احساس

احساس

  

افریقہ اور غریب ممالک میں لوگ قحط ،خشک سالی اورخوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے مر جاتے ہیں ، جبکہ امیر ممالک کے خوشحال لوگ خوراک کی زیادتی کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔مَیں نے پاکستان کے دو بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں سے منسلک لوگوں سے دریافت کیا کہ تقریبات کے بعد ہر روز بے شمار کھانا بچ جاتا ہے۔آپ لوگ اس کھانے کا کیا کرتے ہیں؟ دونوں کا جواب تھا کہ ہم باقی ماندہ کھانا ضائع کردیتے ہیں۔ ڈرموں میں ڈال کر کوڑے میں پھینک دیتے ہیں۔مَیں نے پوچھا کہ کیا اس کھانے میں سے ورکر یا ہوٹل کے سٹاف کو کھانا دیا جاتا ہے؟نہیں ہمیں یہ کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ان کا جواب تھا۔میرا ترک دوست مجھے بتانے لگا کہ ترکی کے بڑے بڑے ہوٹل اور ریستوران ہرروز بچا کھچا کھانے یتیم خانوں، ہسپتالوں، ہوسٹل اور دیگر ضرورت مند جگہوں پر باقاعدگی سے بھیجتے ہیں۔یوں کھانا ضائع بھی نہیں ہوتا اور ضرورت مندوں کی مدد بھی ہو جاتی ہے۔

اسلام میں کھانے پینے کی اشیاءکے ضیاع کی ممانعت کی گئی ہے اور کسی بھوکے پیاسے کو کھلانا،پلانا بہت اجر اور ثواب کا کام ہے۔پیغمبر اسلام کا قول ہے کہ جو پیٹ بھر کر خود تو کھالے، لیکن اس کا پڑوسی بھوکا پیاسا سوگیا تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیمات یہ ہیں کہ جو خود کھاﺅ، وہی سب کو کھلاﺅ ،جو خود پہنو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو۔مساوات،اخوت، بھائی چارہ، رواداری،ہم آہنگی، ہمدردی اور دوسروں کا احساس اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔اس حوالے سے ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسلام نے غریب اور امیر، آقا اور غلام سب کو ایک ہی دسترخوان پر بٹھا دیا ہے۔دولت اور مرتبے و عہدے کا لحاظ ختم کردیا ہے۔مشہور ترک کہاوت ہے کہ اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو عبادت میں بھی دل لگ جاتا ہے۔بھوکے پیاسے لوگوں کا مرجانا ایک المیہ ہے اور معاشرے کے تمام طبقات کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

مسلمان فطری طور پر ہمدرد اور دوسروں کا احساس کرنے والے لوگ ہیں، اگر کوئی فقیر اور غریب روٹی یا چاول کھا رہا ہو اور دوسرا کوئی بھوکا شخص اس سے اس روٹی یا چاول میںسے کچھ مانگے گا تو وہ اپنی بھوک پیاس کو بھول کر اس کو کچھ نہ کچھ ضرور دے گا۔بات احساس کی ہے۔ دوسروں کا دکھ درد بانٹنا ایک سچے مسلمان اور مومن کا شیوہ اور طرئہ امتیاز ہے۔اگر مسلمانوں کی مادی اور تعلیمی حالت اچھی ہوجائے تو بہت سے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ہمیں معنوی اور روحانی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا۔ایک اللہ پر یقین اور بھروسہ ہمیں بہت سے زمینی خداﺅں کے خوف سے نجات دلا سکتا ہے۔کفر دن بدن دنیا میں پھیلتا جارہا ہے اور علم کے نور کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد اپنی ساکھ اور عزت بنانے اور معتبر تعاون کے لئے اچھی قابل تقلید مثالیں سامنے لانا ہوں گی۔صدقہ جاریہ کے طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ چھوڑنا ہوگا۔نیکیاں بڑھانا ہوں گی، گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن سعی اور کوشش کرنا ہوگی۔ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قومی اور اجتماعی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا، تبھی جا کر ہم دنیا میں ایک باوقار قوم کہلا سکیں گے۔        ٭

مزید :

کالم -