چار نکاتی ”عہد نامہ“

چار نکاتی ”عہد نامہ“

  

 گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں جب میرا چھوٹا بیٹا پری انجینئرنگ کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد کسی اچھی یونیورسٹی میں داخلے کی تیاری کررہا تھا تو ایک دن وہ اپنے دوستوں کی طرح نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)کا فارم بھی لے کر آیا ۔ مَیں نے بوجوہ اسے فارم بھرنے کی اجازت نہ دی اور وہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی تک جستجو کرنے کے باوجود مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو میں ہی داخلے کے حصول میں کامیاب ہو سکا۔ اس دوران متعدد بار ہمارے گھر میں NUST کے معیار اور وہاں زیر تعلیم بچوں کے بہتر مستقبل کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔ رشک اور تعریف کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو سے یہ ادارہ میرے لاشعور کا حصہ بن گیاتھا اور اس سوال کی صورت میں میرے شعور کے دروازے پر دستک ہونے لگی تھی کہ کیا ہمارا ملک بھی ایسے قابل فخر تعلیمی اداروں کا مالک بن چکا ہے؟....میرے تجسس اور جستجو میں خاموشی سے اضافہ ہوتا رہا۔ اسی دوران فروری کے آخر میں ایک دن NUST کے انتہائی دیدہ زیب ادبی میگزین نسٹیئن کے دو شمارے نظر نواز ہوئے۔ حیرت ہوئی کہ یہ اہتمام کس دست عنبر حبیب نے کیا ہے اور وہاں کس شخص کو میرے دل میں چھپی NUST کو جاننے کی خواہش کا علم ہو گیا ہے ۔ مَیں بہت د ن نسٹیئن کے حسن انتخاب اور ترتیب کی مہارت میں کھویارہا۔ میری زندگی کے 42برس انتھک صحافت میں گزرے ہیں، خصوصاً جریدی صحافت سے قابل فخر تعلق رہا۔ پھر گزشتہ 22برس سے اپنا ذاتی ماہوار جریدہ بھی مرتب کرتا اور چھپواتا چلا آرہا ہوں جو لاہور کے تاثیر مصطفےٰ کے بقول ”سولوجرنلزم“ کی پورے ملک میں ایک مثال ہے، لیکن نسٹیئن کی ورق گردانی کرکے غالب کی طرح بے ساختہ منہ سے نکلا:

”ریختہ کے اک تمہی استاد نہیں ہو غالب“

جب در حیرت پوری طرح وا ہوچکا تو رشک کے ساتھ حسرت نے بھی جنم لے لیا کہ کاش میرا بیٹا NUST کا طالب علم ہوتا تو ”الحمدللہ “ کہتا اور ”ذکر رسول “سے اپنے کردارکی آبیاری کرتے ہوئے ”تابندہ“ ہوکر ”رُخ آفتاب“ سے سب کو منور کرکے ”رشک چمن“ بن جاتا، پھر اس کے ”بدلتے رنگ“ دیکھ کر ہم منتظر ہوتے کہ ”دیکھئے اِس بحر کی تہہ سے اُچھلتا ہے کیا“....

لیکن ”سائنس“ کے علم کے ذریعے کسی ”جہان نو“کو دریافت کرنے سے پہلے وہ اپنی ”گفتار شیریں“ کا جادوبھی جگاتا اور ”بزم ادب“ میں ”شعلہ آواز“ کے سحر اوراچھے لفظوں کی ”موتی مالا“ کے ذریعے ”بیان فطرت“ پر اتنی دسترس کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہوجاتا کہ ”فسانے“ سے زیادہ دلچسپی کے ساتھ اس کی داستان حیات کو سناجاتا۔

جی ہاں آپ سمجھ گئے، یہ نسٹیئن کے اُن ابواب کے عنوانات کا حوالہ ہے، جن کی خوبصورت ترتیب نے میرے دل میں اُڑ کر وفاقی دارالحکومت پہنچنے اور اس ادارے کے منتظمین سے ملنے کی خواہش بڑھادی ہے۔ ممتاز اقبال ملک دو عشروں سے زیادہ افواج پاکستان کے تعلقات عامہ کے رسالے ” ہلال“ کے ایڈیٹر رہے ہیں، لہٰذا اِن کا تجربہ نسٹیئن کے ورق ورق سے عیاں ہے، لیکن یقینی طور پر اسے مجلس مشاورت کے تین ارکان میں شامل دو پروریکٹر زانجینئر محمد شاہد اور ڈاکٹرآصف رضا اور ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز محمود بشیر باجوہ کی مشاورت اور رہنمائی کا کمال بھی کہا جائے گا ۔نسٹیئن کے ذریعے وہ دنیا سنوارنے کے ساتھ ساتھ نوجوانان وطن کی کردار سازی کے ذریعے دین کی بھلائی کا وہ کام کررہے ہیں، جس پر فخر کیاجاسکتا ہے۔

میری جستجو کے شوق نے مجھے بتایا کہ NUSTکے ریکٹر( وائس چانسلر) انجینئر محمد اصغر پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ہےں اور انتہائی پیشہ ور مہارت کے حامل بااُصول دیانتدارشخص کی شہرت رکھتے ہیں، لہٰذا ان کی سرپرستی اور نگہداشت میں اسی طرح کا مجلہ ترتیب پانا تھا کہ ملک بھر سے نامور کالم نگار اسے خراج تحسین سے نوازےں....لیکن نسٹیئن کی دیدہ زیب طباعت، مضامین کا انتخاب اور حُسن ترتیب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے مستقبل میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے قابل فخر نوجوانوں کو نااُمیدی اور مایوسی کے اندھیروں سے نکالنے کی کوشش بہترین اورپُر اثر انداز سے کی گئی ہے۔ صرف چند ہفتے قبل تک چہارسو مایوسی کا اندھیرا پھیلاہوا تھااور یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہماری قوم قیادت کے جمہوری انتخاب کا محفوظ مرحلہ کس طرح طے کرے گی!

لیکن اب یہ بادل چھٹ رہے ہیں اور جس طرح مشرق سے اُبھرنے والے سورج کی مدہم، لیکن چمکتی کرنیں اُن پگڈنڈیوں کو واضح کرکے، جنہیں اندھیرے میں دیکھنا ممکن نہیں ہوتا ، شاہراہ تک پہنچنا آسان بنادیتی ہےں، اسی طرح نسٹیئن کے اداریے میں قومی سفر کی سمت کو یقین محکم کے ساتھ واضح کردیا گیا ہے ۔

اب اپریل میں نسٹیئن کے الفاظ پر نظر ڈالنے کی فرصت ملی تو میں سوچنے لگا کہ ہمیں شاید ایسے ہی قلندر صفت اور مجذوب لوگوں کی ضرورت ہے جو تصویر کا روشن پہلو نمایاں کرکے یقین محکم اور عمل پیہم سے جہادِ زندگانی کی شمشیریں تیار کرنے کا سامان کرتے ہیں.... لیجئے اداریے کے الفاظ پر نظر ڈالےں!

پاکستان اللہ تعالیٰ کی منشا سے قائم ہو ا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہی اس کی محافظ و دستگیر ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے عطاکردہ پاکستان کو ہمیشہ یا لمبے عرصے کے لئے کسی مصیبت یا آزمائش یا سزا سے دو چار نہیں رکھے گا۔ پاکستان کے استحکام کے لئے جو کوئی بھی کوشش کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پائے گا ۔ جس شخص یا گروہ نے اس ملک میں اپنی کبریائی کا تخت بچھانے کی کوشش کی ، ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ نشان عبرت بنا۔ اس لئے اندرونی و بیرونی شر، تخریب، من مانی اور منہ زوری کے اندھیروں سے ہرگز بددل نہ ہوں....اس کے بعد نسٹیئن کے ذریعے نوجوانان وطن کو چار نکاتی چارٹر دیاگیا ہے کہ وہ یہ چار کام کرکے ملک خداداد کے انتظام و انصرام کا معاملہ خالق و مالک پر چھوڑ دےں۔

اول: مطالبہ پاکستان کے وقت اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدوں پر عمل پیرائی کا مظاہرہ۔

دوئم: اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے بے لوث وفاداری اوراس کے اساسی نظریے کی کارفرمائی و تحفظ کا حق ادا کرنا ۔

سوئم: زبان، قبیلے، طبقے اور صوبہ پرستی کی بدروح کو ذہن اور سوچ میں گھسنے نہ دینا۔

چہارم : دوران تعلیم اپنی تمام تر توجہ تعلیم پر ، بعد ازاں کام ، کام اور کام اور خدمت ملک و عوام ۔

پاکستان کی مجموعی صحافت کو عموماً اسی طرح تصویر کے روشن پہلو کو اُجاگر کرنے کا کام کرنا چاہئے تھا ، مگر وہ ”انسان نے کتے کو کاٹ لیا“ کے مصداق عموماً منفی پہلو کو اُجاگر کرنے والے واقعات ہی کو خبر سمجھتے ہیں اور مایوسی و نااُمیدی کا ایک سبب یہ بھی ہے ۔ اس لحاظ سے نسٹیئن نے نہ صرف ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلباءو طالبات کے لئے چار نکاتی عہد نامے کی مشعل روشن کی ہے، بلکہ پاکستان کی صحافت کے لئے بھی راہ متعین کر دی ہے....جزاک اللہ!    ٭

مزید :

کالم -