بھرپور وسائل دیدیں جی سی یو کا شمار دنیا کی بہترین 100یونیورسٹیز میں ہو گا: پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی 

بھرپور وسائل دیدیں جی سی یو کا شمار دنیا کی بہترین 100یونیورسٹیز میں ہو گا: ...

  

لاہور(شہزاد ملک‘تصاویر ندیم احمد) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی نے کہا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی تعلیمی پالیسی نہیں ہے‘ مجھے بھرپور وسائل کے ساتھ دس سال دیدئیے جائیں تو میں جی سی کا شمار دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں کروادوں گا ہم سڑکوں کے نام پر تو قرض لے لیتے ہیں مگر تعلیم کے لئے نہ تو قرض لینے کو تیار ہیں نہ ہی اس کا بجٹ بڑھانے کو تیار ہیں یکسا ں نصاب کی بجائے سیٹنڈرز ایجوکیشن کی بات کی جائے ٹیلنٹ کو آگے لایا جائے میں نے دس ماہ میں جی سی یو کی فنانشل‘ اکیڈمک اور مورل کرپشن پکڑی جس پر مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملیں لیکن ادارے کو ہر طرح کی کرپشن سے پاک کرکے دم لوں گا جی سی یو کے جس پروفیسر نے طالبہ کو حراساں کیا اس کو چھپانے کی بجائے اس لئے بے نقاب کیا تاکہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے اس تاثر کو ختم کرنا میرا مشن ہے کہ اب یہاں بچوں کو پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں تیس سال پہلے والا ادارہ بنا کر دم لوں گا افسوس کی بات ہے کہ وائس چانسلر کے لئے کوئی سرکاری گھر نہیں ہے جبکہ جی او آر میں بھی مجھے رہائش نہیں دی گئی جس کی وجہ سے مجھے جی سی یو کے ہی دو کمرے کے گیسٹ ہاؤس میں رہائش اختیار کرنا پڑی پانچ نکاتی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے ادارے کی ساکھ بھی بحال کروں گا اور سٹوڈنٹس کو بھی عالمی معیار کا بنا دوں گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پاکستان کو پینل انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔پروفیسر اصغر زیدی نے کہا کہ میں نے ادارے کی بہتری کے لئے اپنی پانچ ترجیحات بنائی ہیں جن میں ایجوکیشن‘ر یسرچ‘ انٹرنیشنلائزیشن‘ انفراسٹرکچر اور گورنینس شامل ہیں ان کے حصول کے لئے میں نے ایک وژنری نظام بھی وضع کیا ہے لیکن راستے میں کئی رکاوٹیں اور دباؤ حائل ہیں‘ میں ڈرنے والا نہیں باطل کے سامنے ڈٹا رہوں گا اور اپنے مشن کی تکمیل کو ایمان کی حد تک فرض اولین سمجھتا ہوں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹیچرز ٹریننگ‘ سکلڈ ٹریننگ‘ عالمی معیار کی ریسرچ جس کا سوسائٹی پر بھی کوئی اثر پڑے ہم نے تما م ریسرچر سے کہا ہے کہ وہ ایسی ریسرچ لائیں جس میں کمرشلائزیشن ہو ہم ہر طرح کی سہولت ریسرچ کرنے والے کودیں گے ایسا نہیں ہو کہ ہم سے چار سال پڑھنے کے بعد بھی جب ہمارا طالب علم کہیں جائیں تو اس کو پھر نئے سرے سے پڑھانا پڑے۔ ادارے کی بہتری اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے آپ پر کون کون سے اندرونی و بیرونی دباؤ ہے کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے جان سے مارنے تک کی دھمکیاں مل رہی ہیں‘ سینڈیکٹ کے ایک ممبر نے میرے خلاف باقاعدہ مہم شروع کررکھی ہے وہ وائس چانسلر بننا چاہتے تھے اور ناکامی پر اپنے ایک شاگرد جو کہ ایک نجی مقامی چینل میں ملازم ہے کے ذریعے پرو پیگنڈ ہ کررہا ہے اس شاگرد کو ایم فل کے ایک پیپر میں فیل ہونے کے باوجود کوالیفائی کروایا گیا‘ اسی طرح رجسٹرار نے کروڑوں کی کرپشن کی میں نے اسے بھی فارغ کیا ایک ہاسٹل سپرٹنڈنٹ نے ایک کروڑ سے اپنی رہائش تعمیر کروائی اورجعلی بل پیش کرکے خزانے کو نقصان پہنچایا میں نے اس کی بھی انکوائری کرواکر کرپشن ثابت ہونے پر اسے معطل کیا تو مریدکے سے ایک ایم پی اے جو جی سی یو کے سینڈیکٹ ممبر بھی ہیں نے گورنر وزیر اعلی سمیت سینڈیکٹ میٹنگ میں بھی مجھے مطعون کیا‘ میں ہر سطح پر مطمن کرتا رہا گورنر وزیر اعلی نے بھی میرا موقف درست تسلیم کیا اور ہاسٹل سپرٹنڈنٹ تمام تر دباؤ کے باوجود آج تک بحال نہیں ہو سکا۔ایک پروفیسر کے پاس آٹھ بڑے عہدے تھے وہ تھانے دار بنا بیٹھا تھا میں نے اس سے بھی جان چھڑوائی۔ان معاملات کے باوجود میں اپناکام جاری رکھے ہوئے ہوں اور جی سی یو کی سابقہ روایات بحال کرکے اسے دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں شمار کرواؤں گا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ایسا نظام لانا چاہتے ہیں  جس میں تیس سال پہلے کی طرح وائس چانسلر کو موٹی موٹی فائلوں کو نہ دیکھنا پڑے بلکہ بیرونی ممالک کی طرح سے ایک سسٹم میں یہ فائلیں ہوں اور ایک بٹن کے کلک پر آپ اس کی ہارڈ کاپی نکال کر دیکھ بھی سکیں اور اس پر دستخط بھی کر سکیں اسی طرح سے ہم آن لائن کلاسز فیس ٹو فیس کلاسز کا بھی اجراء کریں گے جبکہ شام کی کلاسز میں جو جنسی حراسگی کی خبریں آ رہی ہیں اس کی روک تھام کے لئے شام کی کلاسز میں بھی پروکیٹر لگاؤں گا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہوا پایا گیا تو پھر اس کے خلاف ایکشن لیا جا ئے گا جس سے سب کو یہ سمجھ آ جائے گی کہ آئندہ ایسی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ جب فزکس کے ایک پروفیسر کی جانب سے ایک طالبہ کو حراساں کرنے کاایشو سامنے آیا تو اس کو کچھ سٹوڈنٹس نے سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے کی کوشش کی مگر میں نے ان سے رابطہ کرکے کہا کہ مجھے اس پر ایکشن لینے دیں اگر آپ مطمن نہ ہوں تو پھر سوشل میڈیا کا استعمال کرلیں پھر سب نے دیکھا کہ میں نے اس ایشو پر کمیٹی بنائی اس پروفیسر کو بھی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا اور طالبہ کو بھی۔ چاہتا تواس واقعہ کو چھپا سکتا تھا مگر میں نے اس لئے اس کو بے نقاب کیا کہ آئندہ ایسا واقعہ نہ ہو۔انہوں نے اعتراف کیا کہ پرائیوٹ سیکٹر کی یونیورسٹیاں ریسورسز کے معاملے پر ان سے آگے ہیں کیونکہ وہ ہم سے زیادہ تنخواہیں ادا کرتے ہیں  ہم جس کو ڈیڑھ لاکھ ادا کرتے ہیں وہ ان کو چار لاکھ ادا کرتے ہیں ہمارے پاس ریسورسز کی شدید کمی ہیں اگر ہمیں بھی ریسورسز دئیے جائیں تو ہم بھی عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں شامل ہو سکتے ہیں اس کے لئے سب سے اہم بات ہی ریسورسز ہیں جس کی طرف کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ اب وائس چانسلرز کی تعیناتی حقیقی معنوں میں میرٹ پر ہو رہی ہے جس کا کریڈٹ گورنر پنجاب کو جاتا ہے انہوں نے میرٹ کو یقینی بنایا ہے جس کے اب رزلٹ بھی آنا شروع ہو گئے ہیں   

 ڈاکٹر اصغر زیدی

مزید :

صفحہ اول -