وفاقی حکومت صرف کراچی کو نہیں بلکہ پورے سندھ کو ایک نظر سے دیکھے، ایم این اے نفیسہ شاہ

وفاقی حکومت صرف کراچی کو نہیں بلکہ پورے سندھ کو ایک نظر سے دیکھے، ایم این اے ...
وفاقی حکومت صرف کراچی کو نہیں بلکہ پورے سندھ کو ایک نظر سے دیکھے، ایم این اے نفیسہ شاہ

  

عمرکو ٹ (سید ریحان شبیر  )  صوبے سندھ میں حالیہ بارشوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبائی وزیر ، ایم این اے، ایم پی اے اور پارٹی کے عہداران اس مشکل کے وقت میں شانہ بشانہ لوگوں کو سہولیات دینے میں اپنا بھرپور کردارادا کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت صرف کراچی کو نہیں بلکہ پورے سندھ کو ایک نظر سے دیکھے ۔ ان خیالات کا اظہار میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی پی پارلیمنٹ سینٹرل انفارمیشن سیکرٹری و ایم این اے نفیسہ شاہ نے ٹینٹ سٹی رتنور روڑ عمرکوٹ کے سیلاب متاثرین کا دورہ کے موقع پر کیا ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایات پر تمام ایم پی اے ، ایم این اے اور عہدیداران بارش سے متاثر ہونے والے اضلاع کا ہنگامی بنیادوں پر دورہ کر رہے ہیں اور انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کی ہر ممکن مدد اور کھانے پینے کی اشیاء، صاف پانی ، مچھر دانیاں ، ٹینٹ اور ادویات کی فراہمی کو ترجیحاتی بنیادوں پر یقینی بنائیں ، انہوں نے کہا بارش کی تباہ کاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی ، بدین ، سانگھڑ اور عمرکوٹ تک روڑ کے دونوں اطراف پانی ہی پانی ہے اور حکومت نے آفت زدہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی ہے کہ سروے کر کے نقصان کا تخمنہ لگا کر رپورٹ وزیر اعلی سندھ کو جلد سے جلد ارسال کریں ۔

انہوں نے کہا حکومت سندھ بارش کے متاثرہ لوگوں کی ہر ممکن مدد کررہی ہے ، انہوں نے کہا 2011 کی تباہ کاریوں کے بعداس سے کئی بڑا نقصان 2020 کی بارشوں سے ہوا ہے ، انہوں نے کہا سندھ میں سیلاب کے پانی نے تباہی مچائی جس کے لیے ایل بی او ڈی اور ایری گیشن سسٹم کی ری ماڈلنگ کی اشد ضرورت ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کے لیے 11 سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں حکومت سندھ نے پہلے ہی 800 ارب روپے کے فنڈز کراچی کے لیے مختص کئے تھے، انہوں نے کہا اچھا یہ ہوتا کہ وزیر اعظم عمران خان سندھ کو بھی اہمیت دیتے اور لاکھوں کی تعداد میں متاثر ہونے والے لوگوں کے پاس خود آتے اور پورے ملک کے وزیر اعظم بن کر سیلاب سے متاثر علاقوں کے متاثرین کے لیے خصوصی ریلیف کا اعلان کرتے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے شانا بشانہ ہوتے ۔

اس موقع پر سینیٹر عاجز دھامرا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا اس مشکل کے وقت صوبائی وزیر مرحوم سید علی مردان شاہ کی کمی بے پناہ محسوس ہو رہی ہے جب بھی کبھی ضلع پر مشکل وقت آیا وہ لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے تھے اور مشکل حالات میں آپ لوگوں کی ہر ممکن ہمیشہ مدد کی، انہوں نے کہا وفاقی حکومت نے صوبے سندھ کو 162 ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا مگر اس اعلان پر کچھ بھی نہیں ہوا ، انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر سخت تنقید کی ، انہوں نے کہا اس مشکل حالات میں عوام کے ساتھ نہیں اور انہوں نے اس حلقہ سے ہمیشہ عوام سے ووٹ لئے لیکن سیلاب متاثرین لوگوں کی کوئی بھی مدد نہیں کی۔

اس موقع پر صحافیوں کی جانب سے کئے جانے والے سوال کیا گیا کہ وفاق سندھ کو پیسے دینے کے لیے تیار ہے مگر یہ پیسے اومنی گروپ میں چلے جاتے ہیں جس کے جواب ایم این اے نفیسہ شاہ نے دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہیں اور کچھ چیزیں سیاست سے بالاترہوتی ہیں اور وفاق خود سیلاب متاثرین لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے عملی کام کرئے کیونکہ لوگوں کی ملکیت تباہ ہو چکی ہے اور کافی خاندان متاثر ہوئے ہیں ، ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حوالے سے کئے گئے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے ساتھ غداری ہے کیونکہ ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناح، محترمہ فاطمہ جناح اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے لیے پالیمانی نظام کی کمٹمنٹ عوام کے ساتھ کی تھی کیونکہ صدارتی نظام وہ لوگ چاہتے ہیں جو ملک کے سرمائے پر ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں ، بعدا زاں ایم این اے نفیسہ شاہ اور دیگر رہنماءوں کے سیلاب متاثرین لوگوں کو کھانا تقسیم کیا ، اور ان سے ہونے والے نقصانات کے متعلق معلومات لی ۔

پریس کانفرنس میں آپ کے ہمراہ صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ،ایم این اے مہیش ملانی ،ایم پی اے خیرالنساء مغل، سابقہ ضلع کونسل چیرمین ڈاکٹر سید نور علی شاہ، ، پی ایم 52 کے نامزد امیداور سید امیر علی شاہ اور ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ ندیم الرحمن میمن موجود تھے۔

مزید :

علاقائی -سندھ -عمرکوٹ -