سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ،پاکستان میں متاثرین 50ہزار ہو سکتے ہیں

سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ،پاکستان میں متاثرین 50ہزار ہو سکتے ہیں

  

چینی،آٹا تحقیقاتی رپورٹ، حکومت سے منسلک افراد کو قصور وار قرار دیا گیا

ہیڈ پنجند پھاٹک نہ کھولے گئے، سیلاب نے کئی دیہات متاثر کئے

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے قومی ایکشن پلان کی جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے اس کے مطابق اگر دیگر ممالک کی طرز پر پھیلاؤ ہوا تو متاثرہ افرادکی تعداد 25اپریل تک 50ہزار سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے جن میں 7ہزار سنگین اور اڑھائی سے تین ہزار تشویش ناک ہوسکتے ہیں البتہ باقی معمولی نوعیت تک رہیں گے، 366ملین امریکی ڈالر لاگت کے ایمرجنسی پلان کا اطلاق کردیا گیا ہے اور ٹیسٹنگ سہولت کی استعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے تمام ائیر پورٹس پر سپیشل کاؤنٹر قائم اور ایران کے بارڈ پر ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے صوبے میں ہیلتھ ایمرجنسی داخلی راستوں پر سکریننگ کی جارہی ہے جیلوں میں نئے آنے والے قیدیوں کو 14 دن تک علیحدہ رکھا جاتا ہے شہروں میں 232قرنطینہ سنٹرز، 456آئسولیشن وارڈز اور 78انتہائی نگہداشت وارڈ قائم کردئیے گئے ہیں جبکہ مدد کیلئے فوج اور رینجرز کو بھی طلب کرکے تعینات کردیا گیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی اس عالمی وباء کے بارے میں کہا کہ یہ کب ختم ہوگی اس بارے کسی کو معلوم نہیں ہے کیونکہ اس سے لڑنے کا کسی کو کوئی تجربہ نہیں ہے وسائل کے باوجود بڑے ممالک ہمت ہار گئے ہیں انہوں نے تنیبہ کی کہ کوئی اس غلط فہی میں نہ رہے کہ کرونا پاکستانیوں کو کچھ نہیں کہے گا انہوں نے عوام کو مل کر اس عفریت سے لڑنے کا مشورہ دیا اور واضح کیا کہ یہاں غربت زیادہ ہے اس لئے لاک ڈاؤن بھی سوچ سمجھ کر کرنا ہے تاکہ لوگ فاقوں کا شکار نہ ہوں اور معیشت کا شیرازہ نہ بکھرے، تعلیمی اداروں، خریدوفروخت کے بڑے مراکز، شادی ہالز اور ریستورانوں سمیت ایسے مقامات ابھی بند رہیں گے البتہ زرعی شعبہ اور تعمیرات کا شعبہ کھلا رکھا ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم یہاں تک تو یہ بات درست کررہے ہیں لیکن دوسری طرف حکومت کی طرف سے ہی 30اپریل تک لاک ڈاؤن بڑھانے کی خبر بھی دی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے پہلے تک حالات نارمل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ ادھر یورپ سمیت دوسرے ممالک میں 30مئی تک نہ صرف تمام تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں بلکہ بڑے بڑے کاروباری اور شاپنگ مراکز بھی بند رہیں گے جبکہ گھر پر کام کی سہولتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ادھر ملتان اور ڈیرہ غازیخان میں قائم قرنطینہ سنٹر میں ہونے والے سکریننگ ٹیسٹ میں سینکڑوں زائرین کے نتائج مثبت آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے تاہم اس دوران 2ہزار کے لگ بھگ زائرین کو اپنے اپنے گھروں کو روانہ بھی کیا گیا ہے لیکن شنید ہے کہ ابھی تفتان بارڈر کے راستے ہزاروں کی تعداد میں نہ صرف زائرین بلکہ ایران میں تعلیم حاصل کرنے والے بھی ہزاروں واپس آرہے ہیں جنہیں ایران افراد حکومت نے اپنے اپنے ملک واپسی کا کہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ تفتان بارڈر پرا یمرجنسی نافذ کرکے سنٹرز قائم کردئیے گئے ہیں تاکہ واپس آنے والوں کا ابتدائی ٹیسٹ یہی کرلیا جائے۔ دوسری طرف وفاقی اور صوبائی حکومت نے مستحقین کی امداد کیلئے جو خطیر رقوم مختص کی ہیں ان کی تقسیم کا نظام ابھی تک واضح نہیں ہوپارہا ہے ”ٹائیگر فورس“کے قیام کا مقصد یہی ہے لیکن ماضی گواہ ہے کہ کسی بھی قدرتی آفت میں متاثرین کو اس کا حق آج تک نہیں مل سکا اور کاریگر لوگ بیچ راستے میں استفادہ کرلیتے ہیں اب کی مرتبہ بھی وہی کچھ ہورہا ہے اور یہ صرف حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ مخیر حضرات کے ساتھ بھی ہورہا ہے جس کی طرف سے دی جانے والی امداد راستے میں ہی اچک لی جاتی ہے اور مستحق ہاتھ ملتا رہ جا تاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت دستیاب کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس استعمال کرے اور سیاست سے بالاتر ہوکر محلہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ممکن ہوتو گلی گلی ان سے حقیقی معنوں میں سروے کرواکر رینجرز یا فوج کی نگرانی میں امداد کی جائے ورنہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ہاتھ نہ پھیلانے والا سفید پوش طبقہ مارا جائے گا خیال رہے۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیاء کی سربراہی میں چینی کے بحران پر تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے رپورٹ جمع کروادی ہے جس میں کل اور آج کے حکمران اور ان کے قریبی ساتھی ملوث ہیں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے پھر وہی جہانگیر ترین ہیں۔ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور ان کے رشتہ دار عمر شہر یار، رحیم یار خان والے چوہدری منیر، ہدایت اللہ ان کے ساتھ ہیں۔ شمیم احمد خان کا مبینہ گروپ، سابق ایم پی اے غلام دستگیرملک سمیت چوہدری اور شریف خاندان کے لوگ ملوث ہیں جنہوں نے چینی کی برآمد پر سبسڈی حاصل کی اور پھر مارکیٹ میں قلت پیدا کرکے اضافی قیمت کا فائدہ بھی اٹھایا اسی طرح آٹے کے بحران میں پھر جہانگیر ترین کا نام ہے جنہوں نے جعفر خان کھچی کو پاسکو کا ایم ڈی تعینات کروایا جن کا تعلق میلسی سے ہے اور بوجوہ گریڈ 22میں ترقی نہیں پاسکے تھے مگر اب خیرسے ترقی یافتہ ہوگئے ہیں جنہوں نے بہاولپور سے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری اور اس کے وقت کے سیکٹرٹری فو ڈ نسیم صادق کے ساتھ مل کر آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرکے اربوں روپے کھرے کئے۔ شاید یہی وجہ ہوگی کہ ریٹائرمنٹ کے قریب کمشنر ڈیرہ غازیخان نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کیلئے رجوع کرلیا ہے۔ اس بحران میں وفاقی مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سمیت عبدالرزاق اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی نااہلی بھی شامل ہے اب حکومتی مشیر اور بحران کے ذمہ داران یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا قانون کے دائرے میں رہ کر کیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قانون انہیں اس طرح سے چند دنوں میں اربوں روپے منافع کمانے کی اجازت دیتا ہے اگر دیتا ہے تو پھر موجودہ ڈی جی ایف آئی اے جو پولیس سروسز کے سینئر رکن ہیں کی تحقیقات ہی کافی ہیں جس پر وزیراعظم کا فرانزک آڈٹ کروانا اضافی اور ذمہ داروں کو بچانے کے مترادف ہوگا کیونکہ اگر پولیس کا ایک سب انسپکٹر جس کیس کی انکوائری کرتا ہے اس انکوائری پر سپریم کورٹ بھی مجرم کو تختہ دار پر لٹکا دیتی ہے یہ تو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس نے انکوائری کی ہے۔

دوسری طرف دریا ئے چناب میں ہیڈ پنجند کے گیٹ بروقت نہ کھولنے کے باعث شدید بارشوں سے جوطغیانی آئی وہ پھیل کر سیلاب کی شکل اختیار کر گئی جو کاشتکاروں کیلئے انتہائی نقصان اور صدمہ کا باعث بنی ہے حالانکہ یہ پانی کوئی اتنا زیادہ نہیں تھا اور ہیڈ پنجند کے گیٹ کھلے رکھنے سے آرام سے نکل جاتا مگر یہ ہیڈ محمد والا، لنگر سرائے سے ہیڈ پنجند تک سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو برباد کر گیا خصوصاً گندم کی فصل تیار تھی مقامی لوگ کرونا سے تو خوفزدہ تھے ہی اب اس نقصان کے ہاتھوں بہت مشکل میں ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -