ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات،وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو حکم جاری کردیا

ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات،وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ...
ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات،وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو حکم جاری کردیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم عمران خان  نے  کہا ہے کہ ماحولیاتی تغیراتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کوارڈینیشن کی ضرورت ہے۔  وزیراعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں نقصانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید بہتر اور نقصانات کا  ازالہ کرنے کے حوالے سے  وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر حکمت عملی تشکیل دے سکیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے فلڈز کااجلاس ہوا جس  میں وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر مواصلات مراد سعید، وزیر برائے آبی وسائل محمد فیصل واڈا، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ  جنرل محمد افضل، چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین فلڈ کمیشن، ڈی جی  میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ و دیگر سینئر افسران شریک، صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔چیئرمین این ڈی ایم نے وزیر اعظم کو ملک میں مون سون، مختلف حصوں میں حالیہ بارشوں کی صورتحال، جانی و مالی نقصانات اور این ڈی ایم اے کی جانب سے ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔

میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ اور فلڈ کمیشن حکام نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ حالیہ مون سون کے نتیجے میں اس سال ملک کے اکثر حصوں اور خصوصا سندھ اور بلوچستان میں ماضی کی نسبت زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ دریاں کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس وقت تمام دریاں میں درمیانے درجے کا بہا ہے۔  وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ملک کے تمام ڈیم پانی سے مکمل طور پر بھر چکے ہیں جس کی بدولت پانی کی دستیابی کی صورتحال تسلی بخش رہے گی۔ چیف سیکرٹریز نے صوبہ سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں کی وجہ سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات، ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ متعلقہ حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ قوی امید ہے کہ مون سون کا دورانیہ وسط ستمبر تک رہے گا،مزید سیلابی صورتحال کے پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پاک آرمی کی جانب سے ریلیف سرگرمیوں کے بارے میں بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تغیراتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں میں بہتر کو آرڈی نیشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں نقصانات کا جائزہ لیا جائے تاکہ ریلیف سرگرمیوں کو مزید بہتر اور نقصانات کا  ازالہ کرنے کے حوالے سے  وفاق اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر حکمت عملی تشکیل دے سکیں۔

مزید :

قومی -