اور ٹیلی وڑن کو اپنی اعلیٰ ترین ادبی تخلیقات دیں۔ ”تلقین شاہ“ ”ٹاہلی دے تھلے“ ”اچے برج لاہور دے“ او ر دوسرے کئی ریڈیائی فیچر اور ڈرامے۔ اگر ریڈیو پاکستان لاہور کی ادبی وراثت کا کوئی تذکرہ لکھا گیا تو اشفاق احمد کی تخلیقات کا شمار ریڈیو کے ادب عالیہ میں ہوگا۔“(?)

اشفاق احمد نے ریڈیو کیلئے اصلاحی سکرپٹ بھی لکھے اور پرپیگنڈہ سکرپٹ بھی لکھے۔ لیکن کسی مقام پر بھی اْس نے ادب اور اسلوب ِ تحریر سے انحراف نہیں کیا۔ ہر انسان خواہ بنیادی طور پر وہ ادیب ہو، تخلیق کار ہو تو اس کی کوئی بھی تحریر ادبی دائرے سے باہر نہیں رکھی جا سکتی۔ ”اشفاق احمد ادب کے انشاپرداز اورتخلیق کار ہیں۔ وہ ریڈیو اور ٹیلی وڑن پر لکھنے سے پہلے اپنی ادبی تخلیقات کے ذریعے ادب میں نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔“

اشفاق احمد کی شخصیت میں ایک کشش اور جاذبیت ہے۔ اْس کا ہر ریڈیائی سکرپٹ ایک مکمل اور مضبوط ادبی سکرپٹ ہوتا تھا۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے لیے کئی دوسرے نامور ادیبوں نے بھی بہت کچھ لکھا مگر اشفاق احمد کے مقام تک کوئی نہ پہنچ سکا۔ قدرت نے اشفاق احمد کو ادب تخلیق کرنے کے لیے بنایا تھا۔ اور جب کوئی صلاحیت اللہ کی طرف سے ملی ہوتو اس کا سرچشمہ کبھی خشک نہیں ہوتا اور لکھنے والا بڑی بے ساختگی اور روانی سے لکھتا ہے۔

اشفاق احمد کا ریڈیو کا زمانہ ان کا اور ریڈیو دونوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ اشفاق احمد زندگی کی تمام تر توانائیوں سے بھر پور ایک زندہ دل، خوبصورت اور صحت مندسوچ رکھنے والے ادیب تھے۔ افسانہ نگار کی حیثیت سے ان کا برصغیر میں ایک اہم مقام بن چکا ہے۔”ریڈیو کے لیے وہ اسی یک سوئی اور لگن سے لکھتا جس طرح وہ نقوش یا ادب لطیف کے لیے کوئی افسانہ لکھتا تھا۔“

اشفاق احمد کے ریڈیو کے آرٹسٹوں کی ایک پوری ٹیم تھی جس کو انہوں نے پوری ٹریننگ دی ہوئی تھی۔ اس میں چند ایک تو اپنے زمانے کے مشہور ریڈیو آرٹسٹ تھے۔ مثال کے طور پر آفتاب احمد، مظہر حسینی، اور محمد حسین وغیرہ۔ لیکن جو نو آموز آرٹسٹ تھے وہ بھی اشفاق احمد کے زیر تربیت رہ کر بڑے مشاق آرٹسٹ ہو گئے تھے۔

اسی طرح اشفاق احمد کے پنجابی فیچر ”اچے برج لاہور دے“ نے بھی ریڈیو پر کامیابی کا لوہا منوایا۔ یہ فیچر لاہور شہر اور اسکے آس پاس کے دیہات کی سوشل زندگی کے روزمرہ مسائل کے بارے میں تھا۔ اشفاق احمد کے بعد کے پنجابی ریڈیائی ڈراموں اور فیچروں میں مزاح کا رنگ جگت بازی کی حد تک پہنچ گیا۔ مگر اشفاق احمد کا ہر سکرپٹ اس قسم کے مزاح سے پاک ہوتا تھا۔ اس کے پاس مزاج کے برخلاف طنز کے نشتر تھے۔ اس کا طنز آدمی کے دل پر اثر کرتا تھا۔ ریڈیو کے اردو ڈراموں میں اشفاق احمد نے اپنے ادبی معیار کو برقرار کھا۔”اس کے ریڈیو ڈرامے فنی اور ادبی اعتبار سے مکمل اور پختہ ہوتے تھے۔ حالانکہ اس زمانے میں اس کی عمر میں اتنی پختگی نہیں آئی تھی مگر یہ ان خداداد صلاحیتوں کا کمال تھا۔ اور خدادا دصلاحیتوں کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔“(?)

جب ریڈیو پاکستان پر پرگراموں کی ریکارڈنگ ہونے لگی تو اس کے کچھ عرصے بعد اشفاق احمد نے اپنی کوٹھی میں ہی ایک چھوٹا سا سٹوڈیو بنالیا۔ یہ ان کا شوق تھا۔ وہ ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ اپنے گھر یلو سٹوڈیو میں ہی کرتے اور پروگرام کا پور ا پیکج بنا کر ریڈیو پاکستان لاہور کودے دیتے تھے۔ چونکہ اشفاق احمد ریکارڈنگ وغیر ہ کے تمام تکنیکی شعبوں سے واقف تھے۔ اس لیے پروگرام کی ریکارڈنگ اورکوالٹی کبھی خراب نہیں ہوتی تھی۔ گھریلو سٹوڈیو میں وہ صرف اپنے فیچر ”تلقین شاہ“ کی ریکارڈنگ ہی کرتے تھے۔ ان کے اردو اور پنجابی کے مکمل دورانیے کے ڈرامے لاہور ریڈیو سٹیشن کے سٹوڈیو میں ریکارڈ کیے جاتے تھے۔ لاہورٹیلی وڑن اسٹیشن ٹائم ہونے سے پہلے ہی اشفاق احمد نے ریڈیو کے واسطے اپنی تمام تر صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کیا اور ان کے ریڈیا ئی فیچر اور ڈرامے سن کر ایسا لگتا تھا جیسے اس کے ریڈیائی سکرپٹس میں اس کے افسانوں کے کردار بو ل رہے ہوں۔ اور بقول اے حمید: ”افسانوں کا سچا اور طاقتور ماحول نظر آتا تھا۔ چارپائیاں مرمت کرنے والوں سے لے کر کوٹھیوں کے پچھلے برآمدوں میں بٹھائے ہوئے پرانی وضع کے بات بات پرتنقید کرنے والے بوڑھے ملتے تھے۔“

اشفاق احمد اور ٹیلی وڑن

جس وقت لاہور کے ٹیلی وڑن نے کام کرنا شروع کیا تو 1964ء کے اواخر کا زمانہ تھا۔ ریڈیو لاہور اپنی نئی عمارت میں منتقل ہو چکا تھا۔ اور اشفاق احمد کافیچر ”تلقین شاہ“ اپنے عروج پرتھا۔ 1965ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تو اشفاق احمد کے ریڈیو فیچروں اور ڈراموں اور خاص طور پر ”تلقین شاہ“ میں قومی اور حب الوطنی کا جذبہ کھل کر سامنے آیا۔ تلقین شاہ فیچر کے ذریعے اشفاق احمد نے محاذ جنگ پر لڑتے اپنے بہادر جوانوں کے سینوں میں جذبہ ایمانی کا ایک نیاولولہ پیدا کیا اور ا س محاذ پر بھی اْس نے اپنے قومی کردار کا پورا پور ا حق ادا کیا۔

1965ء کی جنگ کے بعد اشفاق احمد ریڈیو سے دور اور ٹیلی وڑن کے زیادہ قریب تر ہوگئے۔ پھر ایک وقت آیا کہ جب وہ پورے کے پورے ٹیلی وڑن کے ہو کر رہ گئے۔ اور ریڈیو کے ساتھ ان کا رشتہ تلقین شاہ کی حد تک باقی رہ گیا۔ ٹیلی وڑن کے لیے لکھتے ہوئے اشفاق احمد کو محسوس ہوا کہ ان کے بیان کے لیے جو وسعت درکار تھی وہ انہیں مل گئی۔ ریڈیو پر ان کی جن پوشیدہ صلاحیتوں کو آواز کی لہروں نے محدود کر رکھا تھاٹیلی وڑن نے انہیں ایک بحر بیکراں سے ہم کنار کر دیا۔

”جس جوش اور جذبے کے ساتھ اشفاق احمد نے قیام پاکستان کے فوراً بعد افسانے لکھنے شروع کیے تھے۔ اسی جذبے اور جوش کے ساتھ وہ ٹیلی وڑن کے لیے لکھنے لگا۔“

اشفاق احمد نے جب پاکستان ٹیلی وڑن کے لیے لکھنا شروع کر دیا تو ان میں خداداد صلاحیتوں کی کمی نہیں تھی۔ ٹیلی وڑن کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اشفاق احمد کے حقیقی جوہر ٹیلی وڑن پر آکر کھلے۔ ٹیلی وڑن کے لیے انھوں نے جو فیچر اور ڈرامے لکھے ان کی تعداد پونے چار سو کے لگ بھگ بنتی ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔

٭)توتا کہانی

٭)ایک محبت سو افسانے

٭) اور ڈرامے

٭)کاروان سرائے

٭)حیرت کدہ

٭)من چلے کا سودا

٭)بند گلی 

٭)تلقین شاہ

٭)اچے برج لاہور دے

٭)ٹاہلی دے تھلے

اس کے علاوہ اشفاق احمد نے ٹیلی وڑن کے لیے عام دورانیے اور طویل دورانیے کے ڈرامے بھی لکھے ہیں جو بہت پسند کیے گئے۔ اپنے آخری دور میں اشفاق احمد کے ڈراموں پر تصوف کے فلسفے کا رنگ بہت گہرا ہوگیاتھا۔ اور اس کے کردار طویل مکالمے بولنے لگتے تھے۔

”کسی نے اشفاق احمد پر اعتراض کیا کہ آپ کے ڈراموں کے کردار فلسفیانہ رنگ کے طویل مکالمے بولتے ہیں۔ اس پر اشفاق احمد نے جواب دیا۔ کہ کبھی آپ نے شکسپیئر کے ڈرامے پڑھے ہیں اگر اس کے ڈراموں کے کردار ایک ایک منٹ کے مکالمے بول سکتے ہیں تو میرے ڈراموں کے کردار بھی بول سکتے ہیں۔“

یہ ایک حیرت انگیز بات تھی اور یہ خوشگوار حادثہ صرف اشفاق احمد کے ساتھ ہی ہوا جو کہ ایک چیلنج بھی تھا جسے اشفاق احمد نے قبول کیا۔ ریڈیو اور ٹی وی جیسا سب جانتے ہیں کہ سرکاری ادارے ہیں اور ان کی ایک خاص پالیسی ہوتی ہے اور ہر ادیب کو یہاں کچھ اصول و قواعد کے اندر رہ کر لکھنا پڑتا ہے۔ لیکن یہاں اشفاق احمد نے یہ کمال دکھایا کہ ایسے ایسے نادر اور یگانہ روز گار ڈرامے لکھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا وہ ادبی رسالوں کے لیے افسانے اور ڈرامے لکھ رہے ہوں۔ ”ٹیلی وڑن کو اْس نے اپنے ڈراموں کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ایسے ایسے کردار عطاکیے جنہوں نے لوگوں کو مسحور کرلیا۔ دیکھنے والوں کوشاید پہلی بار احساس ہوا کہ وہ ٹیلی وڑن پر اپنے آپ کو چلتا پھرتا باتیں کرتا دیکھ رہے ہیں۔“

”ایک محبت سو افسانے“ اشفاق احمد کا پہلا افسانوی مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ٹی وی ڈراموں کی سیریز بھی انہوں نے اسی نام سے لکھی۔اور اس سیریز کے ڈراموں نے بڑی شہرت حاصل کی۔

”لوگ ڈرامہ ٹیلی کاسٹ ہونے سے پانچ دس منٹ قبل ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ جاتے تھے۔ جتنی دیر تک ڈرامہ نشر ہوتا کوئی کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔“

بعد میں یہی ڈرامے نئے اداکاروں پر رنگین فلمبند کرکے ٹیلی وڑن پر ایک دفعہ پھر پیش کیے گئے تو اس بار بھی یہ ڈراموں کا ایک مقبول ترین سلسلہ ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ ان کی سیریز ”تو تا کہانی“، ”حیرت کدہ“ اور ”کاروان سرائے“ کے ڈراموں میں بھی اشفاق احمد کا فن اور اس کی فنی اور تخلیقی صلاحیتیں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد کے ٹی وی ڈراموں میں فلسفیانہ خیالات اور تصوف کا اثر نمایاں ہوتا گیا۔ یہ ان کے طبعی رجحان کا تقاضا اور ان کے فن کے فطری عمل کا نتیجہ تھا۔ صوفیانہ اثرات شروع ہی سے ان پر غالب رہے۔ جیسے جیسے ان کی ادبی تخلیقات کی عمر بڑھتی گئی تصوف کا اثر گہرا ہوتا گیا۔یہاں تک کہ ٹیلی وڑن کے ڈراموں میں ان کے بعض کردار جو فلسفیانہ موشگافیاں کرتے وہ عام بلکہ خاص آدمیوں کی سمجھ سے بھی باہر ہوتیں۔ لیکن اشفاق احمد اپنی روش پر قائم رہے۔ اپنے نظریات کے وفادار رہے۔ اور یہی ایک بڑے ادیب کی شا ن ہوتی ہے۔بقول اے حمید: ”ایک بار میں نے اس سے کہا تھا کہ تم اپنے ڈراموں میں تصوف کے جس فلسفے کا طویل طویل لیکچروں کے ذریعے اظہار کرتے ہو وہ میری سمجھ سے باہر ہوتا ہے مگر میں تمہیں اس کے اظہار سے کبھی نہیں روکوں گا۔“

اشفاق احمد نے ٹیلی وڑن پر ”تلقین شاہ“ کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا جس کی سب سے بڑی وجہ اشفاق احمد کی کیمرے کے سامنے جھجک تھی۔ ریڈیو میں بھی اپنے شرمیلے پن کی وجہ سے ریکارڈنگ کے وقت کسی باہر کے آدمی کو سٹوڈیو میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

اشفاق احمد کا ڈرامہ سیریل ”من چلے کا سودا“ تصوف کے موضوع پر ایک انوکھی کاوش تھی۔ اس ڈرامے نے لوگوں کو بہت متاثر کیا۔ فنی اعتبار سے اشفاق احمد کا یہ ڈرامہ اتنہائی مکمل اور حد کمال تک پہنچا ہوا ہے۔ اشفاق احمد اگر اپنے ڈراموں کو کتابی شکل میں چھاپتے تو پڑھنے والے پر وہ اثر نہ ہوتا جو ڈرامے دیکھنے سے ہوتا ہے۔بقول اے حمید:

”میرے خیال میں اشفاق احمد نے اپنا آدھے سے زیادہ ادبی ٹیلنٹ ریڈیو ٹی وی کی نذر کر دیا ہے۔ ہماری ایک نسل اس کے ڈراموں کو ضرور یاد رکھے گی۔ اس کے بعد کی نسل اس سے محروم ہو جائے گی۔ اس کے برعکس اگر اشفاق احمد ”تلقین شاہ“ کے کردار کو ایک ناول کی شکل میں بیان کرتا تو میری رائے میں اس کا درجہ جدید اردو ادب کے ناولوں میں فسانہ عجائب سے کسی طرح کم نہ ہوتا۔“

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -