آپ مجھے کتابی باتیں نہ بتائیں وزیراعظم اورکابینہ کے نوٹس میں لائیں اس عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد اور اعتبار ہے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ایس ای سی پی کے افسر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر ریمارکس

آپ مجھے کتابی باتیں نہ بتائیں وزیراعظم اورکابینہ کے نوٹس میں لائیں اس عدالت ...
آپ مجھے کتابی باتیں نہ بتائیں وزیراعظم اورکابینہ کے نوٹس میں لائیں اس عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد اور اعتبار ہے ،چیف جسٹس اطہر من اللہ کے ایس ای سی پی کے افسر کی بازیابی سے متعلق درخواست پر ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایس ای سی پی کے افسرساجد گوندل کی بازیابی سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم ماﺅں کا خیال رکھنے والے ہیں ،یہ عدالت بھی ایک ماں ہے،اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے توہم یہاں کر کیا رہے ہیں ؟آپ مجھے کتابی باتیں نہ بتائیں وزیراعظم اورکابینہ کے نوٹس میں لائیں اس عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد اور اعتبار ہے ،وزیراعظم 1400 سکوائر میل میں قانون کی حکمرانی قائم کرکے مثال قائم کریں گے ،اس کے بعدکسی ماں کو عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اگلی سماعت پر ہر شہری خود کو محفوظ تصورکرے ۔

اسلام آبادہائیکورٹ میں ایس ای سی پی کے افسرساجد گوندل کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیاکہ چیف کمشنر کہاں ہیں؟ چیف کمشنر عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟،سیکرٹری داخلہ نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہم سب اپنا کام کر رہے ہیں، چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ہم سب اپنا کام نہیں کر رہے۔

 چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ کیا یہ ایک عام کیس ہے،سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ نہیں، یہ عام کیس نہیں ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ کو یاد ہے ایک اہم شخصیت کا بیٹا لاپتہ ہو گیا تھااورریاست کیسے حرکت میں آئی تھی ؟،اسلام آباد کے منتخب نمائندوں کو بھی شہریوں کے تحفظ سے کوئی سروکار نہیں ،ایک افسر کو اغوا کرلیاگیا ،3 دن تک ریاست نے کچھ نہیں کیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس عدالت کو اپنی کارکردگی دکھائیں ،بتائیں ہم نے عوام کااعتماد حاصل کرلیا، اغواکاروں کو سزادلائی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ساجد گوندل کی والدہ کے گھر کون گیا؟،پولیس نے کہاکہ ڈی ایس پی ساجد گوندل کے گھر گیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے صرف ایک ڈی ایس پی کو مغوی کے گھر بھیجا؟،اسلام آبادمیں یہ جرائم ہوتے ہیں ،پھران کی تحقیقات بھی نہیں ہوتیں ،قانون میں کہاں اجازت ہے سرکاری ادارے رئیل سٹیٹ کاروبار کریں؟۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ایک اوورسیز پاکستانی اپنا پیسہ آپ کی سوسائٹی میں انویسٹ کرتا ہے ،نیب کرپشن نہیں روک سکتا صرف قانونی کی حکمرانی کرپشن روک سکتی ہے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ وزیراعظم ماﺅں کا خیال رکھنے والے ہیں ،یہ عدالت بھی ایک ماں ہے،اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے توہم یہاں کر کیا رہے ہیں ؟آپ مجھے کتابی باتیں نہ بتائیں وزیراعظم اورکابینہ کے نوٹس میں لائیں اس عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد اور اعتبار ہے ،وزیراعظم 1400 سکوائر میل میں قانون کی حکمرانی قائم کرکے مثال قائم کریں گے ،اس کے بعدکسی ماں کو عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اگلی سماعت پر ہر شہری خود کو محفوظ تصورکرے ۔

سیکرٹری صاحب !اس قسم کے باقی مقدمات کو بھی دیکھیں آپ کے پیچھے جو یونیفارم والے ہیں یہ ریاست کے نشان ہیں عزت ہونی چاہئے ،عدالت نے ایس ای سی پی کے افسر ساجد گوندل کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت17 ستمبر تک ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -