عورتوں کے حقوق اور جرائم 

عورتوں کے حقوق اور جرائم 
عورتوں کے حقوق اور جرائم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


عورتوں کے ساتھ بد اخلاقی اور مختلف قسم کے جرم ہو رہے ہیں، جن کا اثر لا محالہ پاکستانی معاشرے پر بھی پڑ رہا ہے غیر مسلم ممالک کے حوالے دینے کے ساتھ مجھے اپنے مذہب میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں لکھنے پر اچھا لگے گا۔ غیر مسلم ممالک خصوصاً یورپین ممالک میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں کافی تنظیمیں کام کر رہی ہیں جن کا نعرہ ہے میرا جسم میری مرضی یہ نعرہ پاکستان میں بھی مغرب کے زیر اثر اور فیشن کی دل دادہ خواتین نے لگایا تھا اور پاکستان کے مختلف شہروں میں جلوس نکالے گئے تھے جن کی حمایت بھی چند لوگوں نے کی اور اس طرح کے جلوس اور معاشرے کا ماحول پاکستان میں لاگو نہیں ہو سکتا۔اسلام نے عورتوں کو زندہ رہنے کا حق عطا کیا لیکن یہ جو یورپین طرز پر زندگی گزارنے کا رواج چل رہا ہے یہ کسی قیمت پر بھی پاکستانی معاشرے کو قبول نہیں، پاکستانی عورت ماں کے رشتے سے عظیم ہے، بہن کے رشتے سے احترام کے قابل ہے

اور ہر عورت جو کسی کے نکاح میں نہیں اسلام میں بہن، بھابھی، ماں، چچی، تائی وغیرہ کا رشتہ ہوتا ہے اسلام نے عورت کو بہت ہی عزت عطا کی ہے آخر بگاڑ کہاں سے شروع ہوتا ہے جب کچھ لوگوں کے پاس ناجائز ذرائع سے دولت آنا شروع ہوتی ہے یا ناجائز دولت حاصل کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے،  فیشن کی بھرمار بھی معاشرے کا حصہ بن جاتی ہے تو پھر یہ جو چند دن سے واقعات ہونے شروع ہوئے ہیں اس طرح کے واقعات منظر عام پر آنے شروع ہو جاتے ہیں تو پھر مختلف خیالات رکھنے والے معزز اراکین میدان میں آتے ہیں کوئی اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتا ہے، حکمران پولیس افسران پر گرجتے ہیں اور افسران اپنے ملازمین پر ان واقعات کی ذمہ داری ڈال کر فارغ ہو جاتے ہیں، کوئی اندر کوئی باہر کوئی ادھر کوئی ادھر، یہ اس کا حل نہیں ہے جب تک عوام کے اندر عوام کے دلوں میں اچھا تاثر پیدا نہیں کریں گے معاشرے سے فحاشی، بے راہ روی کا ختم ہونا بہت مشکل ہے۔ پولیس افسران کے تبادلے امن و امان کو برقرار رکھنے میں کوئی صحیح حل نہیں ایک وزیر کے بھائی کا قتل ہونا اس کو قتل کرنا بہت بڑا بھیانک جرم ہے اس فنگشن میں وزیر اعلیٰ بھی موجود ہوں اور قتل ہو جائے بہت افسوس ناک واقعہ ہے لیکن حیرانی ہے اس واقعہ سے لاپرواہی پر پولیس افسروں کے تبادلے نہ ہوئے لیکن ایک ٹک ٹاکر بہت سے تبادلوں کا باعث بن گئی اس دن بھارت کے حکمران مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر ظلم کر رہے تھے، مظلوم کشمیری مسلمان پاکستان کے یوم آزادی کے لئے جھنڈے لہرا رہے تھے تشدد برداشت کر رہے تھے لیکن پاکستان کے چند حکومت مخالف لوگ ٹک ٹاک بنانے والی ٹیم کی سرپرستی کر کے پاکستانی معاشرے کو بدنام کر رہے تھے۔


 ہندوستان کے میڈیا نے اس واقعہ کو بہت کوریج دے کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا اور پاکستانی معاشرے کی غلط تصویر پیش کی، حالانکہ یہ حرکات کرنے والے پاکستانی معاشرے کی ترجمانی نہیں کرتے پاکستان میں عورتوں کی حمایت میں  قانون سازی اور عمل درآمد کا قانون موجود ہے لیکن افسوس یہ شفاف نہیں نہ کوا کالا ہے نہ سفید ہے اس میں اصلاح کی ضرورت ہے لیکن مسئلہ محض پالیسی یا قانون سازی کا نہیں بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد کا ہے عمل درآمد کے نظام میں تاخیر، سیاسی مداخلت، کمزور تفتیشی نظام طاقت اور طبقات کی مداخلت۔ پولیس اور عدالتی نظام بھی ہے اگر پاکستان میں سزا جزا کا نظام موجود ہو تو اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہوں لیکن یہ کام آسان نہیں اگر حکومت سمیت اس کا کوئی ادارہ کمزوری دکھائے گا تو اس کا  براہ راست منفی اثر عورتوں کے عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ہماری پارلیمینٹ میں عورتوں کی نمائندگی ہے ان کا بھی عورتوں کے لئے کوئی مثبت کردار دیکھنے کو نہیں ملتا اس کی بڑی وجہ عورتوں کی عدم دلچسپی ہو سکتی ہے ہماری پارلیمینٹ میں موجود معزز خواتین کو پاکستانی معاشرے اور مذہب اسلام کی ترجمانی کرنی چاہئے تاکہ ان کی کوششوں سے پاکستانی معاشرے کی خواتین کو عزت و احترام کا مقام حاصل ہو سکے سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں بھی عورتوں کا ایجنڈہ کمزور نظر آتا ہے اور کسی ٹھوس حکمت عملی کی بجائے محض نعروں اور دعوؤں پر مبنی سیاست کا غلبہ ہے مذہبی جماعتیں بھی عورتوں کو ان کے حقوق اور ان کے خلاف جرائم کو روکنے میں عوامی شعور کو بیدار کرنے میں ناکام ہیں یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ اس طرح کے واقعات میں  عورتوں کی اکثریت ذمہ دار ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود مجرموں کی حمایت کرنا پاکستانی معاشرے اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔


 واقعات چاہے جس طرح بھی ہوں حالات چاہے کچھ بھی ہوں فحاشی کے مرتکب افراد مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد ایک چوری کا واقعہ ہوا انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ہفتے مہینے نہیں لگے 4 دن میں فیصلہ کیا اور سرِ عام مجرم کو سزا دی سب لوگوں نے ہاتھ کاٹنے کا نظارہ دیکھا تو پھر کیوں نہیں لوگ عبرت پکڑیں گے ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہے کہ سو فیصد مجرم کی حمایت شروع ہو جاتی ہے۔ آئین اور قانون جو تحفظ یا بنیادی حقوق عورتوں کو فراہم کرتا ہے یا اس کی ضمانت دیتا ہے اس کو پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن معاشرے میں گندگی پھیلانا، فحاشی پھیلانا جس کی اجازت اسلام نہیں دیتا اس کو بھی روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے پاکستان کی حفاظت کرنا اس میں رہنے والے شہریوں کو اچھی زندگی گزارنے کے لئے اچھا ماحول فراہم کرنا بھی حکومت کا کام ہے، جبکہ اس کے برعکس  پریشان کن حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ عورتوں کے خلاف مختلف شہروں اور دیہات میں جرائم بڑھ رہے ہیں اس میں حکومتی سطح پر غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور مجرموں کو جلد سے جلد سزا ملنی چاہئے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے  جب ہم دیکھتے ہیں کہ کرپٹ لوگ عورتوں کے جرائم میں پیش پیش ہوتے ہیں چاہے وہ خود کریں یا ان لوگوں کی حمایت کریں جو عورتوں پر تشدد یا  مجرمانہ حملے کرتے اور انہیں قتل کرتے ہیں ان کے خلاف قانون بھی خاموش رہتا ہے اور معاشرہ بھی ان کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے 14 اگست یوم آزادی پر سرکاری افسر تو معطل ہو چکے تبدیل ہو چکے مگر جو بھی خواتین و حضرات اس بدنامی کا باعث ہیں جن لوگوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ان کو بھی گرفتار کیا جائے چاہے وہ کسی بھی ادارے سے تعلق رکھتا ہے پاکستان اور معاشرہ بچانا ان کی حفاظت کرنا سب پاکستانیوں کا کام ہے لیکن پاکستان کے نام پر بدنامی کے دھبے ختم کرنا بھی ضروری ہے ان ملزموں سے مجرموں سے نظریہ ضرورت کے تحت کاررووائی کی جائے جو سب کو نظر آئے تبادلوں کی طرح۔

مزید :

رائے -کالم -