اسرائیل میں مقیم اردو بولنے والے یہودیوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کردی

اسرائیل میں مقیم اردو بولنے والے یہودیوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کردی
اسرائیل میں مقیم اردو بولنے والے یہودیوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کردی

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) اپنی جنم بھومی چھوڑنے کا دکھ وہی جانتے ہیں جنہیں ہجرت کی صعوبت سے گزرنا پڑے۔ پاکستان سے ہجرت کرکے اسرائیل اور دنیا کے دیگر ممالک میں جا بسنے والے یہودیوں کا بھی یہی عالم ہے کہ وہ آج بھی پاکستان کو یاد کرتے ہیں اور زندگی میں ایک بار اپنی جنم بھومی کو دیکھنے کی خواہش دل میں لیے دن گزار رہے ہیں۔ ایسے ہی کچھ یہودیوں سے گزشتہ دنوں انگریزی اخبار دی نیوز نے گفتگو کی۔ یہ لوگ کراچی میں بستے تھے اور پھر ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی میں ہجرت کرکے اسرائیل اور دیگر ممالک منتقل ہو گئے۔ یہ لوگ آج بھی بہت اچھی اردو بولتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں ایک بار کراچی جانا چاہتے ہیں اور اس شہر کو دیکھنا چاہتے ہیں جہاں وہ پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔

اسرائیل میں بسنے والے 59سالہ ایمانوئیل میطاط نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم کراچی سے ہجرت کرکے اسرائیل آنے والے آخری لوگ تھے۔ میرے باپ کا قالین سازی کا بہت بڑا کاروبار تھا اور وہ کئی ممالک میں قالین برآمد کرتے تھے۔ اگر مجھے فیملی کی مجبوری نہ ہوتی تو میں کبھی کراچی نہ چھوڑتا۔میرے والد بھی آخری دم تک کراچی کو یاد کرتے رہے۔ میری شدید خواہش ہے کہ میں زندگی میں ایک بار کراچی جاﺅں۔“

کئی اور یہودیوں نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز سے گفتگو کی۔ ان میں سے ایک یہودی نے بہت اچھی اردو بولتے کہا کہ ”ارے بھائی مجھے بریانی کھلاﺅ۔ “اس یہودی نے بھی دوسروں کی طرف زندگی میں ایک بار پاکستان آنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق قیام پاکستان کے وقت 2500سے زائد یہودی کراچی میں بستے تھے اور رنچھوڑ لائن میں ان کی ایک عبادت گاہ ہوا کرتی تھی۔ پھر حالات کے پیش نظر یہ لوگ پاکستان چھوڑ کرجانے پر مجبور ہو گئے اور ان کی عبادت گاہ بھی 1988ءمیں گرا کر وہاں سے ایک شاپنگ پلازے کا راستہ بنا دیا گیا۔ یہ عبادت گاہ 1893ءمیں تعمیر کی گئی تھی۔ ایمانوئیل میطاط اور اس کی فیملی آخری یہودی فیملی تھی جس نے 80کی دہائی میں کراچی سے ہجرت کی۔ ایمانوئیل نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ کراچی میں رہتے تھے تو کراچی بہت خوبصورت کثیر ثقافتی طبقات کا حامل شہر تھا۔ مسلمان، یہودی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بہت امن و محبت سے اکٹھے رہتے تھے۔ ایمونوئیل نے بتایا کہ ہم ہر ہفتہ(یہودیوں کا عبادت کا دن) کے روز اپنی عبادت گاہ جایا کرتے تھے اور مسلمان تانگے اور بگیوں والے اکثر ہم سے کرایہ بھی نہیں لیتے تھے۔کراچی میں ہمارے بزرگوں کی قبریں ہیں جنہیں ہم ایک بار دیکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کے دو قبرستانوں میں یہودیوں کی قبریں ہیں تاہم اب یہ قبرستان بھی بے یارومددگار ہیں اور کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے۔

مزید :

عرب دنیا -