کراچی پیکیج میں صنعتی علاقوں کے انفرا اسٹرکچر کے لیے کسی خصوصی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا

    کراچی پیکیج میں صنعتی علاقوں کے انفرا اسٹرکچر کے لیے کسی خصوصی اسکیم کا ...

  

 کراچی(اکنامک رپورٹر)وزیراعظم عمران خان کی گزشتہ روز کراچی کے دورے کے موقع پر تاجر و صنعت کاروں سے ملاقات میں شہر کے لیے مختص کردہ 1100ارب روپے کے پیکیج میں صنعتی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا البتہ صنعتکاروں کو گیس انفرااسٹرکچر سیس(جی آئی ڈی سی)کے حوالے سے کوئی نہ کوئی حل نکالنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔وزیراعظم کے ساتھ کراچی ٹاؤن انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے سربراہان، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر سمیت مختلف شعبوں کے صنعتکاروں نے ملاقات کی۔ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ملاقات میں شامل ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر عابد عبداللہ نے بتایاکہ ملاقات لاحاصل رہی کیونکہ شہر کے صنعتی علاقوں کے خستہ حال انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے وزیراعظم نے کوئی اعلان نہیں کیا۔ البتہ کراچی پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کی غرض سے ایس بی سی اے کو کے بی سی اے میں تبدیل کرکے اصلاحات لانے سمیت بعض دیگر وعدے کیے گئے ہیں جن کے پورا ہونے تک ہم اب منتظر رہیں گے۔کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر آغاشہاب خان نے بتایاکہ وزیراعظم نے کراچی کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کیلیے2کمیٹیاں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کمیٹیوں میں شہرکی بزنس کمیونٹی تجارتی ایوانوں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کا عندیہ دیاہے۔دوران اجلاس وزیراعظم کو بتایاگیا کہ کراچی کے صنعتکار اپنی صنعتوں میں پیداواری عمل پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے انفرااسٹرکچرل مسائل کے حل کیلئے ہی تگ ودو میں رہتے ہیں۔صنعتوں کو پانی بجلی گیس کی بلارکاوٹ فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں شریک سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیمان چاؤلہ نے دعوی کیاکہ وزیراعظم نے ترقیاتی پیکیج سے شہر کے صنعتی علاقوں کے لیے 6 ارب روپے مختص کریں گے کیوں کہ یہ بات انہیں گورنرسندھ نے بتائی ہے۔کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ انڈسٹریز(کاٹی)کے صدر شیخ عمر ریحان نے بتایا کہ وزیر اعظم سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ سب مل کر ایک پیج پر ہیں کراچی کے مسائل حل ہوئے تو ملک بھی ترقی کرے گا۔ تمام اسٹیک ہولڈز ایک ہی پلیٹ فارم ہر ہیں جو خوش آئند ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -