قندوز سے دوما تک

قندوز سے دوما تک
قندوز سے دوما تک

  

شکر ہے ہمارے بچے محفوظ ہیں، ہماری دعا ہے وہ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیں۔ ملالہ بھی ہماری بچی ہے، اسے ایک گولی لگی تھی۔ اس کی تعلیم کیلئے جدوجہد اور اس کے نتیجے میں لگنے والی گولی تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گی۔

لیکن یہ قندوز میں مارے جانے والے کسی کے بچے نہیں تھے۔ تعلیم وہی ہے جس میں اے امریکہ اور بی برطانیہ ہے۔ مدرسوں میں تعلیم ایک بے معنی عمل ہے۔

کہتے ہیں قندوز میں شہید ہونے والے بچے مدرسے کے کانوو کیشن میں شریک تھے، بیشتر بچے قرآن حفظ کرکے مدرسے سے پاس آؤٹ ہونے تھے اور عین اس وقت جب کانووکیشن تکمیل کے مراحل میں تھا، امریکہ نے ڈرونز حملہ کر دیا، کھیل ختم۔

سینکڑوں بچے مارے گئے، شہدأ کی ویڈیوز پوری دنیا میں وائرل ہوئیں۔ معصوم چہرے جیسے سب کے بچے ہوتے ہیں، لیکن خون میں لت پت، زخم زخم، اب یہ کوئی ملالہ تو تھی نہیں کہ یورپ کانپ اٹھتا، امریکہ اسے تعلیم پر گہرا وار قرار دیتا، یورپی یونین اقتصادی پابندیوں پر غور کرتا، اقوام متحدہ اس ظلم و ستم پر خصوصی اجلاس طلب کرتا، یہ افغانستان کے شہر قندوز کے بچے تھے، جن کا شاید انسان یا انسانیت سے کوئی تعلق نہ تھا، وہ سب دہشت گرد تھے، وہ بچ جاتے تو انسانیت کو بھاری نقصان ہوتا۔

ہمیں امریکہ کے اس بیانیے کو تسلیم نہیں کرنا، اس بیانیے کو اپنی زبان میں بار بار ادا کرنا ہے، ورنہ گائیڈڈ ڈرونز مس گائیڈڈ بھی ہوسکتے ہیں، افسوس جرم ضعیفی کی سزا ہمارے بچوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔

امریکہ کے مطابق یہ بچے دہشت گرد تھے، ان کا مارے جانا ضروری تھا۔ ہمیں امریکہ کا موقف تسلیم کرنا پڑے گا، کیونکہ باس از آل ویز رائٹ۔ ویسے بھی مسلمانوں کا خون کون سا اتنا قیمتی ہے۔

عراق ہو، مصر ہو، لیبیا ہو، کشمیر ہو، فلسطین ہو، شام ہو، افغانستان ہو، پاکستان ہو، اس کے خون کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب امریکہ نے قندوز میں جو کام دکھانا تھا، دکھا دیا۔ بچ جانے والے بدلہ لینے کے لئے نکلیں گے۔

وہ امریکہ نہیں جاسکیں گے۔ چاند گرہن کتوں پر بھاری ہوتا ہے، کالم لکھ رہا تھا تو خبر آئی فلسطین میں اسرائیلی بمباری سے درجنوں فلسطینی بچے شہید ہوگئے ہیں، میرا قلم رک سا گیا۔

ان بچوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ پھر بریکنگ آگئی، شام اور روسی طیاروں کی بمباری سے دوما میں درجنوں بچے شہید ہوگئے ہیں۔ میرے لکھے لفظوں کو شہادت مل گئی۔ مسلمانوں کا خون ارزاں نہیں، بے قیمت بے وقعت ہے۔

دوما پر بمباری ہو، قندوز میں معصوم بچوں کو قتل کیا جائے یا فلسطین میں بچوں کی نسل کشی ہو یا یمن میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جائے۔ اس خون کا اور ان انسانوں کے مرنے کا اقوام عالم یا اقوام متحدہ سے کوئی تعلق نہیں اور ہاں ان کا مسلم امہ او آئی سی یا مسلم قیادت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

یہ امریکہ ہے وہ مارتا بھی ہے اور باقی مسلم قیادت کو جتا بھی دیتا ہے کہ اگر وہ اپنے حرموں، سوئس اکاؤنٹس، نائٹ کلبس، مے فیئر فلیٹس، ریالوں، ڈالروں، درہموں سے باہر نکلے تو اسے صدام بنا دیا جائے گا۔ اسے بھٹو بنا دیا جائے گا، قذافی، فیصل بنا دیا جائے گا۔ چھوڑیں امریکہ، یورپ اور اسرائیل کو مجھے بتائیں۔

دوما میں مارے جانے والے بچے اگر مسلمان ہیں تو انہیں کون مارتا ہے۔ مجھے بتائیں شام میں مارے جانے والے بچے کس کے ہیں؟ مجھے بتائیں کیا یمن کے بچوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مصنوعی قیادت کا بیج بونے، فصل بنانے میں۔آج عالم اسلام ایک فٹ بال ہے، کیونکہ فٹ بال اوپر سے گول گول اور محفوظ جبکہ اندر سے خالی ہوتا ہے۔

فقط ہوا بھری ہوتی ہے، اسے کک ماریں تو بہت دور تک اچھلتا ہے۔

کس کس کا نوحہ لکھوں گا۔ قندوز، فلسطین، کشمیر، یمن، دوما میں شہید ہونے والے بچوں کا یا اسلامی قیادت کا، جنہیں اپنے اردگرد خون کی بو محسوس نہیں ہوئی۔ ہمارے روحانی سرداروں کا جو آپ ایک غیر محسوس انداز میں اسلامی امہ کی نسل کشی پر خاموش ہیں بلکہ اس کا حصہ ہیں۔

پاکستان اسرائیل کو نا تسلیم کرکے سزا بھگتے اور جن کے پیچھے ہم ہاتھ باندھ کے کھڑے ہیں، وہ اسرائیل کو تسلیم کریں، اس کے حق میں بیان دیں، اس تک طیارے پہنچانے کیلئے اپنی فضا دیں، وہ دھرتی جہاں کے تاجدار عالمؐ نے اپنے عمل اور اپنے کردار سے بت گرائے۔

وہاں جدید ترین مندر بنائے جا رہے ہیں اور خود گیروے کپڑوں اور ماتھے پرتلک لگا کر نمستے ہو رہے ہیں اور تو اور جدید ترین تاش کلب کھولے جا رہے ہیں اور ان کا افتتاح کون کر رہا ہو؟؟؟ دل ڈرتا ہے جب آنے والا وقت سوچتا ہوں، ہر طرف سے دھواں، بارود، چیخوں، سسکیوں کی آوازیں بلند ہوتی محسوس ہو رہی ہوں، الاماں الاماں کی سسکیاں۔ عالم اسلام تباہی کی طرف جا نہیں رہا، اس کا شکار ہوچکا۔ اب ہم مسلمان کم اور شیعہ سنی زیادہ ہیں، کافر ہمیں مسلمان اور ہم ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں۔

ہماری قیادت کو اقتدار کی کشمکش اور دولت کی حرص میں پھنسا دیا گیا ہے۔ ہم ایک بزدل قوم بن گئے ہیں، جو امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کھربوں روپے کا اسلحہ خریدتی ہے اور ایک دوسرے کو مارنے کیلئے استعمال کرتی ہے۔ افسوس ہم نے ہیروز جننے، مفکر پیدا کرنے بند کر دئیے۔ ہم آہستہ آہستہ موت کو اپنی سمت بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔

خلیج سے اٹھنے والا خون کا طوفان پوری مسلم امہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا۔ ہنری کسنجر نے کہا تھا ہم نے ہر حال میں تیل پیدا کرنے والے ممالک پر قبضہ کرنا ہے، وہ کامیاب ہوچکے اور ہم اقتدار کی شطرنج کھیلنے ، اپنی کھال بچانے، امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ بھول رہے ہیں کہ آندھی کے جھکڑ کسی کے دوست نہیں ہوتے، دئیے سب کے بجھنے ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم