سندھ بے قابو، کٹاؤ سے متعددبستیاں، سکول، مساجد دریا برد 

سندھ بے قابو، کٹاؤ سے متعددبستیاں، سکول، مساجد دریا برد 

  

 ملتان + کوٹ ادو + ہیڈ پنجند + دائرہ دین پناہ + مظفر گڑھ + چوٹی زیریں + راجن پور + رحیم یار خان + ترنڈہ محمد پناہ + جام پور (تحصیل رپورٹر‘ نمائندگان پاکستان‘ بیورو رپورٹ‘ نامہ نگار‘ ڈسٹرکٹ رپورٹر‘ نمائندہ خصوصی) ضلع ملتان کی حدود میں دریائے چناب کے پانی کی سطح میں واضح کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور ہیڈ محمد والا کے مقام پرگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کے بہاو میں 40 ہزار کیوسک سے زائد کمی آئی ہے،ہیڈ محمد والا کے مقام پر 6 ستمبر دوپہر بارہ بجے پانی کا بہاو1 لاکھ60 ہزار کیوسک نوٹ کیا گیا،اس مقام پر پانی کی سطح میں اڑھائی فٹ تک کمی آئی ہے،ضلعی انتظامیہ کے افسران کی طرف سے سیلابی علاقوں کی مانیٹرنگ جاری ہے اور نقصانات کا تخمینہ روزانہ کی بنیاد پر لگایا جارہا ہے اور ریسکیو کی کارروائی بھی جارہی ہے۔ محکمہ انہار کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ شب دریائے چناب میں گزشتہ شب پانی کا اخراج ایک لاکھ 12ہزار 787کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جو مزید کم ہورہا ہے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں دریائے چناب میں پانی کی سطح معمول پر آنے کا امکان ہے۔تاہم دوسری جانب ملتان کی تحصیل صدرا ور سٹی کے سیلاب متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی اترنا شروع ہوگیاہے جبکہ تحصیل شجاعباد اور جلالپور پیروالا میں سیلابی پانی کا دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا ہے جس میں آج سے کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریلیف کا عمل جاری ہے اس ضمن میں گزشتہ روز فوکل پرسن برائے فلڈ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد طیب خان نے کہا ہے کہ ضلع ملتان کی حدود میں دریائے چناب کے پانی کی سطح میں واضح کمی آنا شروع ہو گئی ہے اور ہیڈ محمد والا کے مقام پرگزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کے بہاو میں 40 ہزار کیوسک سے زائد کمی آئی ہے،ہیڈ محمد والا کے مقام پر 6 ستمبر دوپہر بارہ بجے پانی کا بہاو1 لاکھ60 ہزار کیوسک نوٹ کیا گیا،اس مقام پر پانی کی سطح میں اڑھائی فٹ تک کمی آئی ہے،محمد طیب خان نے کہا کہ دریا کے بیڈ میں پانی پھیل جانے کی وجہ سے شیر شاہ کے مقام پر پانی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے،تمام متعلقہ ادارے دریائے چناب سے متاثرہ مواضعات میں موجود ہیں،ریسکیو1122 تحصیل سٹی اورصدر کے ایریا میں ریسکیو کی بجائے اب ٹرانسپورٹ کی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔علاوہ ازیں ضلع ملتان کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز گزشتہ روز اپنی تحصیلوں میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی مانیٹرنگ میں مصروف رہے۔دوسری جانب لائیو سٹاک اور ریسکیو1122 نے بھی گزشتہ24گھنٹوں کی کارکردگی کا ڈیٹا جاری کر دیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی عابدہ فرید نے دریائے چناب کے قریب واقع بستی ٹالہی والی کا دورہ کیا ہے،اس موقع پر انہیں بتایا گیا کہ ریونیو سروے رپورٹ کے مطابق کسی گھر کو نقصان نہیں پہنچا، اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے الخدمت فاونڈیشن کے تعاون سے ٹالہی والا میں راشن بھی تقسیم کیا۔اسی طرح اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد محمد زبیر نے بستی ماڑھا اور بگڑیں میں قائم ریلف سنٹرز کا وزٹ کیا،اسسٹنٹ کمشنر جلال پور پیروالاغلام سرور نے سیلاب سے متاثرہ شینی شمالی اور جنوبی کا معائنہ کیا۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹرکلیم اللہ کی۔طرف سے جاری کئے اعدادوشمار کے مطابق ریسکیو نے 24 گھنٹوں کے دوران185 لوگوں کو بوٹ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی۔ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک کے ڈیٹا کے مطابق محکمہ لائیو سٹاک نے ضلع کے سیلاب متاثرہ مواضعات میں 3196 جانوروں کی ویکسی نیشن کی۔ ادھر حکومت کی طرف سے متاثرہ سیلاب مویشیوں کیے لیے تمام سہولیات مفت مہیا کی جارہی ہیں۔ملتان ڈویثرن میں محکمہ لائیو سٹاک کی طرف سے چوبیس لائیو سٹاک فلڈ ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر لائیو سٹاک ملتان ڈاکٹر سبطین چھٹی نے تحصیل شجاعباد ملتان میں لگایے گئے محکمانہ فلڈ ریلیف کیمپ دوری کے بعد کیا انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں موجود جانوروں کی دیکھ بھال علاج معالجے کیلئے ملتان میں پانچ خانیوال میں تین موبائل وٹرینری ڈسپنسریاں جانوروں کیلئے خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ان موبائل ڈسپنسریوں میں تمام ادویات حفاظتی ٹیکہ جات اور مصنوعی تخم ریزی کی سہولیات میسر ہیں۔تحصیل ملتان میں قاسم بیلہ چناب چوک محمد پور گھوڑی تحصیل شجاعباد میں خان پور قاضیاں طاہر پور گردیز پور۔جلال پور پیر والا میں بیلی بنگلہ خان بیلہ اور بہادر پور کے مقام پر فلڈ ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔تحصیل میانچنوں۔کبیروالا۔جہانیاں۔ ودیگر ملتان ڈویثرن کے علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔ان کیپمس میں چھ ہزار بڑے جبکہ تیرہ ہزار چھوٹے جانوروں کو حفاظتی ٹیکہ جات لگائے گئے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر افضل چوہدری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جبکہ حالیہ بارشوں سے دریائے چناب میں شدید طغیانی ہے، سیلاب سے علی پور کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے، سیلابی ریلے سے عظمت پور، مڈ والہ، حمزیوالی، گگڑے والی، لتی، سیت پور، بیٹ چنہ، کند رالہ، کی درجنوں بستیوں میں پانی داخل ہوگیا ہے، ہیڈ پنجند کے مقامات پر 1 لاکھ 45ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جس سے تحصیل علی پور کے درجنوں مواضعات کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا ہے متاثرہ مواضعات میں بیٹ چنہ عظمت پور، سرکی، کندرالہ، لتی، مڈوالہ، گگڑے والی، حمزیوالی، اور دیگر مواضعات زیر آب آ گئے جن پر ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں اسسٹنٹ کمشنر علی پور مبین احسن، ڈی ایس پی خالد روف کی بر وقت کاروائی سے متاثرہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور سیلاب متاثریں کو راشن کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی اسسٹنٹ کمشنر مبین احسن نے کہا کہ فلڈ متاثرین کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کی طرف سے متاثرین کی بحالی کا کام جلد مکمل کر دیا جائے گا سابق ضلعی چیئرمین حافظ محمد عمر خان گوپانگ نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر مبین احسن نے بر وقت کاروائی کر کے ایک مثالی کام کیا ہے انشا ء اللہ فلڈ متاثرین کو کسی صورت تنہانہیں چھوڑا جائے گا ایم این اے عامر طلال گوپانگ کی طرف سے ہر ممکن امداد جاری رکھی جائے گی۔ دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پربدستوردرمیانے درجے کا سیلاب ہے‘ 4لاکھ70ہزار کیوسک کاسیلابی ریلا گذر رہا ہے،بارشیں ہونے سے تونسہ بیراج کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے، پانی کی سطح بلند ہونے سے دریائی کٹاو شدت اختیار کرگیا، تونسہ بیراج کی ڈاون سٹریم پر کٹاو جاری ہے، متعدد بستیاں فصلیں سکول مساجد دریا برد ہوگئیں، مزید سینکڑوں بستیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دریائے سندھ کا پانی گھروں کے قریب پہنچ گیا،متاثرین نے دریائی بندوں پر ڈیرے ڈال لئے، ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پربدستوردرمیانے درجے کا سیلاب ہے

، تونسہ بیراج سے4لاکھ  70ہزار کیوسک کاسیلابی ریلا گذر رہا ہے،ملک بھر میں ہونے والی بارشوں کے باعث دریائے سند ھ میں پانی میں مزید اضافے کا امکان ہے، دوسری طرف سیلابی ریلے کے باعث گزشتہ کئی روز سے دائرہ د ین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر عباس والا بند کی مسلسل کڑی نگرانی کی جارہی ہے،محکمہ انہار کی موبائل ٹیمیں عباس والا بند کے علاوہ دیگر حفاظتی بندوں اور پشتوں پر دن رات گشت کر رہی ہے،دوسری جانب دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو رہاہے جو کہ خوش آئندہے،چشمہ بیراج پر 4لاکھ 50ہزار کیوسک، کالا باغ پر 4لاکھ  پانی کی آمد ہے، جبکہ تونسہ بیراج  سے گڈو بیراج  تک پانی کی سطح بلند ہورہی ہے،ہیڈ پنجند پر 1لاکھ 50ہزار کیوسک  پانی کا اخراج، گڈو بیراج  پر 4لاکھ  70ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ہے،تونسہ بیراج کے بیٹ کے کچے کے علاقوں سمیت دائرہ دین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے،مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کردی،انتظامیہ کی طرف سے کوئی حفاظتی تدابیر نہیں کی گئی، تونسہ بیراج کے بیٹ کے کچے کے علاقوں نشان والا،خادم والی،لومڑ والا،فقیر والی سمیت دائرہ د ین پناہ، احسانپور، پہاڑ پور کے بیٹ کے علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے جہاں کے متاثرین نے دریا کے کناروں پر ڈیرے ڈال لئے ہیں،دوسری طرف دریائے سندھ تونسہ بیراج کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہونے سے دریائی کٹاو شدت اختیار کرگیا، تونسہ بیراج کی ڈاون سٹریم پر کٹاو جاری، متعدد بستیاں فصلیں سکول مساجد دریا برد، مزید سینکڑوں بستیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دریائے سندھ کا پانی گھروں کے قریب پہنچ گیا،موضع پرہاڑ غربی، موضع بھبھڑ والا، موضع لون والا میں دریائے سندھ کے پانی نے تباہی مچادی ہے جہاں دریائی کٹاؤ شدت اختیار کرگیا ہے، 2010 سے اب تک سینکڑوں بستیاں مکمل طور پر ختم ہوگئی ہیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں دریا برد ہوچکی ہیں اور مال مویشیوں کیلئے چارہ بھی نا پید ہو گیا ہے،3 کلومیٹر کے ایریا میں دریائی کٹاو تا حال جاری ہے،متعدد بستیوں کے گھر فصلیں سکول اور مساجد دریا برد ہوگئی،دریائی پانی رہائشی گھروں کے قریب پہنچ چکا ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں،متاثرین کا کہنا تھا حکومت پنجاب ایمرجنسی طور پر کٹاو کو روکنے کیلئے اقدامات کرے ورنہ دریائی پانی مزید سینکڑوں بستیاں اور فصلیں نگل جائے گا، ہزاروں متاثرین کھلے آسمان تلے حکومت پنجاب کی امداد کے منتظر ہیں، متاثرین نے حکومت پنجاب سے فوری طور پر بستیوں کے کٹاؤ کو روکنے کیلئے سپر بند کا مطالبہ کیا ہے۔ دریائے سندھ میں تونسہ بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور نشیبی علاقے بیٹ محمد والا، بیٹ لومڑ والا، بیٹ نشان والا، بیٹ چھجڑے والا، بیٹ خادم والا، بیٹ بھیڈیں والا  پانی میں ڈوب گئے اور ان علاقہ جات کے لوگ پانی میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں حکومت نے ان علاقہ کے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے مگر لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر تیا رنہیں۔ ادھربیٹ بھیڈیں والی کے موضع ہنجرائی غربی میں رحیم بخش سانگھڑی کی 6 سالہ بیٹی سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی ہے۔ تاہم اس کی لاش کو پانی سے نکال لیا گیا ہے۔ اے سی کوٹ چھٹہ اسد خان چانڈیہ نے فلڈریلف کمپپ  جھوک اترا کا دورہ کیا انہوں نے کہا کہ فلڈ سے متاثر غریب عوام کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں ان متاثرین کی ہر حوالے سے امداد جاری رہے گی  اور اس مشکل کی گھڑی میں ان کی خدمات کرنا اولین فریضہ ہے۔ دریائے سندھ اور چناب میں طغیانی کٹاؤ سے زمینداروں کے بنائے ہوئے بند کے قریب اچانک 150فٹ چوڑا شگاف پڑ جانے سے بند ٹوٹ گیا اور سیلابی پانی نزدیکی آبادیوں بھیٹ اللہ وسایا، بیٹ سوئی، ٹبی جھلن، بیٹ مراد، بخشو بھتڑ، بیٹ بھتڑ، بیٹ ہیر، بیٹ بھٹو، بیٹ بلوچ، بیٹ حیات ماچھی، بیٹ چوہان، بیٹ پرار، بیٹ احمد علی لاڑ، بیٹ دیوان، جھوک گلاب، موضع بانہ رویہ میں پانی داخل ہوگیا، سیلابی ریلے سے کھڑی فصلیں، کچے مکان کو بری طرح نقصان پہنچا، متاثر ہونے والی آبادیون کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کردی تاہم شگاف کو پر کرنے کیلئے امدادی سرگرمیاں شروع نہ کی جاسکیں۔ صوبائی وزیرانہار پنجاب سردار محسن خان لغاری نے چیف انجینئر انہارڈیرہ غازی خان ڈویژن راشد منصور،ڈپٹی کمشنرذوالفقارعلی اورانہار آفیسران حسن مرتجز،چوہدری فیصل مشتاق کے ہمراہ دریائے سندھ کے مقام موضع ہیرو اور برخوردارپورہ کا دورہ کیا، صوبائی وزیر نے رودکوہیوں کی گذر گاہوں کا بھی دورہ کیا، صوبائی وزیر نے انتظا می آفیسران کوہدایت کی کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت ہرصورت یقینی بنائی جائے کمزور فلڈ بندوں کومضبوط اور ان کی مسلسل نگرا نی کی جائے اُن کا کہنا تھا کہ حکو مت پنجاب سیلاب کی صورت حال پر مکمل نگاہ رکھے ہوئے ہے اس موقع پرچیف انجینئر انہار نے بریفنگ دی کہ 20 کلو میٹر طویل حفاظتی بند کی تعمیر 16 کروڑ روپے کی خطیررقم سے کی جارہی ہے اس سے مقامی آبادیاں محفوظ ہوجائیں گی ڈپٹی کمشنر ذوالفقار علی نے صوبائی وزیر انہار پنجاب کو بریف کیا کہ ضلعی انتظا میہ کسی بھی ممکنہ خراب صورت حال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پرالرٹ ہے ضلعی دفتر ڈپٹی کمشنر میں کنٹرو ل روم قائم کردیا گیا ہے فصلات کاعنقریب سروے کراکر رپورٹ حکو مت پنجاب کو بھجوادی جائیگی اس موقع پرسابق وائس چیئر مین ضلع کونسل مرزا شہزاد ہمایوں،اسسٹنٹ کمشنر جام پور طلحہ سعید، ایس ڈی اوانہا ر مجاہد چانڈیہ سمیت انہار آفیسران موجود تھے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر لیاقت پور ارشد وٹو نے دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث بیٹ میں واقع متاثرہ مواضعات بانہ رویہ، ٹبی چوہان سمیت دیگر کا دورہ کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر ارشد وٹو نے کہا کہ دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث دریائی بیٹ میں واقع مواضعات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں تاہم پانی متاثرہ مواضعات میں موجود آبادیوں میں داخل نہیں ہوا اور نہ ہی مقامی لوگ نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں۔

سیلاب

مزید :

صفحہ اول -