پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ خواتین بل کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں

پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ خواتین بل کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں
پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ خواتین بل کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں

  

آخری قسط :

اسلام میں تو طلاق کے بعد بھی عورت کو مرد سے اتنا دور نہیں کیا گیا جتنا اس بل میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔بلکہ وہاں توکئی معاملات میں مشاورت کی اجازت دی گئی ہے ،تاکہ باہمی معاملات احترام سے سدھریں اور بگڑنے کی بجائے گھریلو مشاورت سے حل ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(اَسکِنُوْھُنَّ مِن حَیثُ سَکَنْتُمْ مِن وُّجْدِکُمْ وَلَا تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ وَاِنْ کُنَّ اُوْلَاتِ حَمْلٍ فَاَنفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ فَاِن اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ وَاْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗ اُخْرٰیm لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰہُ اللّٰہُ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰہُ سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا) (الطلاق 7-6)

ترجمہ:’’ تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی۔ کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا۔‘‘

حتیٰ کہ والدین کو بھی اسی خانے میں رکھا گیا ہے۔جو اسلامی منشا ء کے سراسر خلاف ہے۔اس بل کے تحت اگراین جی اوز کی نظر میں متاثرہ خاتون کے والدین بھی شوہر کی طرف سے صلح کا پیغام لے کر آئیں ،انہیں بھی دور ہی رکھاجائے گا اور اس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی کہ انہیں ملنے دیا جائے یا نہیں؟حقیقی وا ر ثان سے بذریعہ قانون دوری اسلام کے دئیے گئے حق نگرانی اور حق ولایت کے خلاف ایک قانونی وحکومتی عمل ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کی صریح مخالفت کے سوا کچھ نہیں ۔

بل کے سیکشن سات کے سب سیکشن ڈی کے تحت درج ہے کہ: مدعاعلیہ کو 24 گھنٹے کے لئے جی پی ایس ٹریکر والا کلائی یا ٹخنے کا کڑا پہنایا جائے۔

مرد ایک نگران کی حیثیت رکھتا ہے [کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیتہ] والی حدیث کے تحت ایک مرد سربراہ اپنے ماتحت مردوں اور عورتوں کا ذمہ دار ہے۔ اصلی اور جعلی ووٹوں سے منتخب ایک ملکی وزیر اعظم (جوملک کا نگران ہوتا ہے)کو نگرانی سے ہٹاکر بیڑیاں ڈالی جائیں ،اور پھر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے تو آئین پاکستان چیخ اٹھتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت یہ ملکی آئین سے غداری ہے۔ ایک گھر کی خاندانی سلطنت کے نگران کو سلطنت سے باہر اس حالت میں نکالا جائے کہ کلائی یا ٹخنے میں کڑا لگا ہو تو یہ اسلام کے معاشرتی نظام کے تحت غداری کیوں نہیں؟ مغربی معاشروں میں یہ کلائی یا ٹخنے کاکڑا عموماً پیرول پر رہائی پانے والے شخص کی نگرانی کے لئے پہنایا جاتا ہے ۔اور یہاں گھریلو مردوں پر نظر رکھنے کے لئے،کتنی مضحکہ خیز حرکت ہے۔

* ۔۔۔بل کے سیکشن آٹھ کے سب سیکشن (ڈی ) میں ہے ۔ریلیف ،حفاظت اور بحالی کے لئے متاثرہ شخص(بیٹی ،بیوی ،ماں،بہن ،بالغ یا نابالغ لڑکی ) کو گھر سے شیلٹر ہوم میں منتقل کیا جائے گا۔

شیلٹر ہوم کے تصور کی بجائے گھر کے نظام کو مزیدمؤثر کرنا چاہیے تھاتا کہ معاملہ گھر سے نکلے ہی کیوں۔میاں بیوی کے درمیان گھریلو معاملات کی درستگی کے لئے سرکار کو زیادہ سے زیادہ سرکاری سطح پر ایک بندہ شوہر کے گھر والوں سے اور ایک لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے مقرر کرنا چاہیے اور انہیں بیٹھ کر صلح صفائی سے معاملے کو کسی نہج تک پہنچاناچاہیے ۔اور اگر بیوی کے علاوہ معاملہ بہن ،بیٹی یا ماں کا ہے تو باقی رشتہ داروں کو اس معاملے میں شامل کر واکر حل کروانا چاہیے۔ تاکہ گھر کا معاملہ گھر میں ہی حل ہو جائے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

(وَاِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِن یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا) (النساء 35)

ترجمہ:اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف شخص کو عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں میں موافقت کر دے گا

شیلٹر ہوم میں محرم اور غیر محرم کا تصور ہی نہیں ہوگااور شرعی ولی اور وارثوں کو بالکل ہی دور کر دیا جائے گا۔ دراصل بادی النظر میں ولی کے اسلامی اختیارات کو بالکل ختم کرنے کی جانب قدم بڑھایا گیا ہے،۔ اسلامی تعلیمات میں تو مرد کے فوت ہوجانے یا طلاق کی صورت میں بھی عورت کو گھر سے کسی اورجگہ نکالنے پر پابندی ہے۔جبکہ یہاں جھوٹی کال پر بھی گھریلو نگرانوں سے پوچھے بغیر اغوا کیا جا رہا ہے۔جب کسی معاملے کے حل کے لئے عبارۃ النص قرآن یا حدیث رسول ﷺ میں موجود ہو ،تو اسے چھوڑ کر اپنی خواہش کے مطابق اسی معاملے کے حل کے لئے کوئی نئی صورت سامنے لے آنا اسلام کی مخالفت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔اسلام اور گھریلو خواتین مخالف بل کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

*۔۔۔بل میں داخلہ کا اختیار سیکشن 15 کے سب سیکشن ایک میں درج ہے کہ: ضلعی تحفظ خواتین آفیسر یا تحفظ خواتین آفیسر کسی بھی وقت ،کسی بھی جگہ یا گھر میں داخل ہو سکتے ہیں۔مگر آفیسر یا سرکاری نمائندے متاثرہ شخص کو اس کی اجازت سے ہی ریسکیو کریں گے۔ یہ سیکشن چادر ،چار دیواری اور پرائیویسی کے تحفظ کو پامال کرتا ہے اور جبکہ اسلامی تعلیمات میں تو گھر کے افراد کو بھی گھر میں داخل ہوتے وقت اجازت کی تلقین کی گئی ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسَتَأْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلآی اَھْلِھَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ ّ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ) (النور 27)

ترجمہ:اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘

اور ایک حدیث رسول ﷺ میں ہے کہ :

[الاستئذان ثلاث فان اذن لکم والا فارجع] (مسلم شریف 2153)

ترجمہ:اجازت تین بار ہے ،اگر اجازت دی جائے تو(ٹھیک) وگرنہ لوٹ جاؤ۔

سب سیکشن 2 یا 3 میں اگرچہ برائے نام سربراہ گھر کو نوٹس دینے کا کہا گیا ہے، مگر اجازت نہ ملنے پر کھڑکیاں دروازے توڑنے کی دھمکی اور بھاری جرمانے کے ڈراو ے دے کر اس نوٹس کی بے اہمیتی کو بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ یعنی جب کسی کا دل چاہے گا، وہ بلا وارنٹ گھر میں داخل ہو سکے گا۔ جو چادر اور چار دیواری اور شرف انسانی اور گھر کی خلوت کی حرمت کی پامالی کا باعث ہو گی۔

یہ بات آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے بھی خلاف ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل چودہ کے سیکشن1 میں درج ہے۔ ’’شرف انسانی اور قانون کے تابع ،گھر کی خلوت قابل حرمت ہوگی

آئین پاکستان کی دفعا ت 8 تا28عورتوں کے تمام حقوق کا احاطہ کر رہی ہیں جن پر عملدرآمد سے معاشرے میں خواتین کو بہترین مقام دلایا جاسکتاہے مگر ان پر عمل کرنے کی بجائے نیا مغربی طرز کا قانون بنانے کی ضرورت سوائے اغیار کو خوش کرنے کے اور کیا سمجھی جا سکتی ہے۔ بل عورت کے لئے مفید ہو گا یا نقصان دہ ،ذرا سوچئے!

جیل جانے اور پولیس والوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد کسی مرد کا دل نہیں چاہ رہا کہ وہ دوبارہ گھر آکر اس بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے یا مطیع و فرمان بردار بن کر رہے۔ لہٰذا حکومت کوغور کرنا چاہیے کہ جس تشدد سے بچانے کے لئے اور عورت کے تحفظ وناموس کے لئے اس بل کو منظور کیا گیا ہے ،کہیں اس نے عورت کو غیر محفوظ تو نہیں کر دیا؟

*۔۔۔اصل مسئلہ اسلامی تعلیم وتربیت کا فقدان اور اخلاقیات سے محرومی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات تشدد کے واقعات ہوتے ہیں جو ظلم کے دائرے میں آتے ہیں لیکن ایسا صرف مرد ہی کی طرف سے نہیں‘ بلکہ عورت کی طرف سے بھی مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے صرف مرد ہی کو ذمہ دار ٹھہرا کر صرف عورت ہی کی داد رسی کے لئے قانون سازی کرنا عورت کو مزید سرکش بنانا ہے۔ یہ مرد کی غیرت وقوامیت کے خلاف ہے۔ اس کا اصل حل، محلوں کی سطح پر‘ پنچائتی نظام کا قیام ہے۔ (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا) جو فوری طور پر فریقین کی باتیں سن کر فیصلہ کرے۔ ان کو مناسب اختیارات بھی دیئے جا سکتے ہیں تا کہ حتی الامکان عدالتی چارہ جوئی تک نوبت نہ آئے جو ہمارے ملک میں مہنگی اور لمبی ہے۔ جہاں تک تشدد کے حقیقی واقعات کا تعلق ہے ان کا ازالہ اور ان کی سزا کے لئے فوجداری قوانین پہلے ہی موجود ہیں۔ نئے متنازعہ بل کی بجائے ان کا نفاذ ہی کافی ہے۔

*۔۔۔علاوہ ازیں اس کے لئے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے کو بھی سخت جرم قرار دیا جائے۔ بیک وقت تین طلاقیں لکھ کر دینے والے عرضی نویسوں،وکیلوں کو بھی مجرم قرار دیا جائے تا کہ لوگ شرعی طریقے سے صرف حالت طہر میں بغیر صحبت کئے صرف ایک طلاق دیں۔ صرف اس ایک اقدام ہی سے پچاس فی صد گھریلو جھگڑے آسانی سے حل ہو سکتے ہیں یا وہ تباہی سے بچ سکتے ہیں۔

*۔۔۔وراثت میں عورت کو محروم کرنے کی بابت بھی سخت قوانین بنائے جائیں۔

جہاں تک ہمارے معاشرے میں عورتوں پر تشدد کا تعلق ہے تو اس کی وجوہات جانے بغیر یک طرفہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمارے نزدیک بل کی تیار ی میں ایک ماڈرن مغرب زدہ عورت کو سامنے رکھاگیا۔ جس میں مرد کے حقوق اور اس کی شرعی فوقیت بری طرح نظرانداز کی گئی ہے۔ اس کی ہر ہر شق عورت کے ارد گرد گھومتی اور مرد کو دی گئی دینی اور آئینی برتری تو کجا اس کے شرعی حقوق کو بھی دبا دیا گیا ہے۔اس بل کی شقوں کے بغور مطالعہ کے بعد مردوں کے حقوق کے لئے ایک الگ بل کی ضرورت کا احسا س جنم لے رہا ہے۔

اس میں اکثر سزائیں عدالت کی صوابدید پر چھوڑی گئی ہیں۔ ان کے لئے مناسب شہادت کا اہتمام ہے اور نہ ذکر۔ لہٰذا کرپشن کے نتیجے میں عدالت کوئی بھی حکم صادر کرسکتی ہے۔ ہم اس یکطرفہ بل کو مسترد کرتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بنایا گیاہے۔

مزید :

کالم -