پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ بھی کرونا کی نذر ہونے کا خدشہ

  پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ بھی کرونا کی نذر ہونے کا خدشہ

  

لاہور (سپورٹس رپورٹر) اس سال کورونا وائرس کے باعث انگلش کاوٓنٹی چیمپئن شپ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انگلش بورڈ کی تما م تر توجہ اب انٹر نیشنل سیزن اور وائٹ بال کرکٹ پر ہے۔ان حالات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ مشکلات سے دوچار ہوگیا ہے۔ لندن میں ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ اور کئی بڑے کھیلوں کے مقابلے پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں۔1890ء کے بعد جنگ کے دنوں کے علاوہ پہلی مرتبہ کاؤنٹی چیمپئن شپ منسوخ کی جائیگی۔ مکمل کرکٹ سیزن نہ ہونے سے انگلش اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو رواں سیزن300ملین پاؤنڈز نقصان کا خدشہ ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق2020ء میں کاؤنٹی چیمپئن شپ کا انعقاد نہیں ہو گا۔ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کی منسوخی کیلئے انگلش بورڈ کے سرکردہ آفیشلز اور بیشتر ٹیموں نے منسوخی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ جلد اعلان کر دیگا۔ پاکستان کے بابر اعظم اور محمد عباس کو کاؤنٹی چیمپئن شپ میں حصہ لینا ہے۔

پاکستان آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ میں سیریز کھیلنا ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ بھی شدید ترین مشکلات سے دوچار ہے اور خدشہ ہے کہ تین ٹیسٹ اور تین ٹی 20 میچ بھی نہیں ہوسکیں گے تاہم پی سی بی پر امید ہے کہ سیزن میں پاکستانی ٹیم پروگرام کے تحت دورہ کریگی۔انٹرنیشنل اور ٹی ٹونٹی کرکٹ کو سیزن کے دوران ترجیح دی جائیگی۔ انگلش بورڈ کا خیال ہے کہ3ماہ میں چیمپئن شپ کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکے گا۔

 انگلینڈ میں کرکٹ کی سرگرمیاں 28 مئی تک پہلے ہی معطل کی جا چکی ہیں۔ادھر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے سربراہ ٹام ہیریسن نیکہا ہے کہ کوروناکے سبب مالی مشکلات سے بچنے کیلئے اگلے تین ماہ تک اپنی تنخواہ سے 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کا فیصلہ کیا ہے۔دیگر بڑے عہدیداروں کا حصہ 20 فیصد ہوگا۔ انہوں نے پروفیشنل کرکٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ ٹونی ٓئرش کے نام خط میں یہ بات کہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ موجودہ سیزن میں کرکٹ نہیں ہوسکی تو مالی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ہم ان حالات میں سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کی تنخواہ میں 20 فیصد کی کٹوتی چاہتے ہیں۔ امید ہے کرکٹرز اسے قبول کریں گے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -