جھوٹی ایف آئی آر اور جعلی مقدمات ختم کئے جائیں

جھوٹی ایف آئی آر اور جعلی مقدمات ختم کئے جائیں
جھوٹی ایف آئی آر اور جعلی مقدمات ختم کئے جائیں

  

میرا تعلق پسماندہ علاقے سے ہے، جس کی وجہ سے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ پسماندہ علاقوں اور دیہات میں تھانہ کچہری کا کتنا عمل دخل ہے۔ دیہاتی کلچرل میں پولیس انسپکٹر تودور کی بات ایک گاؤں میں کانسٹیبل بھی پورے گاؤں کو تگنی کا ناچ نچا دیتا ہے ،کیونکہ وہ ہر طرح کے قانون سے بالا تر ہوتا ہے ۔

ہمارے ہاں طاقت جتنی بھی میسر ہو جائے اس کا جائز استعمال تو ہو سکتا ہے متعلقہ طاقتور کو شاید معلوم ہی نہ ہو،جبکہ اس کا ناجائز استعمال اس کے تمام گھر والوں کو معلوم ہوتا ہے ۔اس استحصالی نظام کا آخر حل کیا ہے؟کیا یہ نظام اسی طرح پنپتا رہے گا اور ملک میں جو بھی بر سر اقتدار ہواس کا کوئی نہ کوئی سواتی غرباء کو اپنی طاقت دکھاتا رہے گا۔ملک میں طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہمارے دانشور دبے لفظوں میں نظام عدل کو ان خرافات کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔

نظام عدل پر ملک کے صدر سے لے کر چپڑاسی تک کے تحفظات ہیں، مقدمات کا ساٹھ ساٹھ سال بعد فیصلہ ہوتا ہے ۔دادے نے کیس کیا تھا نہ صرف وہ خالق حقیقی کے پاس سدھار گئے،بلکہ ان کا بیٹا بھی خالق حقیقی سے جا ملا ۔شکر باری تعالیٰ کہ پوتے نے آخر کار کیس جیت ہی لیا۔سولہ سولہ سال بعد پتا چلتا ہے کہ ملزم تو بے گناہ تھا، لیکن سولہ سال سے جیل میں گل سڑ گیا ہے اور جوانی میں گیا تھا ۔

بوڑھا ہو کر بے گناہ ثابت ہوا۔میڈیا میں خبر آتی ہے پوری قوم سوگوار ہوتی ہے عزے مآب چیف جسٹس صاحب بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور نظام بدلنے کا عندیہ دیتے ہیں ۔ملک کے طول و عرض میں دانشور بھی متحرک ہوتے ہیں جوڈیشل اصلاحات کی بات آتی ہے ،قانون سازی کی باتیں ہوتی ہیں،عدلیہ عدل میں تاخیر کا جواز ججز کی تعداد پوری نہ ہونا بتاتی ہے اور ایک ایک جج محترم پر ہزاروں مقدمات کا بوجھ ہونے کو وجہ ٹھہراتی ہے۔

میرے نقطہ نظر میں ججز کی تعداد،مقدمات کا بوجھ،نئی عدالتوں کا قیام،وکلاء کا مقدمات کو طول دینا وغیرہ وغیرہ سب بے معنی باتیں ہیں ۔ہمیں مقدمات کی بھر مار کی اصل وجوہات کا تدارک کرنا ہو گا ۔ہمیں عدلیہ میں ججز کی تعداد زیادہ کرنے کی بجائے تھانوں اور اپنی سوسائٹی میں جعلی اور جھوٹے مقدمات کا تدارک کرنا ہو گا ،ہماری سوسائٹی میں بد قسمتی سے جعلی ایف آئی آر درج کروانا یا جھوٹا سول دعویٰ دائر کرنا تو اچنبھے یا حیرت کی بات سمجھی جاتی ہے ۔

ہمیں جھوٹی و جعلی ایف آئی آر اور جھوٹے سول دعوؤں کو روکنا ہو گا۔ نہ تو جھوٹی ایف آئی آر کرنے والے کے لیے کوئی ایسی سزا قانون میں موجود ہے جس سے وہ خوف کھائے کہ جھوٹی ایف آئی آر اثابت ہونے کے بعداسے قید یا بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسی طرز کی کوئی سزا جھوٹے سول کیس کے سلسلے میں نظر آتی ہے۔1860پی ڈی سی کا بوسیدہ قانون جھوٹی ایف آئی آر پر دفعہ 182 کے تحت کاروائی کا قانون ہے جو شخصی ضمانت پر ختم ہو جاتا ہے ،دوسرا قانون ہتک عزت کا دعویٰ ہے جو آج تک پروان نہ چڑھ سکا۔

پولیس آرڈر 2002ء کے تحت آپریشن اور انوسٹی گیشن کو الگ الگ کر دیا گیا،جس پر تھانے کے ایس ایچ او کے وارے نیارے ہو گئے ،وہ سفارش یا رشوت لے کر کوئی بھی ایف آئی آر درج کروا دیتا ہے اور معاملہ انوسٹی گیشن کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔شکایت کرنے پر اعلیٰ حکام بھی ایس ایچ او کو نظر انداز کر کے انوسٹی گیشن والوں کو میرٹ کرنے کا کہہ دیتے ہیں، 30فیصد سول مقدمات بھی بے نامی ہوتے ہیں، یعنی کہ دعوے دار اپنے مخالف کا نہ تو پتہ دیتا ہے ،نہ ہی شناختی کارڈ نمبراور نہ ہی اس کا موبائل نمبر صحیح درج کرتا ہے تا کہ اس کے بغیر ہی ایکس پارٹی آرڈر لے سکے ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کا کسی کے ساتھ جائداد کا جھگڑا ہے ،آپ کا زمین کا لین دین ہے یا آپ کا معاہدہ ہوا ہے، لیکن آپ اس کا ایڈریس ،موبائل اور شناختی کارڈ نمبر نہیں جانتے ۔

مزے کی بات یہ کہ دعوے دار سول کیس کے ساتھ بیان حلفی جمع کرواتا ہے کہ مَیں نے جو معلومات دی ہیں ان میں کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی اور اس سے بھی مزے کی بات یہ کہ جب ایکس پارٹی فیصلہ لینے کے بعد کسی کا پلاٹ ،مکان یا جائداد چھن جاتی ہے تو وہ متعلقہ کورٹ سے رجوع کرتا ہے اور جج محترم کو بتاتا ہے کہ مجھے جان بوجھ کر پوشیدہ رکھا گیا ۔

جعلی طلبیاں کی گئیں او ر مجھے بغیر سنے میری جائداد چھین لی گئی تو ہونا تو چاہئے کہ محترم جج جعلی طلبیوں والے اہلکار کو بھی گرفتار کروائے اور دعوے دار کو بھی اور اسی وقت اس کا مقدمہ خارج کر دے،لیکن یہی تو دلچسپ بات ہے کہ وہ مقدمہ بھی ساٹھ ساٹھ سال چلتا ہے ۔اگر وہ مقدمہ بیان حلفی جو کہ عدالت نے لیا ہوتا ہے کہ کچھ پوشیدہ نہیں رکھوں گا کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جاسکتا تو بھی اس بیان حلفی کی آخر ضرورت ہی کیا تھی۔ ہمارا نظام عدل تھانہ سے لے کر کچہری تک اسی طرح کے دلچسپ اور عجیب و غریب معاملات میں لپٹا ہوا ہو۔

فروری 2017ء میں ہماری قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی،جس میں خاص طور پر کرمنل کیسز میں جعلی معلومات دینے پر پانچ سے سات سال تک کی سزائیں تجویز کی گئیں، معلوم نہیں اس بل کا کیا ہوا اور وہ کہاں چلا گیا۔

نظام عدل کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں صرف جھوٹے مقدمات کی روک تھام کے لئے جائز اقدامات کرنا ہوں گے ۔نہ صرف وہ شخص جو جعلی و جھوٹا کیس کرتا ہے، بلکہ وہ ایس ایچ او جو جھوٹی ایف آئی آر کٹواتا ہے ،وہ اہلکار جو جعلی طلبیاں کرتا ہے اور وہ جج جو بیان حلفی کے جھوٹے ثابت ہونے پر مقدمہ خارج نہیں کرتا کو بھی سزائیں تجویز کرنی چاہیں تا کہ عدلیہ پر 60فیصد جعلی اور جھوٹے مقدمات کا بوجھ ہی ختم ہو جائے۔

آپ اندازہ کریں کہ اگر ایک شخص کو معلوم ہو ہ جھوٹے کیس کا انجام کیا ہو گا ،ایس ایچ او کو پتا ہو کہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے سے میری نوکری بھی جا سکتی ہے اور میں گرفتار بھی ہو سکتا ہوں ،جعلی طلبیاں کرنے والے اہلکار کو سزا کا خوف ہو اور جج صاحب صرف بیان حلفی کے جھوٹے ہونے کی تصدیق پر ہی مقدمہ خارج کر دے تو پھر ہمیں نہ تو عدالتیں بڑھانے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی عدالتوں میں ججز کی تعداد۔

مزید :

رائے -کالم -