ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے والے کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ڈاکٹروں نے 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیا تو کیا دیکھا؟ پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے والے کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ڈاکٹروں نے 3 ...
ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے والے کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ڈاکٹروں نے 3 ماہ بعد ان کا معائنہ کیا تو کیا دیکھا؟ پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

  

ویانا(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں پر اس وباءکے دیرپا منفی اثرات کے متعلق قبل ازیں کئی انکشافات کیے جا چکے ہیں۔ اب آسٹریا کے تحقیق کاروں نے بھی ایک ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ سن کر لوگ پریشان رہ گئے۔ میل آن لائن کے مطابق ان تحقیق کاروں نے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے سینکڑوں مریضوں پر تجربات کے بعد بتایا ہے کہ وباءکے جو مریض ہسپتال میں داخل رہے، ان کے پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان 3ماہ بعد بھی اپنی جگہ موجود تھا اور ان لوگوں کو سانس لینے سمیت دیگر کئی جسمانی افعال میں دشواری کا سامنا تھا۔

یونیورسٹی کلینک کے تحقیق کاروں نے ان مریضوں کے صحت یاب ہونے کے 3ماہ بعد سی ٹی سکین کیے جن میں انکشاف ہوا کہ ان میں سے 88فیصد مریضوں کے پھیپھڑے اب بھی اس وباءسے پہنچنے والے نقصان سے نکل نہیں پائے تھے۔ ان لوگوں کو سانس لینے میں دشواری اور کھانسی جیسے مسائل اب بھی لاحق تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر سبینہ سہانک کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے جسم پر پڑنے والے منفی اثرات کئی ماہ تک باقی رہ سکتے ہیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وائرس سے صحت یاب ہونے والے بعض لوگوں کو تمام عمر اس کے منفی اثرات کو جھیلنا پڑے اور ان کے پھیپھڑوں اور دیگر اعضاءکو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہو۔“

مزید :

کورونا وائرس -