ڈرنا نہیں، لڑنا ہے،”زندہ دلان لاہور“ نے کرونا کو شکست دے دی

ڈرنا نہیں، لڑنا ہے،”زندہ دلان لاہور“ نے کرونا کو شکست دے دی

  

بھٹو کی41ویں برسی، کرونا کی نذر، قرآن خوانی کہاں، یہ بھی علم نہیں

پیپلزپارٹی سپلیمنٹ چھپوا سکتی تھی، یہ بھی نہ کیا، روزنامہ ”پاکستان“ نے مضامین اور ایڈیشن شائع کیا

وزیراعظم نے پیش گوئی کر دی، کرونا ”رحمت“ تحریک انصاف کامیاب، اپوزیشن ختم، ہمت کرو!

زندہ دلان لاہور نے وزیراعظم کی ہدایت پر پوری طرح عمل کر کے دکھا دیا، وزیراعظم نے جو نعرہ دیا ہے کہ ”گھبرانا نہیں، کورونا سے لڑنا ہے“ تو لاہوریوں نے گزشتہ ہفتہ کے روز سے اب تک کورونا کو شکست دے دی ہے، انتظامیہ نے ہفتہ سے کچھ نرمی کی،دوکانیں بھی کھولنے کی اجازت دی، تو سڑکوں پر ایک دم ٹریفک بڑھ گئی،ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر میں 15سے25فیصد تک گاڑیاں اور شہری باہر نکلے، ان میں سے اکثریتی حضرات ماسک والے تھے، تاہم ضابطہ فوجداری کے تحت احکام پر عمل نہیں ہوا، موٹر سائیکلوں پر دو سے تین اور پوری پوری فیملی سفر کرتی رہی، اسی طرح گروسری سٹوروں پر بھی رش نظر آیا، محلوں میں فاصلے اور ماسک کی پرواہ نہ کی گئی تاہم بڑے گروسری سٹوروں کے باہر مرد و زن فاصلے رکھ کر قطاروں میں کھڑے نظر آئے، اس کے علاوہ شہر میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہوا، بھکاری حضرات ایک نئے انداز سے حملہ آور ہو رہے ہیں،اکثر ماسک لگائے گھروں کی گھنٹیاں بجاتے اور مانگتے ہیں، جبکہ بہت سے ہٹے کٹے لوگ ”کسیاں“ لے کر دیہاڑی دار مزدور بن گئے ہیں۔ انتظامیہ کے اراکین نے مرکزی سڑکوں پر ناکے لگا رکھے ہیں تاہم ٹریفک کو روکا نہیں جا رہا اور نہ ہی ڈبل سواری کی پابندی کرائی جا رہی ہے۔وزیراعظم کی گفتگو اور تقریروں سے ان مرد و زن نے از خود یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ کورونا کا خطرہ کم ہو گیا اور حکومت 14اپریل سے سہولتیں دینے جا رہی ہے۔ کنسٹرکشن کی صنعت کام کرے گی تو بعض برآمدی صنعتوں کو بھی کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ یوں یہ شہری لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

گھروں میں خود ساختہ قرنطینہ والے افراد بھی تنگ آ گئے ہیں اور اب ان حضرات نے اپنا وقت گذارنے کے لئے نئے شغل تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں۔اکثر محلوں میں لوگ تاش کھیل رہے ہیں، اور احتیاط نہیں کی جاتی کہ ہاتھ، میز، پتے سینی ٹائزر کئے جائیں اور ماسک پہن کر ذرا فاصلے سے بیٹھیں، اسی طرح سیر صبح والوں کی تعداد بھی نسبتاً بڑھی ہے۔بھینسوں اور بھیڑوں والوں نے اپنے جانور باہر نکال کر گھروں کی کیاریاں اور سرکاری گرین بیلٹوں کے پودے اور گھاس کھلانا شروع کر دی۔ پی ایچ اے نے محتاط انداز سے شجر کاری شروع کر دی ہے۔ اندیشہ ہے کہ اگر ان مویشیوں اور جانوروں کو روکا نہ گیا تو یہ ساری محنت اور اخراجات ان بھینسوں اور بھیڑوں کے پیٹ کی نذر ہو جائیں گے، جیسا کہ ہر سال ہوتا ہے۔

سیاست کے میدان میں تاحال ٹھنڈ ہے، حتیٰ کہ بھٹو کی41ویں برسی بھی خالی گئی، جیالوں نے یہ برسی فیس بک پر منائی، ایسی بھی کوئی اطلاع نہیں کہ اہم گھروں پر قرآن خوانی کی گئی ہو۔ البتہ بلاول بھٹو کی ایک تصویر وائرل کی گئی وہ اکیلے ہی ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے جیالوں نے اپنی پرانی تصاجویر فیس بک پر پوسٹ اور شیئر کی ہیں، جماعتی طور پر یہی بتایا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری نے خود منع کیا کہ صرف سادگی سے کام لیا جائے، فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی گھروں میں کی جائے۔یوں کئی سال بعد گڑھی خدا بخش میں سالانہ جلسہ نہ ہوا اور جیالوں کا اکٹھ نہ ہو سکا۔

وزیراعظم عمران خان ایک روز کے لئے لاہور آئے اور گورنر ہاؤس لاہور میں جماعتی رہنماؤں، وزراء،وزیراعلیٰ اور گورنر پنجاب کی موجودگی میں ”کورونا فنڈ ریزنگ“ والے اجتماع سے خطاب کیا۔ انہوں نے یہاں جو تقریر کی، اس میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ کورونا وائرس کی وبا ان کے دورِ اقتدار میں آئی۔انہوں نے اپنے اراکین اور کارکنوں سے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو عوامی خدمت ہو گی وہ تحریک انصاف کے حق میں جائے گی، آپ لوگ (وزرا، اراکین، ٹائیگر فورس+ کارکن) عوام کی خدمت کر کے اپنی اپنی نشست پکی کر لیں۔ انہوں نے یہ یقین بھی ظاہر کیا کہ اپوزیشن منہ دیکھی رہے گی اور اس کا اب کوئی چانس نہیں۔ تاہم یہ امر کچھ عجیب محسوس ہوا، وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ کورونا کب تک چلے گا، کچھ اندازہ نہیں،ان کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دیر تک چلتا رہے گا اور مزید سخت وقت آئے گا،اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ دیر صنعتیں بھی بند نہیں رکھی جا سکتیں۔ان کے کہنے سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ 14اپریل کو جائزہ لے کر صنعتوں کے اجراء کا فیصلہ کیا جائے گا۔وزیر ریلوے شیخ رشید بھی کہتے ہیں کہ اجازت مل گئی تو 15 اپریل سے ٹرینیں چلائیں گے،حفاظت اور احتیاط کا زبردست اہتمام کیا جائے گا۔اس اجتماع پر سابق صوبائی وزیر علیم خان نے دو کروڑ اور فیڈک کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے ایک کروڑ چندہ دیا۔

ادھر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی طرف سے عوامی ریلیف پیکیج کے طریق کار نے عوام کو مضطرب کر دیا ہے، حق دار تو بیٹھے رہ گئے ہیں،لیکن ہوشیار حضرات نے ویب سائٹوں پر بھی بھرمار کر دی،اب تک اندازے سے کہیں زیادہ رجسٹریشن ہو گئی جو کروڑ تک پہنچنے والی ہے۔یہ طریق کار مناسب نہیں رہا کہ سفید پوش بہت زیادہ پریشان اور دیہاڑی دار کو بھی امداد نہیں ملی، عوام کے مطابق بلدیاتی نظام ہی بہتر تھا، اس میں 15 سے20فیصد اقربا پروری ہوتی تاہم80فیصد حق دار مستفید ہو جاتے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -