کتابیں پڑنے والے ہیں کامیاب ہوتے ہیں: گورنر پنجاب، کسی سیاسی ورکر کو میرے جیسی عزت نہیں ملی: شیخ رشید

      کتابیں پڑنے والے ہیں کامیاب ہوتے ہیں: گورنر پنجاب، کسی سیاسی ورکر کو ...

  

 لاہور (سٹاف رپورٹر)گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا ہے کہ شیخ رشید تنقید بھی کرتے ہیں اور تعلقات بھی قائم رکھتے ہیں جو ایک آرٹ ہے،ان کی بہت سی پیشین گوئیاں فوری ٹھیک ثابت ہو جاتی ہیں کچھ میں وقت لگتا ہے،14 وزارتیں کیں  کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وزارت میں کوئی برا نشان چھوڑا ہو،شیخ رشید نے نواز شریف سے جپھیاں ڈالیں، مشرف کے پسندیدہ رہے، عمران خان کو گرویدہ بنایا،شیخ رشید شا ئستگی اور طنز کیساتھ اختلاف رائے بیان کرتے ہیں وہ غیب کی خبریں بھی  دیتے ہیں،شیخ رشید آنے والے خطرے کو بھانپ لیتے ہیں۔یہ بات انہوں نے وزیر ریلوے شیخ رشید کی کتاب ”لال حویلی سے اقوام  متحدہ تک“ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا کہ میں نے چھ سالوں میں بہت سی کتابوں کی تقاریب رونمائی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی مگر اتنے زیادہ افراد کی شرکت پہلے میں نے پاکستان تو کیا ں پوری دنیا میں نہیں دیکھی،انہو ں نے کہا شیخ رشید جب پیشین گوئیاں کرتے ہیں تو واقعی ان میں کچھ نہ کچھ ہوتا ہے،بہت سی پیشین گوئیاں فوری ٹھیک ثابت ہو جاتی ہیں کچھ میں وقت لگتا ہے، میرا شیخ رشید سے 30، 40 سال پرانا تعلق ہے، شیخ رشید نے 30 سال قبل میری پاکستان کی سیاست میں آنے کی پیش گوئی تھی اور میں نے اس وقت کہا تھا میں کبھی بھی پاکستان کی سیا ست میں حصہ نہیں لونگا مگر بعد ازاں اب یہ پیش گوئی درست ثابت ہو گئی۔ شیخ رشید نے اس کتاب میں شادی نہ کرنے کی وجہ نہی بتائی شائد وہ انپی اگلی کتاب میں شادی نہ کرنے کی وجہ بتا دیں۔ دنیا میں کتاب  پڑھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے مگر دنیا میں وہی کامیاب ہوئے ہیں جو کتابوں کو پڑھتے ہیں، میں پنجاب کی تمام یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں یہ کتاب رکھوانے کی کوشش کروں گا،چاہئے مجھے یہ کتاب اپنے پاس سے خرید کر ہی کیوں نہ دینی پڑے،۔قبل ازیں شیخ رشید نے خطاب کرتے ہوئے کہا جو بچپن میں میری والدہ کہتی تھیں کہ کوئی قوت اس کیساتھ ہے،میں آج یہ محسوس کرتا ہوں کہ کوئی سایہ میرے ساتھ ہے جوکسی نہ کسی شکل میں میں پیش گوئیو ں کرتا ہوں بعض اوقات لوگ مذاق بھی اڑاتے ہیں تاہم چالیس پچاس سال قبل میں نے چودھری سرور کو کہا تھا میں آپ کو پاکستان کی سیاست میں آتا دیکھ رہا ہوں مگر انہوں نے انکار کر دیا تھا کہ وہ کبھی بھی ایسا نہیں کریں گے مگر اب میں ان کو یاد کراتا ہو ں کہ میں یہ پیش گوئی کر چکا ہوں۔ انسان اگر یہ فیصلہ کرے کو  اس نے کچھ بننا اور کچھ کرنا ہے خدا تب ہی مدد کرتا ہے جب وہ محنت کرتا ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کپاس لگائیں اور گنا پیدا یو جائے جو آپ بیج بوئیں گے و ہی آگے گا اللہ اس میں صرف برکت ڈالے گا میں پاکستان کے ان نوجوانوں کیلئے مثال ہوں میر ی پاکستان میں آج کوئی مثال نہیں میں سارے پاکستان کے سیاستدانوں کو سامنے رکھ کر کہتا ہو ں کوئی میر ی طرح کا سیاسی ورکر نہیں جس کو اللہ نے اتنی عزت سے نوازا ہو،چار لوگوں نے خانہ کعبہ کی چھت پہ نماز پڑھی جن میں بھی شامل ہوں،14 وزارتیں کیں، کوئی آدمی یہ نہیں کہ سکتا وزارت میں وہ نشان چھوڑا ہو جس سے نیب زندہ ہو،پاکستان تو کیا پوری دنیا میں بھی ایسا کوئی سیاستدان نہیں جو اس طرح داغ دھبے سے پاک رہا ہو۔ چاہتا ہو ں کہ لوگ میری کتاب خرید کر پڑھیں۔میں آپ سب لوگوں کو یہ بات کہتا ہوں پاکستان عمران خان کی قیادت میں ترقی کرے گا،، ہم نے مارشل لا دیکھے،پاک فوج اس ملک کی ایک حقیقت ہے پاک فوج دنیا کی ان عظیم فوجوں میں ہے جو سیلاب ہو، ٹڈی دل ہو کورونا ہو،جنگ یا امن ہو اس نے ایک تنظیم کی صورت میں کھڑے ہو کر کام کیا۔ سینئرصحافی اور تجزیہ نگا ر مجیب الرحمن شامی نے کہا شیخ رشید کی سیاست ایوب خان کے زمانے سے شروع ہوئی جو میری صحافت کا ابتدائی دور تھا،ستر کی دہائی میں شیخ رشید دل میں بیٹھے جو آج تک نہیں نکلے،شیخ رشید کوئی چاندی کا چمچ منہ میں لیکر پیدا نہیں ہوئے، عام سے گھرانے سے تعلق تھا، زمانہ طالب علمی میں ہی شیخ رشید نے اپنے آپ کو متعارف کروانا شروع کر دیا تھا۔ انہو ں ے کہاذوالفقار علی بھٹو کو انہوں نے زچ کیا، ضیاالحق کو بھی کھٹکتے رہے،نواز شریف سے جپھیاں ڈالیں، مشرف کے پسند یدہ رہے، عمران خان کو گرویدہ بنایا،شیخ رشید راولپنڈی کی اسی لال حویلی میں مقیم ہیں جہاں بچپن اور لڑکپن اور جوانی گزری،شیخ رشید جلسوں کو لوٹتے اور ٹی وی سکرین پر چھائے رہے،شیخ رشید کی آنکھوں نے بہت کچھ ایسا دیکھا جو کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے،شیخ رشید بے دھڑک اپنی بات کہتے ہیں،شیخ رشید کو دوستی بھی نبھانا آتی ہے اور دشمنی بھی۔معروف صحافی عارف نظامی نے کہا شیخ رشید سے میرا تعلق تیس سال پرانا ہے،شیخ رشید کے لال حویلی کے ساتھ ناطہ کبھی نہ چھوڑا، وہی انکا اوڑھنا بچھونا ہے۔شیخ  رشید سیاست میں استقامت سے قائم رہے اور کامیاب بھی ہوئے۔ صوبائی وزیر میاں محمود الرشید نے کہا کہ شیخ رشید سے ذہنی و قلبی تعلق پچاس سال پر محیط ہے،ان کا انداز خطابت اور شعلہ بیانی نوجوان طالب علموں کیلئے رول ماڈل تھا،شیخ رشید ایک چلتا پھرتا پاکستان ہے۔ معروف صحافی سلیم بخاری نے کہا لال حویلی جانے کیلئے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں عام آدمی جا سکتاہے،نچلی سطح سے اس مقام تک آنے والا واحد سیاستدان شیخ رشید احمد ہے۔ شیخ رشید کا ماتحت بھی رہا ہوں۔معروف صحافی سلمان غنی نے کہا شیخ رشید کی سیاست جدوجہد ست بھرپور ہے،شیخ رشید مختلف ادوار میں وزیر بنے مگر کبھی اپنی کلاس تبدیل نہیں کی، پارلیمان اور پارلیمان سے باہر عوام کی آواز بنے ہوئے ہیں۔صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہمارا اور ہمارے خاندان کا شیخ رشید سے تعلق نصف صدی پر محیط ہے، وہ آنیوالے خطرے کو بھانپ لیتے ہیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹرشہباز گل نے کہا شیخ رشید کو پرکھنے کیلئے انکے مختلف سیاسی ادوار کو پرکھنا ہو گا،سینیٹر ولید اقبال نے کہا شیخ رشید احمد کی لوگ بلائیں لیتے ہیں اور بلائیں دیتے بھی ہیں،تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب رونمائی

مزید :

صفحہ اول -