دنیا کی معیشت کے لئے اچھی خبر

دنیا کی معیشت کے لئے اچھی خبر
دنیا کی معیشت کے لئے اچھی خبر

  

چین کے بین الاقوامی تجارتی میلے کا آغاز سن 2012 میں ہوا تھا۔ اس وقت اس کا نام "بیجنگ فئیر" تھا۔ سن دوہزار انیس میں اس کا نام تبدیل کرکے "چائنا انٹرنیشنل فئیر فار ٹریڈ ان سروسز" رکھ دیا گیا۔ یہ محض نام کی تبدیلی نہ تھی بلکہ اس سے اس میلے کی افادیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔ موجود   میلے نے اس  بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وبا عالمی معیشت کے پہیے کو گردش سے روکے ہوئے ہیں۔ اس میلے کے کامیاب انعقاد نے دنیا کو امید کی ایک نئی کرن دی ہے۔ یہ اس وقت دنیا میں پہلا ایسا بین الاقوامی تجارتی میلہ ہے جو نہایت متنوع  ہےاور وسیع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میلے نے ڈیجیٹل اور ورچوئل معیشت  کے حوالے سے بھی سے سنگ میل عبور کئے ہیں۔

عالمی معیشت اس وقت شدید کساد بازاری کا شکار ہے۔ دنیا بھر میں کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔ اس صورت حال میں چین کی جانب سے منعقد کیا جانے والا خدمات کا بین الاقوامی تجارتی میلہ امید کی ایک کرن بن چکا ہے۔ وبا کی وجہ سے متاثر ہونے والے شعبوں میں خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ مجھے اس میلے کے دوران مختلف کاروباری حضرات سے گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ یہ تمام حضرات اس بات پر متفق تھے کہ اس میلے میں دنیا بھر سے لاکھوں افراد نے آن لائن اور آف لائن شرکت کی۔ جس سے سروسز انڈسٹریز کے مردہ گھوڑے میں جان پھونک دی گئی ہے۔

بیجنگ نے ہزاروں کاروباری اداروں کو مسابقتی اور محفوظ ماحول میں اپنی مصنوعات متعارف کروانے کا جو نادر موقع فراہم کیا ہے وہ بہت خوش آئند ہے۔ جب یہ میلہ مکمل ہو رہا ہوگا تو مزید حوصلہ افزا اعداد وشمار سامنے آئیں گے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چین نے ایک مرتبہ پھر اس میلے کے کامیاب انعقاد سے اپنے آپ کو دنیا کی معاشی ترقی کی گاڑی کا انجن ثابت کر دیا ہے۔

اس میلے کے انعقاد سے چین نے اپنے کھلے پن کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کی تعمیر ، بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے ذمہ دارانہ رویے کا بھی اظہار کیا گیا ہے ۔بے شک چینی صدر کا خطاب عالمی ترقی کیلئے اعتماد اور قوت محرکہ فراہم کرے گا۔

اندازے کے مطابق موجودہ دور میں عالمی معیشت میں ساٹھ فیصد سے زائد پیداوار خدماتی صنعت کی ہے ۔سروسز اندسٹری کے کھلے پن اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے چینی صدر شی جن پھنگ نے تین تجاویز پیش کیں ۔ اول ، مشترکہ طور پر باہمی تعاون کے لئے ایک کھلا اور اشتراکی ماحول تشکیل دیا جائے۔ دوم ، مشترکہ طور پر جدت کے ذریعے فعال تعاون کو فروغ دیا جائے۔ سوم ، مشترکہ طور پر باہمی سودمند اور جیت -جیت تعاون کا ماحول تخلیق کیا جائے۔

چین کی سروس انڈسٹری میں بیجنگ کے ایک بہتر رہنما کردار کی وجہ سے چینی حکومت بیجنگ میں سروسز انڈسٹری پائلٹ زون کے قیام کی حمایت کرےگی ،سائنسی جدت کاری ، خدماتی صنعت کے کھلے پن ،ڈیجیٹل معیشت پرمبنی آزاد تجارتی آزمائشی زون قائم کیے جائیں گے۔مذکورہ اقدامات اصلاحات و کھلے پن کے نئے ڈھانچے کی تشکیل، تجارتی ڈھانچے کی مسلسل بہتری کے لیے سودمند ثابت ہونگے جو چینی و عالمی معیشت کو طاقتور سہارا فراہم کریں گے۔

عالمی معیشت اگر کھلی ہو ، تو ترقی کرے گی ۔اگر بند ہو ، تو زوال پذیر ہوگی۔یہ انسانی سماج کا ترقیاتی اصول ہے۔اس اصول کا احترام کرتے ہوئے چین گوانگ دونگ تجارتی میلے ،انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو اور ٹریڈ ان سروسز سمٹ سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کو فروغ دینے کی کوشش کررہا ہے اور دنیا کی مشترکہ ترقی اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنے وعدے کو پورا کر رہا ہے۔

نو ستمبر تک جاری رہنے والے اس میلے کا موضوع "عالمی خدمات سے مشترکہ خوشحالی کا حصول " ہے۔ کووڈ-19 کے تناظر میں دگرگوں عالمی معیشت کے لئے بیجنگ میں خدمات کے بین الاقوامی تجارتی میلے کا انعقاد تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگا۔ جنیوا میں موجود عالمی بزنس کونسل برائے پائیدار ترقی کے چیئرمین اور سی ای او پیٹر پارکر نے حال ہی میں کہا کہ چین میں خدمات کے بین الاقوامی تجارتی میلے کا انعقاد ایک نازک موڑ پر کیا جا رہا ہے جس سے عالمی تجارت کو فروغ ملے گا۔پیٹر بارکر نے کہا کہ وبائی صورتحال کے تناظر میں ، دنیا کی اس تجارتی میلے سے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔ اس سرگرمی کے انعقاد سے لوگوں کا اقتصادی بحالی پر اعتماد بڑھ سکتا ہے۔ 

میلے میں 17000 سے زائد کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔  اس دوران  2000 سے زائد آف لائن اور 4000 سے زائد آن لائن نمائش کنندگان شریک ہوں گے۔ میلے میں عالمی خدمات تجارتی سمٹ ، صنعتی کانفرنسز اور پیشہ ورانہ فورمز سمیت دیگر سات اقسام کی سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔ سروسز ٹریڈ میلے میں 190 فورمز اور مذاکراتی سرگرمیاں منعقد ہوں گی ، مشاورتی اجلاسوں سے متعلق آن لائن اور آف لائن دونوں طریقہ کار اپنائے جائیں گے۔  دو ہزار انیس میں چین میں ڈیجیٹل تجارت کے درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت203.6 بلین امریکی ڈالر تک جا پہنچی ، جو ملک کی کل خدمات کی تجارت کا 26 فیصد ہے۔,آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل تجارت چین کے کھلےپن کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک اہم طریقہ کار بن جائے گا۔  بیجنگ سے پھوٹتی امید کی ان کرنوں نے پوری دنیا کے کاروباری حلقوں کو اعتماد فراہم کیا ہے۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -