’’مَیں سے تُو کا سفر‘‘

’’مَیں سے تُو کا سفر‘‘

  

اکیسویں صدی کو اگر تیز ترین ترقی کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔جتنی ایجادات اور مادی ترقی اس صدی میں ہوئی، اس سے قبل تاریخ میں اس کا ذکر نہیں ہوا۔ آج کی دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے۔ انٹرنیٹ، ٹی وی اور سیٹلائٹ کا دور ہے جس میں کوئی چیز آپ سے چھپی نہیں۔ دُنیا میں کہیں بھی کوئی واقعہ ہو منٹوں میں یہ آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔ انسان چاند سے آگے اور جہاں کھوج رہا ہے۔انسان اب دوسرے سیاروں میں آباد ہونے کے امکانات پر غور کر رہا ہے اور اس کی تیاریوں میں لگ گیا ہے۔ ان سب دنیاوی ترقیوں اور آسائشوں کے باوجود انسان ابھی بھی سکون قلب کے فارمولے کی تلاش میں ہے۔ انسان کی پوری توجہ مادی ترقی پر مرکوز ہو گئی ہے جبکہ روحانی طور پرا نسان تنزلی کا شکار ہو گیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے ڈھیر ساری آسائش، دولت، اعلیٰ رتبہ اور شہرت اس کو خوشی اور سکون فراہم کرے گا، مگر اکثر دیکھا گیاہے کہ انسان جب خواہشوں کا غلام بنتا ہے تو سب سے پہلے اُس کی زندگی سے سکون ہی چلا جاتا ہے۔سکون اگر دولت و شہرت سے حاصل ہو سکتا تو دُنیا کے امیر اور مشہور شخصیات بہت خوشگوار زندگی گزار رہی ہوتیں،مگر جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں تو اکثر نتیجہ مختلف نکلتا ہے۔

قمراقبال صوفی نے اپنی کتاب ’’روحانی قوت اور دانشِ انسانی‘‘ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے۔ محترم رفیق سہگل پاکستان کی ایک امیر ترین شخصیت ہیں۔1980ء میں وہ لندن میں انجمن ’’ترقی اردو‘‘ میں بطورِ مہمان شریک ہوئے۔ انہوں نے کہا ’’مَیں اتنا امیر ہوں کہ مَیں روٹی سونے چاندی کی پلیٹ میں رکھ کر کھا سکتا ہوں، لیکن مجھے بہت سی مزیدار چیزیں کھانے کی اجازت نہیں ہے۔ مَیں اُبلی ہوئی سبزیاں اور سوپ قسم کی چیزیں ہی کھا سکتا ہوں۔ مَیں نے اکثر دیکھا ہے کہ میری مِل کا ایک عام مزدور کھانے کے وقفے میں گھر سے ساتھ لائے ہوئے چٹ پٹے کھانے دل بھر کر کھاتا ہے، پھر وہ فرش پر ہی بازو کا تکیہ بنا کر تھوڑی ہی دیر میں مزے سے گہری نیند سو جاتا ہے، جبکہ مَیں اگر سونے کے لئے گولیاں نہ لوں تو مجھے نیند بالکل نہیں آتی۔ اِسی طرح کچھ سال پہلے امریکہ میں سو انجینئروں نے اجتماعی خود کشی کی تھی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے، لیکن دل کا سکون غائب تھا۔ سوئیڈن ایک فلاحی مملکت ہے، مگر وہاں بھی خود کشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ وہاں پر خوشحالی ہے، اگر کمی ہے تو ایک انسان کے دوسرے انسان سے بے لوث اور بے غرض تعلق کی۔ اشفاق احمد صاحب ’’زاویہ‘‘ میں لکھتے ہیں، ’’ایک انسان جو سب سے قیمتی چیز دوسرے انسان کو دے سکتا ہے وہ اُس کا وقت ہے‘‘۔دوسروں کا خیال رکھنا، بیماری میں عیادت کرنا،دوسروں کے دُکھ دردمیں شریک ہونا عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ سب حقوق العباد کا حصہ ہے۔

انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر اُس کے پاس بہت دولت ہو گی، وہ بہت اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گایا اُس کے پاس طاقت ہو گی تو وہ خوش ہو گا تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔

سکندرِ اعظم دُنیا کا عظیم فاتح ایک بار عظیم یونانی فلسفی دیو جانس کلبی سے ملنے آیا تو وہ ساحل سمندر پر دھوپ سینک رہا تھا۔ سکندرِ اعظم نے اس سے پوچھا، ’’بتاؤ مَیں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں‘‘ دیو جانس نے کہا ’’ایک خواہشوں کا غلام بادشاہ ایک آزاد کے لئے کیا کر سکتا ہے‘‘؟ سکندرِ اعظم نے پھر بھی اصرار کیا تو دیو جانس نے جما ہی لی اور کہا: ’’ذرا دھوپ چھوڑ کر کھڑے ہو جائیے‘‘۔ سکندرِ اُس کے جواب پر بہت خوش ہوا اور بولا:’’اگر مَیں سکندر نہ ہوتا تو دیو جانس بننا پسند کرتا‘‘۔ جب سکندرِ اعظم نے دُنیا فتح کر لی اور واپسی کا قصد کیا تو راستے میں دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ دیو جانس کو جب خبر ملی تو اُس نے کہا ’’اگر انسان اپنی خواہشوں کو محدود کرلے تو ایک مٹی کا ٹب بھی اُس کے لئے کافی ہے اور خواہش بڑھائے تو ساری دُنیا فتح کر کے بھی اُس کی ہوس ختم نہیں ہوتی‘‘۔سکون اضطراب کی ضد ہے، خواہشیں اضطراب کو جنم دیتی ہیں۔ قناعت پسندی انسان کو خواہشوں کا غلام بننے سے بچا لیتی ہے۔

ارشاد نبوی ؐ ہے:’’امیری سازو سامان کی کثرت سے نہیں، بلکہ حقیقی امیری اور دولت مندی دل کی بے نیازی ہے‘‘۔ (بخاری کتاب الا باب15)

انسان کا نفس یا ایگو اُس کے سکون کے سب سے بڑا دشمن ہیں۔ ایگو یا نفس ایک سراب ہے جس کو انسان اپنی اصل ذات سمجھ لیتا ہے۔ کشف المحجوب میں نفس کو تمام شر اور برائی کا سرچشمہ بتایا گیا ہے۔۔۔ارشاد ربانی ہے: جس نے نفس کو خواہش سے روکا بے شک جنت اس کا مسکن ہے۔۔۔ اشفاق احمد صاحب نے نفس کی تعریف یہ کی ہے کہ یہ انسانی وجود کے اندر ایک ریگولیٹر کا کام کرتا ہے اور وہ اپنی مرضی کے ساتھ وجود کے اُتار چڑھاؤ، گرمی سردی، مزاج مقرر کرتا ہے۔ یہ انسان کو بتاتا رہتا ہے کہ تو میری مرضی کے مطابق کام کر۔

ایگو یا نفس انسان کی ’’مَیں‘‘ کو ابھارتا ہے۔ وہ اپنی ذات کی محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔علم نفسیات میں اس کو نرگسیت کہا گیا ہے۔ انسان کی ایگو یا ’’مَیں‘‘ اس کو ایسی ریس میں شامل کر دیتا ہے، جس میں جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے وہ رُک نہیں سکتا۔ ’’مَیں‘‘ انسان اندر کی آواز بن کر اُس سے بات کرتا ہے۔ یہ اندر کی آواز اُس کی اصل ذات سے منسلک نہیں ہوتی۔ اُس کی اصل ذات اُس کی روح سے وابستہ ہے۔اس لئے انسان کو سکون حاصل کرنے کے لئے اپنی اندر کی اصل آواز کو پہچاننا پڑے گا۔ نفس یا ایگو (مَیں) انسان کو دنیاوی لذتوں اور عیش و عشرت کا خوگر بنا کر اُسے دھوکہ، فریب، حسد، بددیانتی، شہرت پرستی اور اسٹیٹس کے الجھاووں میں الجھا دیتا ہے۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں انسانیت تیزی سے تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔انسان کی اپنی ’’ذات‘‘ یا ’’مَیں‘‘ غیر معمولی طور پر اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔اپنی خواہشوں کو پورا کرنے کے لئے انسان دوسروں سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے لئے اپنے جذبات،احساسات تو بہت اہمیت کے حامل ہیں، مگر دوسروں پر بے جا تنقید اور مضحکہ اڑانا ہمارے لئے ذرا مشکل نہیں ہے۔ دوسروں پر نکتہ چینی اور عیب جوئی بہت آسان ہے، مگر اپنے بارے میں کچھ سننا بہت مشکل۔اپنے حقوق سب کو یاد ہیں،مگر اپنے فرائض۔۔۔؟

وائن ڈبلیو ڈائر ایک مشہور سائیکو تھراپسٹ ہیں۔ انہوں نے روحانی سکون کو ہی زندگی کا حاصل سمجھا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’ ایگو یا نفس ہی انسان کی بے چینی اور پریشانی کا سبب ہے۔ اِسی طرح مغربی مفکر گھامس برٹن کہتے ہیں: ’’پریشانی اور بے چینی روحانی عدم تحفظ کی علامت ہے‘‘۔ اپنی اصل ذات کو جاننے اور سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم دن کا کچھ حصہ اپنے ساتھ وقت گزارنے کے لئے نکالیں اور غورو فکر کریں۔ حضور اکرم ؐ کا ارشادِ گرامی ہے:’’ایک لمحے کا غورو فکر پورے سال کی عبادت سے بہتر ہے‘‘۔ بابا بلھے شاہ نے یہ بات کتنے خوبصورت طریقے سے ہمیں سمجھائی ہے۔

پڑھ پڑھ عالم فاضل ہو یوں

آنپڑے آپ نوں پڑھیا ای نیءں

اُنج تے روز شیطان نال لڑنا ایں

نفس آنپڑے نال لڑیا ای نیءں

روز آسمانوں اڈدے پھڑیں

چڑا گھر بیٹھا اونوں پھڑیا ای نیءں

ترجمہ: تم کتابیں پڑھ پڑھ کر بڑے عالم بن بیٹھے ہو، مگر تم نے اپنے اندر کو پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ تم ہر روز شیطان کے ساتھ لڑ رہے ہوتے ہو، لیکن کبھی اپنے نفس کے ساتھ لڑنے کی کوشش نہیں کی(جو سب سے بڑا دشمن ہے) تم ہر روز زمین سے آسمانوں کے درمیان اڑنے والے شیطان کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہومگر جو شیطان گھر بیٹھا ہے اُس کو نہیں پکڑتے۔ آیئے مل کر غورو فکر کرتے ہیں کہ دِلوں کا سکون انسان کیسے حاصل کر سکتا ہے۔؟ بہت سے مغربی مفکرین بھی اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صرف مادی ترقی انسان کو بہت سے نفسیاتی، جذباتی، جسمانی اور روحانی مسائل میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اس سے بچنے اور پُرسکون زندگی گزارنے کا ایک ہی طریق ہے اور وہ ہے۔’’مَیں سے تو کا سفر‘‘ اختیار کرنا۔ اپنی اصل ذات کو پہچانئے۔ جب آپ اپنی اصل ذات کو پہچان جائیں گے تو ایک ہی آواز آئے گی۔

’’دردِ دل کے واسطے پیدا کیا، انسان کو

ورنہ اطاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں‘‘

ایگو ہماری اندر کی آواز بن کر آپ سے مخاطب ہوتا ہے، جب تک آپ اپنی اصل ذات اور ایگو کی آواز میں فرق نہیں سمجھیں گے۔ بے سکونی آپ کا مقدر ہو گی۔

مزید :

کالم -