میری ٹائم اسٹیڈی فورم کی جانب سے ویبینار کا انعقاد 

 میری ٹائم اسٹیڈی فورم کی جانب سے ویبینار کا انعقاد 

  

کراچی (پ ر) میریٹائم اسٹڈی فورم نے "پاکستان کے ساحلی سیاحتی صنعت کو کیسے فعال بنایا جائے؟" کے عنوان پرایک ویبینار کا انعقاد کیا۔ مہمانوں اور شرکاء  میں اکیڈیمیا، میڈیا کی شخصیات، اور پالیسی ساز شامل تھے۔ ویبینار  پاکستان کی ساحلی سیاحتی صنعت پر توجہ مرکوز کرنے اور اس کے مسائل کو پائیدار پالیسی امکانات کے ذریعے حل کرنے کی غرض سے تھا۔مقررین سے خطاب کرتے ہوئے میریٹائم اسٹڈی فورم کے صدر، ڈاکٹر سید محمد انور نے ملک میں میریٹائم آگاہی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ویبینار کا اختتام کیا۔ اس سے نہ صرف ساحلی ترقی اور سیاحت کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ یہ قومی معیشت میں مجموعی میریٹائم سیکٹر کی اہمیت کو اجاگر کرے گی۔ ویبینار مقررین اور سامعین کے مابین اس اتفاق رائے پر منتج ہوا کہ پاکستان میں ساحلی سیاحت کے بڑے شاندار مواقع موجود ہیں، جن سے استفادے کی راہیں ہموار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ائیر وائس مارشل ریٹائرڈ اعجاز ملک نے دیگر ملکوں کے ترقیاتی نمونوں سے فائدہ لینے پر زور دیا جو ممالک اس ممکنہ صنعت سے بھرپور فائدہ لے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے تجویز دی کہ متحدہ عرب امارات کی مثال پاکستان کو ایک شاندار سیاحتی صنعت کی تعمیر کے لئے مدد دے گی۔معروف اینکر نادیہ نقوی نے وضاحت کی کہ کس طرح پاکستان کی ساحلی سیاحت دہائیوں تک بے جان رہی ہے۔ ساحلی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے، ہمیں نہ صرف ساحلوں پر انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے، بلکہ ہمیں پائیدار ترقی کے اصولوں کو بھی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے جس سے ساحلی مساکن اور ماحول کا تحفظ یقینی ہو۔NIMA کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ نغمانہ ظفر نے ملک میں اداروں اور انجمنوں کے مابین میریٹائم ڈومین کے بارے میں آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ سمندر کے بارے میں ملک میں پھیلے اغماض کو دور کرنے کے لئے نہ صرف عوامی آگاہی کی ضرورت ہے، بلکی سرمایہ کاروں اور اداروں کو بھی اس سلسلے میں شعور دلانے کی ضرورت ہے۔النور کروز شپنگ کے سرپرست شعیب احمد نے علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے مقامی ساحلی کمیونیٹیز کو ترقی کے راستے فراہم کرنے پر زور دیا۔ ساحلی کمیونتیز کی مقامی ثقافت ملک کے اس حصے میں سیاحوں کی کشش کا سامان بن سکتی ہے۔ اس سے ساحل کے طول و عرض میں آبی ماحول کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ چنانچہ مقامی کمیونٹیز کو ترقی دینے اور با اختیاز بنانے سے ملک میں ساحلی سیاحت کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -