بچوں کےساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے بڑھتے واقعات،سراج الحق نے " زینب الرٹ بل"میں ایسی ترامیم پیش کر دیں کہ ہر صاحب اولاد حمایت کرے گا

بچوں کےساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے بڑھتے واقعات،سراج الحق نے " زینب الرٹ ...
بچوں کےساتھ زیادتی اور وحشیانہ قتل کے بڑھتے واقعات،سراج الحق نے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد وحشیانہ طریقہ سے قتل کرنےوالے مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کی سزا تجویز کرتے ہوئے زینب الرٹ بل کے سیکشن پندرہ میں ترامیم پیش کر دی ہیں ۔ انہوں نے سیکشن پندرہ میں  تعزیرات پاکستان کی مزید دفعات 201 اور-302 اور 376 کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیاہے،اسکے علاوہ سیکشن پندرہ کے آخر میں شرطیہ پیراگراف شامل کرنے کی ترمیم دی ۔اس ترمیم میں کہا گیا کہ اگر متاثرہ بچہ یا بچی کو زنا بالجبر یا کسی اور ظالمانہ طریقہ سے قتل کر دیا جاتا ہے تو مجرم کو سزا ئے موت سے کم کوئی سزا نہیں دی جائے گی،اس ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی پولیس آفیسر اس مقدمہ میں غفلت سے کام لے گا تو اسکو بھی سزا بھگتناپڑے گی۔

سینیٹر سراج الحق نے پیر بخاری کالونی بلاک اے کراچی کی رہائشی پانچ سالہ بیٹی مروہ کے اغواء،ریپ اورشناخت کو مٹانے کے لیے جلا کر قتل کی شدید مذمت پر مبنی قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے۔قرارداد میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہفتہ کی شام کو اغواءکا مقدمہ درج کیا گیا۔ہفتہ اور اتوار کی رات کو اسی علاقہ میں عیسی نگری کے قریب سابقہ ملک پلانٹ کے گراونڈسے چادر میں لپٹی سوختہ لاش ملی۔ قرارداد میں بیٹی کی تلاش میں مجرمانہ غفلت پر پولیس کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں ملک بھر میں مروہ بیٹی جیسے واقعات متعدد بار رونما ہونے جن میں قصور، کراچی،فیصل آباد،گوجرانوالہ،ایبٹ آباد اور فرشتہ بیٹی کا واقعہ اسلام آباد میں اور بونیر میں 19سالہ صنم بیٹی،مردان میں ماہا بیٹی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔گزشتہ سالوں کے دوران ہزاروں کی تعداد میں قوم کی بیٹیاں جنسی تشدد کا شکار ہوئی ہیں اور بیہمانہ طریقہ سے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کیا گیا لیکن حکومتیں اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے ناکام ہوئے ہیں بلکہ مجرموں کو شک کی بنیاد پر ریلیف دیا گیا۔ اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔اس قرارداد میں بچوں اور بچیوں کے خلاف مظالم روکنے کے لیے سینیٹ کے ذریعے وفاق  سےسات مطالبات کیے گئے ہیں۔

1۔ آئین ِ پاکستان کے آرٹیکل 35 کے تقاضے کے مطابق شادی، خاندان،ماں اور بچے کی حفاظت کے حوالہ سے مملکت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

  2۔ آئین کے آرٹیکل 37(g) کے مطابق حکومت عصمت فروشی، قمار بازی، ضرررساں ادویات کےاستعمال، فحش لٹریچر اور اشتہارات کی طباعت، نشر و اشاعت اور نمائش کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔

 3۔ ان گھناونے اوراندوہناک واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ روابط کے ذریعے پورے ملک میں ایسے اداروں، افراد کا سراغ لگایا جائے جو فحاشی اور برائی پھیلارہے ہیں اور فحش مواد اور فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہے ہیں۔

 4۔  ملک بھر میں پورنوگرافی اور فحاشی و عریانی پر مبنی مواد اور ایسے مواد کو فروخت کرنے، رواج دینے والے آؤٹ لیٹس (دوکانوں، پوائنٹس) اور ایسے ہمہ اقسام کے مواد کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ 

5۔ بچوں، بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں رہا شدہ مجرموں کا نام ای سی ایل میں ڈالاجائے اور اصل مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے کیسز کو ری اوپن کیا جائے۔

6۔ پورے ملک میں بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں اور اب مروہ بیٹی کے مجرموں کوگرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

7۔  بچوں اور بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی،ریپ اور قتل کے مجرموں کوقانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بِلاتاخیر سرِ عام پھانسی دی جائے۔

مزید :

قومی -