نرسنگ سکولز میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے،سعدیہ راشد

نرسنگ سکولز میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے،سعدیہ راشد

  

لاہور(جنرل رپورٹر)دُنیا کے تیزی سے بدلتے اور بگڑتے سماجی اور معاشی حالات صحتِ عامہ میں گراوٹ کا سبب بن رہے ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں وہاں تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کا کردار بھی قابل تحسین ہے نرسنگ کے شعبہ کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر نرسنگ سکولز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جانا ضروری ہے،ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان سعدیہ راشد نے عالمی یوم صحت کے تجویز کردہ عنوان ”نرسز اور دائیوں کے اشتراک عمل سے صحت عامہ کا حصول“پر کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پیرا میڈیکل اسٹاف باالخصوص نرسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

جنہوں نے فرنٹ لائن میں اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر احسن ذمہ داریاں پیش کر رہے ہیں،اسوقت ان کا کردار کسی ہیرو سے کم نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سال 2020؁ء کے تجویز کردہ عنوان کے مطابق 7اپریل کو ہمدردفاؤنڈیشن پاکستان نے ہر سال کی طرح ایک بین الاقوامی سطح کا پروگرام ترتیب دیا تھا جو ناگہانی وبائی مرض کی بدولت روک دیا گیا،انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک تربیت یافتہ قوم بننے کی ضرورت ہے،ماہرین صحت کی ہدایات کے مطابق اپنے آپ کو محفوظ رکھنا ہے،انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے ایجنڈے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں تربیت یافتہ نرسز کا کردار سب سے اہم ہے کیونکہ ان کی رسائی نہ صرف مقامی بلکہ دور دراز علاقوں تک ہے ان نرسز کا کردار ہنگامی حالات میں ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -