شہبازِ پاکستان کا وژن اور پاک چین باہمی تعاون

شہبازِ پاکستان کا وژن اور پاک چین باہمی تعاون
شہبازِ پاکستان کا وژن اور پاک چین باہمی تعاون
کیپشن:   rana m arshad سورس:   

  

مسلم لیگ کو ایک سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ مملکت خداداد پاکستان کی خالق جماعت ہے۔ ہماری ملکی تاریخ کئی سیاسی جماعتوں اور مختلف نظریات کے حامیوں کی حکومتوں اور مارشل لاز سے بھری پڑی ہے مگر جب بھی مسلم لیگ کو حکومت میں آنے کا موقع ملا اس وقت پاکستان نے ترقی و خوشحالی کی منازل بڑی سرعت سے طے کی ہیں۔ 90ءکی دہائی میں میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کی مضبوط حکومت کے مضبوط عزائم کو پورا نہ ہونے دیا گیا اور پھر جلاوطنی اور جبر کا طویل دورانیہ کاٹ کر جب میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف اپنی مادرِ وطن واپس آئے تو عوام نے اپنی محبوب قیادت پر دوبارہ بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ میاں شہباز شریف نے اپنے سابقہ دور حکومت میں پنجاب میں ترقی کا جو لازوال سفر شروع کیا موجودہ دور حکومت میں بھی اس کا تسلسل برقرار ہے بلکہ میرے خیال میں مرکز میں مسلم لیگی حکومت قائم ہونے کے بعد بہت سی رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں اور اب پنجاب میں مزید زور و شور سے صوبے کے عوام کی خدمت کی جارہی ہے۔

 اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوامی جمہوریہ چین سے دوستی دنیا میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ ہر کٹھن مرحلے میں چین نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعاون کیا بلکہ ایسا ساتھ دیا کہ ہمارے جغرافیائی و نظریاتی دشمنوں کا ناطقہ بند کردیا۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات ہوں یا کشمیر کا سلگتا مسئلہ ہو‘ چین نے ہمیشہ پاکستانی مو¿قف کی تائید کی ہے۔ ہر بین الاقوامی فورم پر بھی پاکستان و چین ہم آواز ہوکر سامنے آئے ہیں۔ آج پاکستان اندرونی سطح پر جن مسائل کا شکار ہے ان میں سب سے اہم مسئلہ بلکہ سب سے بڑا چیلنج توانائی بحران کا ہے۔ بدقسمتی سے سابقہ حکومتوں نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی جس کے باعث پورا پاکستان رفتہ رفتہ اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔ 11مئی 2013ءکے انتخابات کے بعد جب سے میاں نواز شریف نے ملک کے وزیراعظم اور میاں شہباز شریف نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے خدمت کے نئے دور کا آغاز کیا ہے ان کی توجہ کا مرکز و محور توانائی کے بحران کا حل ہے۔ ویسے تو کئی ممالک اس حوالے سے تعاون کرنے کو تیار ہیں اور شریف برادران کے ذاتی اثر و رسوخ سے کئی ممالک ہمارے مخدوش اندرونی حالات کے باوجود سرمایہ کاری کررہے ہیں لیکن سب سے بڑا اور مثالی تعاون چائنہ کی جانب سے سامنے آرہا ہے۔

 فروری 2014ءمیں جب میاں شہباز شریف اپنی ٹیم کے ہمراہ چین کے دورے پر گئے تو چین نے دل کھول کر شہبازشریف کی حوصلہ افزائی کی۔ مثالی میزبانی کی‘ غیر معمولی پروٹوکول دیا اور ازلی دوستی کو مزید گہرا اور پختہ کرنے کا عندیہ دیا۔ چینی حکومت اور ان کے ہر سطح کے حکومتی عہدیداروں نے میاں شہباز شریف کی اپنی عوام کی خدمت کی داستانیں سُن رکھی تھیں انہوں نے اس انتھک شخصیت کے خیالات سے متاثر ہوکر آئندہ چند مہینوں میں پاکستان میں 32 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ جو کہ شاید تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی اور یہ بھی واضح رہے کہ یہ سرمایہ کاری صرف اعلانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی طور پر پہلے دن سے ہی آغاز کردیا گیا۔ پاکستان میں مواصلاتی نظام کا سٹرکچر اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں چینی تعاون قابلِ ستائش ہے۔ اب ایک نئے دور کا آغاز کیا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں چنیوٹ میں چھپے قدرتی خزانوں کو ڈھونڈنکالنے کا عزم لے کر جب میاں شہبازشریف اپنے چینی معاونین کے ہمراہ وہاں پہنچے تو یقینا وہاں کے لوگوں، بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو رشک آرہا تھا۔

پنجاب حکومت اور چین کی کمپنی میٹالر جیکل کارپوریشن آف چائنہ کے مابین چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ چین کی یہ مایہ ناز کمپنی 10ماہ کی قلیل مدت میں پاکستان کی سرزمین کی تہہ میں موجود لوہے کے معیار اور مقدار کا تعین کرے گی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان زیرِ زمین معدنی ذخائر کے اعتبار سے بہت زرخیز ہے۔ ہماری زمین میں چھپے خزانے اور معدنی دولت کو نکالنے کی کوئی مربوط اور مخلص کاوش ہی نہیں کی گئی۔ ہمیشہ اغیار کی خیرات اور بھیک پر ہی اکتفا کیا گیا اور ظلم بالائے ظلم کے ماضی کی حکومتوں نے انہی معدنی ذخائر کو غیروں کے حوالے کرکے اپنا حصہ وصول کرلیا۔ چند کالی بھیڑوں نے تو اس سے فائدہ اُٹھالیا مگر پاکستان کے مزدور اور پسے ہوئے طبقات محروم ہی رہے۔ میاں شہباز شریف نے چائنہ کے ساتھ زیرِ زمین لوہے کی تلاش کا جو معاہدہ کیا ہے اس سے پاکستان میں ملکی لوہے سے چلنے والی پہلی سٹیل مِل کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یہ معاہدہ کرنے والی چینی کمپنی 1980ءسے پاکستان میں مختلف شعبوںمیں جزوی تعاون کررہی ہے مگر جو اعتماد اور تعاون موجودہ حکومت کو دیا جارہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

 ذرا چشم تصور سے دیکھا جائے کہ جب معاہدہ عملی صورت اختیار کرے گا تو ملک میں روزگار کے مواقع بھی ملیں گے اور خوشحالی کا دروازہ بھی کھلے گا۔ صرف یہی نہیں چین کی مختلف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کو تیار بیٹھی ہیں۔ چین کا ایک معروف گروپ قائداعظم اپیرل پارک میں 2ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے جس کے معاہدہ پر وزیراعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں دستخط کردیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت رویائی شین ڈونگ گروپ قائداعظم اپیرل پارک کی ڈیزائننگ‘ پلاننگ اور کنسٹرکشن میں بھی تعاون کرے گا۔ اسی چینی گروپ کی جانب سے توانائی سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری کرنے پر بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ گروپ ساہیوال میں 660میگا واٹ کے 2کول پاورپلانٹس لگانے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ جبکہ سالٹ رینج میں کوئلے کی کانوں کے قریب بھی کول پاور پلانٹ لگانے کا جائزہ لیا جائے گا۔ جب یہ تمام معاہدے عملی صورت اختیار کریںگے تو خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

 ملک اندھیروں سے نکل آئے گا۔ پنجاب میں اس حوالے سے سب سے زیادہ کام اس لیے ہورہا ہے کہ چینی عوام اور حکومت ہمیشہ سے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف پر حددرجہ اعتماد کرتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھی اس اعتماد کی قدر کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی گئی۔ پاکستان اور چین کے باہمی تعاون کی جو خوشگوار بہار چل نکلی ہے اس سے قوی اُمید پیدا ہوئی ہے کہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل تابناک ہے۔ ہماری محب وطن قیادت انشاءاللہ ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں کامیاب رہے گی۔

مزید :

کالم -