بھٹو کی41ویں برسی، سادگی سے گذر گئی، بھٹو کی زندگی پر تحقیقی مقالوں کی ضرورت!

 بھٹو کی41ویں برسی، سادگی سے گذر گئی، بھٹو کی زندگی پر تحقیقی مقالوں کی ...

  

متاثرین امداد کے منتظر،صوبائی حکومت اور تحریک انصاف والے،اب تک نہیں پہنچے

کورونا بحران اقتصادی سرگرمیاں ختم کر گیا، تعمیراتی شعبہ کا کام شروع ہوا تو بہتر نتیجہ نکلے گا

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

4 اپریل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی40ویں برسی کورونا وائرس بحران کی وجہ سے بغیر کسی تقریب کے گذری۔ البتہ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے اپنے رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاسی زندگی پر تبصروں کا سلسلہ بھی سوشل میڈیا پر جاری رہا۔ یقینا وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ہمارے ہاں چونکہ پسندیدہ شخصیات پر تنقید برداشت نہیں کی جاتی، اس لیے پیپلز پارٹی کے مخالفین اور حمایتیوں کے درمیان نوک جھونک کا عمل بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چلتا رہا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سیاسی رہنماؤں پر کھلے دل سے گفتگو کرنے اور سننے کا رواج ڈالنا چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسی اہم شخصیت پر محض تعریفی اور توصیفی مضامین ہی نہیں بلکہ تحقیقی مقالے زیادہ تعداد میں لکھے جانے چاہئیں۔ 

سیاسی کلچر میں جمہوری رویہ اس حد تک ہونا چاہیے کہ معیاری تنقید کا احترام کیا جائے۔ برداشت اور احترام کا ماحول نہ ہو تو حقیقی تحقیق بھی سامنے نہیں آتی۔ ہمارے ہاں یہ روایت نہیں بنی کہ ایک مخصوص مدت کے بعد خفیہ دستاویزات کو عوام کیلئے دستیاب کیا جائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کم از کم ہماری تاریخ درست ہوجائے گی۔ 

ذوالفقار علی بھٹو کو 4اپریل 1979ء کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پھانسی دی گئی، ان کے خلاف دیا جانے والا فیصلہ متنازع قرار دیا گیا، 1959ء میں وہ سیاسی میدان میں ابھرے، صدر جنرل ایوب خان کی کابینہ کا اہم حصہ بن گئے۔ ان کی بیس سالہ سیاسی زندگی میں اہم ترین واقعات ہوئے۔ پاک چین  تعلقات، 1965ء کی پاک بھارت جنگ،  معاہدہ تاشقند (جس کے بارے میں بھٹو صاحب نے 1967ء میں کہا تھا کہ میں عوام کو بتاؤں گاکہ تاشقند میں کیا ہوا، لیکن آئندہ بارہ برس تک وہ نہ بتاسکے) پر پاکستان دولخت ہوا، مشرقی پاکستان جدا ہوگیا، ذوالفقار علی بھٹو کا دور حکومت، یہ وہ موضوعات ہیں جو تحقیق طلب ہیں۔ 

بھٹو صاحب پر ایک فلم بنانے کا اعلان بھی ہوا تھا لیکن نہیں بن سکی۔ ان کی شخصیت اس بات کی مستحق ہے کہ ان پر ایک مکمل فیچر فلم بنے۔ ان کے نام پر جامعات بنائی گئی ہیں لیکن ان کی شخصیت پر تحقیق کا کام سامنے نہیں آرہا، ان پر لکھی جانے والی کتابیں، مضامین اور کالمز زیادہ تر عقیدت میں لکھے گئے ہیں، سیاست کے طالبعلموں کیلئے تحقیقی مقالے زیادہ اہمیت کے حامل ہونگے، بہرحال ان کی شخصیت کا کرزمہ پاکستانی سیاست میں آج بھی موجود ہے۔

کوروناوائرس بحران جو پوری دنیا کیلئے درد سر بن چکا ہے، پاکستان میں اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ شہروں اور دیہات میں بیک وقت بھوک اور افلاس نے زیادہ زوردار حملہ کردیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ سندھ نے لاک ڈاؤن سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ہم گھر گھر راشن پہنچائیں گے جس پر ان کو بہت پذیرائی ملی، آج حکومت سندھ کے راشن کو لوگ ترس گئے ہیں۔ 

اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں بہت سی فلاحی تنظیمیں بڑھ چڑھ کر کام کررہی ہیں۔ اس وقت کراچی میں چھوٹی بڑی کئی تنظیمیں جن میں سیلانی، ایدھی، جے ڈی سی اور الخدمت بہت زیادہ فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ 

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے وزراء یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ڈیٹا اپ ڈیٹ نہیں، ان کو جواب ملنا چاہیے کہ مردم شماری اور خانہ شماری کی گئی تھی تو ہر گھر کی تفصیلات جمع کی گئی تھیں، اس کے علاوہ نادرا کے ریکارڈ میں بھی بہت سی معلومات درج کی جاتی ہیں۔ نادرا کی مدد سے موبائل فون کمپنیوں نے بائیو میٹرک سسٹم کے تحت فون نمبرز اور شناختی کارڈز بھی اپ ڈیٹ کررکھے ہیں۔ کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈرز کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ 

قصہ مختصر حکومت کے پاس کئی طرح سے عوام کا ڈیٹا موجود ہے۔ ضرورت مندوں کو ایزی کیش اور براہ راست بنک اکاؤنٹ میں رقوم بھجوائی جاسکتی ہیں۔ راشن تقسیم کرنے کا کھیل نہ کھیلا جاتا تو بہتر تھا، لیکن کیا کریں اگر کام کی نیت ہو تو راستے ایک سے ایک موجود ہیں۔ 

آٹا چینی بحران کی رپورٹ آنے کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کی بات ہورہی ہے، زیادہ تر سیاسی خاندانوں کے افراد ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ 25 اپریل کو فرانزک رپورٹ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان کن لوگوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ 

حکومت نے کورونا ایمرجنسی فنڈ بھی جمع کرنا ہے اور احتساب کا عمل بھی جاری رکھنا ہے، سندھ حکومت کا ریلیف آپریشن مسائل اور سستی کا شکار ہے، اسی طرح کراچی کی اکثریتی جماعت تحریک انصاف کراچی کے ضرورت مندوں کیلئے کوئی ریلیف مہیا نہیں کرسکی۔ 

گورنر ہاؤس سندھ اس حوالے سے سنسان دکھائی دیتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور تمام ممبران اسمبلی گورنر ہاؤس سندھ کے دروازے سے عوام کیلئے کھانے پینے کے سامان مہیا کررہے ہوتے، لیکن ایسا نہیں ہوسا، عوام کی مدد صرف متوسط طبقہ ہی کررہا ہے۔ 

کورونا بحران نے اقتصادی سرگرمیوں کو دنیا بھر میں مفلوج کردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تعمیرات کی صنعت کو کام کرنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی پیکج بھی منظور کرلیا ہے۔ کاروباری حلقوں میں اور خاص طور پر کراچی میں تعمیرات کی صنعت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ زمینوں کے جھگڑے اور غیرقانونی تعمیرات کے مسائل کو حل کرنے کی طرف  صوبائی حکومتیں توجہ دیں۔ سندھ حکومت لینڈ کمپیوٹرائزیشن میں بہت پیچھے ہے۔ کراچی میں مہنگی ترین زمینوں کے مقدمات عدالتوں میں ہیں۔ زیرالتواء مقدمات کے فیصلوں کے بغیر تعمیرات کی صنعت فروغ نہیں پائے گی، اس سلسلے میں بھی فوری کام کی ضرورت ہے۔ تعمیرات کی صنعت سے وابستہ40 سے زائد صنعتیں بھی بحال ہوجائیں گی۔ 

امید کی جاسکتی ہے کہ بیروزگاری کو روکنے میں اس سے بہت مدد ملے گی۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -