چینی، گندم، آٹا سکینڈل، جن بوتل سے باہر آ گیا، بند نہیں ہوگا

چینی، گندم، آٹا سکینڈل، جن بوتل سے باہر آ گیا، بند نہیں ہوگا

  

وزیراعظم نے کابینہ میں تبدیلیاں کیں، بابر اعوان کو اہم عہدہ مل گیا

جہانگیرترین، اعظم خان میں کھٹ پٹ تھی، اب 25اپریل کا انتظار

چینی،گندم اور آٹا بحران کے سکینڈل کا پنڈورا بکس کھل گیا ہے، بلکہ بوتل سے جن باہر آ گیا ہے جسے اب واپس بوتل میں ڈالنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ دارالحکومت میں چینی، گندم اور آٹا بحران کے حوالے سے انکوائری رپورٹ ایک ایسا سیاسی گردباد بنتی نظر آ رہی ہے جس نے نہ صرف حکومت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،بلکہ پاکستان کے سیاسی نقشہ پر بھی تبدیلیوں کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں،حتیٰ کہ کورونا کا مہلک اور میب ایشو بھی وقتی طور پر اس گرد باد میں دبتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ درحقیقت تقریباً دو ماہ قبل ہی ایک سول اعلیٰ تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں بھی چینی، گندم اور آٹے کے سکینڈل میں ملوث جن شخصیات کی نشاندہی ہوئی تھی، جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ میں بھی حکومت میں شامل انہی سیاست دانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے،تاہم وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ابتدئی رپورٹ پر جو سوالات پوچھے گئے تھے ان کے نتیجے میں حالیہ رپورٹ کا احاطہ وسیع ضرور ہو گیا ہے،جس کے نتیجے میں لگتا ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں حکومتی شخصیات کو ذمہ دار ٹھہرانے کی سنگینی کو کم کرنے کی غرض سے ماضی کے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ادوار کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت شاید ابھی حتمی فرانزک رپورٹ جو کہ ایک کمیشن کی طرف سے25اپریل کو متوقع ہے کا انتظار کرتی،لیکن بعض ”دیگر ذرائع“ کی جانب سے حالیہ رپورٹ لیک ہونا شروع ہو گئی،جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں خاصی بحث و تمحیص کے بعد حالیہ رپورٹ کو طشت ازبام کرنا مناسب سمجھا گیا۔تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت اقتدار کی ریشہ دوانیوں اور جھمیلوں میں شاید اتنی مصروف ہے کہ نہ تو کورونا وائرس کی ہولناک وبا کے خلاف وہ فوری اور موثر ردعمل دکھا سکی، جس کی ضرورت تھی اور جس کے نتیجے میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے بالآخر ریاست کے اہم ترین ادارے نے ازخود پُر کیا اور حکومت کو کورونا وائرس کے چیلنج کی سنگینی کا کسی حد تک ادراک کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح حکومت جس حکمت ِ عملی سے گندم، چینی اور آٹا سکینڈل کے چیلنج سے برسر پیکار ہے ایسا لگتا ہے کہ دارالحکومت میں سب اچھا نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر الزام ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے تو پہلے ہی سے دست و گریبان تھیں اس کے بعد نہ صرف میڈیا کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اب شاید حکومت اپنے حلیفوں سے بھی بگاڑ کی طرف جا رہی ہے،کیونکہ چینی انکوائری میں جس طرح شریف خاندان اور زرداری خاندان سے متعلق اومنی گروپ پر ملبہ ڈالنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا،بلکہ اس انکوائری کا دامن وسیع کر کے حکومت نے اپنے اہم ترین اتحادی چودھری برادران کو بھی شامل کر لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت سیاسی تنہائی کی طرف گامزن ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی اجازت سے ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو تو یہ رپورٹ جاری کرنا ہی تھی،لیکن محلاتی سازشوں کے ماحول میں چینی سکینڈل کے مبینہ مرکزی کردار جہانگیر ترین نے اپنے خلاف الزامات کا ملبہ وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان پر ڈال دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دورِ حکومت میں اعظم خان طاقتور ترین بیورو کریٹ ہیں،جنہیں اپنے باس کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کئے جانے والے اہم ترین اقدامات میں بھی ان کا خاصا اہم کردار ہوتا ہے۔ شنید ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ اثر رسوخ والے سیاست دان جہانگیر ترین کے ساتھ ان کی کھٹ پھٹ کافی دیر سے چل رہی تھی۔اگرچہ وزیراعظم نے کابینہ میں ردوبدل کے ذریعے انکوائری رپورٹ میں حکومتی زعماء پر لگنے والے الزامات کو دھونے کی کوشش کی ہے،لیکن اپوزیشن نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دے کر انہیں یکسر مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اپوزیشن الزام لگا رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے صرف نمائشی اقدامات کئے ہیں۔ چینی،آٹے اور گندم کی برآمد اور سبسڈی کے عمل میں جو شخصیات شامل تھیں وہ اب بھی اعلیٰ حکومتی عہدوں پر براجمان تھیں۔وفاقی وزیر خسرو بختیار کو فوڈ سیکیورٹی سے ہٹا کر اکنامک افیئرز کی اہم ترین وزارت سونپ دی گئی ہے،جو کہ اقتصادی پالیسی سازی میں نہایت اہم وزارت ہے۔ حماد اظہر کو انڈسٹری کا قلم دان سونپا گیا ہے تو کامرس وزیر عبدالرزاق داؤد ہنوز اپنے عہدہ پر برقرار ہیں تاہم ان سے محض چیئرمین شوگر بورڈ کا عہدہ لیا گیا ہے تاہم بعض چوٹی کے قانون دانوں اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کا موقف ہے کہ چینی آٹے اور گندم کی سبسڈی اور برآمد کے حوالے سے اجتماعی طور پر کابینہ اور اس سے پہلے ای سی سی نے منظوری دی اِس لئے وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاہم دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاسق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پہلے حکمران ہیں،جنہوں نے ملک میں خود احتسابی کی روایت ڈالی ہے، وزیراعظم عمران خان نے خود اپنے وزراء کے خلاف تحقیقات کروائیں اور خود ہی ایکشن لیا۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ آٹے چینی اور گندم بحران کے سکینڈلوں کا گرد باد آئندہ آنے والے دِنوں میں بھی بیٹھا ہوا نظر نہیں آتا،بلکہ یہ بڑھے گا اور اس کا کلائمیکس25اپریل کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے گا تاہم اس حالیہ کشا کش میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر شہزاد ارباب بھی اپنے رقیب کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے عہدہ سے ہاتھ دھو بیٹھے،لیکن دوسری جانب ایک اچھی شہریت کے حامل فیوڈل لارڈ سیاست دان سید فخر امام اپنی زرعی بیک گراؤنڈ کے نتیجہ میں وفاقی وزیر فود سیکیورٹی بن گئے تاہم وزیراعظم کے دیرینہ ساتھی ممتاز قانون دان بابر اعوان جو کہ بغیر کسی حکومتی عہدہ کے بھی ان کے لئے قانونی محاذ پر اہم خدمات سرانجام دے رہے تھے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور مقرر کئے گئے ہیں۔ بابر اعوان مستقبل میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا، دارالحکومت میں موسم اور سیاست دونوں تبدیلی کے لئے انگڑائی لے رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -