مقبوضہ کشمیر میں مزید 12لاکھ غیر مقامی باشندوں کو ڈومیسائل جاری، کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارتی سفارتکار کی دفترخارجہ طلبی، شدید احتجا ج

مقبوضہ کشمیر میں مزید 12لاکھ غیر مقامی باشندوں کو ڈومیسائل جاری، کنٹرول لائن ...

  

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مقبوضہ جموں و کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے غیر مقامی شہریوں کو 12 لاکھ سے زائد ڈومیسائل جاری کر دئیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر حکومت کے مطابق ڈومیسائل کا اجرا جموں کشمیر کے 20 اضلاع میں کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق 2 لاکھ 86 ہزار ڈومیسائل کشمیر ڈویژن اور 9 لاکھ 45 ہزار ڈومیسائل جموں ڈویژن میں جاری کیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت نے 3 لاکھ غیر مقامی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے تھے جس میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں تھا۔اسلامی تعاون کی تنظیم(او آئی سی)اور پاکستان نے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل قوانین واپس لینے کا مطالبہ کر رکھا ہے دوسری طرفمقبوضہ کشمیر کے دریائے کشن کنگا سے دو نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جو دو سال سے لاپتہ تھے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق باندی پورہ میں کشن گنگا دریا سے دو نوجوانوں کی لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نثار احمد اور سمیر احمد ڈار کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ دنوں نوجوان بالترتیب 2018 اور 2019 سے لاپتہ تھے۔کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ نثار احمد ترال ضلع کا رہائشی کا تھا اور دو سال قبل لاپتہ ہوگیا تھا جب کہ سمیر ڈار ضلع پلوامہ کا رہائشی تھا اور ایک سال قبل والدین نے اپنے بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔نوجوانوں کے اہل خانہ نے پولیس میں گمشدگی کی رپورٹ درج کراتے ہوئے بھی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے نوجوانوں کو لاپتہ کیا ہے اور  انہیں ماورائے عدالت قتل کردیا جائے گا۔

ڈومیسائل جاری

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان نے بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر سینئر بھارتی سفارتکار کو دفترخارجہ طلب کرکے سخت احتجاج کیا۔ترجمان دفترخارجہ کے جاری بیان کے مطابق ایک سینئر بھارتی سفارتکار کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور 5 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی قابض فورسز کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور بے گناہ شہری کے زخمی ہونے کے واقعے پر پاکستان نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔بیان میں بتایا گیا کہ ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی قابض فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاؤں کا رہائشی 19 سالہ نوجوان محمد طارق ولد غلام حسین شدید زخمی ہوگیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ بھارتی قابض فورسز آرٹلری فائر، مارٹر اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ رواں سال بھارت نے اب تک 2 ہزار 158 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 17 شہادتیں ہوئیں جبکہ 168 بے گناہ شہری زخمی ہوگئے۔دفتر خارجہ نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف وزی کرتے ہوئے ایل او سی کے اطراف میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔بھارت سے 2003 کے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کرکے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو برقرار رکھا جائے۔دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں تواتر اضافہ دیکھا گیا ہے اور آئے روز آزاد کشمیر میں ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -