وفاقی کابینہ میں ردوبدل

وفاقی کابینہ میں ردوبدل

  

آٹا چینی بحران کے بارے میں ایف آئی اے کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایکشن شروع کر دیا ہے، وفاقی وزیر خسرو بختیار کا محکمہ تبدیل کر دیا گیا ہے، رزاق داؤد سے دو عہدے واپس لے لئے گئے ہیں تاہم وہ تجارت کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر بدستور رہیں گے۔ جہانگیر ترین کو بھی زراعت کے بارے میں ٹاسک فورس کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا ہے، حماد اظہر کو نئی وزارت دی گئی ہے۔ پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری نے استعفا دے دیا ہے،تین اہم بیورو کریٹس کو بھی عہدوں سے ہٹا کر کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔وفاقی کابینہ میں دو نئے وزیر بھی شامل کئے گئے ہیں،فخر امام کو نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت دی گئی ہے، ایم کیو ایم کے امین الحق کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں۔بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا مشیر بنایا گیا ہے، اعظم سواتی انسداد منشیات کے وزیر ہوں گے، مشیر اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد سبکدوش ہو گئے ہیں۔

چینی آٹا بحران کے بارے میں ایف آئی اے کی جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے بارے میں وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ یہ انکوائری رپورٹ پیش نہیں،لیک ہوئی ہے۔ رپورٹ باقاعدہ طور پر25 اپریل کو سامنے آئے گی۔اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ جب رپورٹ لیک ہو گئی تھی تو پھر اسے سامنے لانا بھی مجبوری بن گیا تھا،بعض حضرات جو بڑھ چڑھ کر اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہے ہیں بہتر ہے وہ رپورٹ کے مندرجات پر بات کریں۔ اسی رپورٹ کے تناظر میں وفاقی کابینہ میں ردو بدل کیا گیا ہے، امین الحق کو وزیر بنانے کا فیصلہ تو کئی دن پہلے اُس وقت ہو گیا تھا جب ایم کیو ایم(پاکستان) دوبارہ شریک ِ حکومت ہونے کے لئے تیار ہوئی تھی،اُنہیں خالد مقبول صدیقی کی جگہ وزیر بنایا گیا ہے، ایک کے سوا کسی بھی مشیر یا وزیر کو عہدے سے ہٹایا نہیں گیا،صرف محکمے تبدیل کئے گئے ہیں۔البتہ مشیر تجارت رزاق داؤد، جن کا چینی کی برآمد پر ایکسپورٹروں کو سبسڈی دلانے میں خصوصی کردار ہے اُن سے دو عہدے واپس لے لئے گئے ہیں تاہم ان کے پاس مشیر تجارت کا منصب بدستور رہے گا۔خسرو بختیار جن کے بھائی کا نام سبسڈی لینے والوں میں شامل ہے ان کی بھی صرف وزارت تبدیل کی گئی ہے، ان ساری تبدیلیوں پر وزیر ریلوے شیخ رشید کا تبصرہ ہی برمحل ہے، جن کا کہنا ہے کہ کپتان نے فیلڈنگ تبدیل کی ہے۔

جہانگیر ترین کا معاملہ البتہ دلچسپ ہے وہ وزیراعظم کے دست ِ راست، قریبی دوست اور پارٹی کے انتہائی متحرک رہنما ہیں،اپوزیشن والے اُنہیں پیار سے اے ٹی ایم کہتے ہیں۔امر واقعہ یہی ہے کہ وہ اور ان کا جہاز نہ ہوتا تو وفاقی اور پنجاب حکومتوں کی تشکیل میں مشکلات پیش آتیں، کیونکہ دونوں جگہ تحریک انصاف کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہ تھی، پنجاب میں تو وہ عددی اکثریت کے حساب سے دوسرے نمبر پر تھی۔ جہانگیر ترین نے حکومتوں کی تشکیل سے پہلے آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے ارکان کو پورے ملک سے لا کر عمران خان کی خدمت میں پیش کر دیا۔اگرچہ وہ خود سپریم کورٹ سے نااہل قرار پا گئے تھے اور الیکشن نہیں لڑ سکے تھے،لیکن بادشاہ گری کا کردار انہوں نے بطریق ِ احسن نبھایا۔ یہ امر بھی پیش ِ نظر رہنا چاہئے کہ وہ سیاست دان ہیں، خدائی خدمت گار نہیں اور سیاسی کردار کو اسی روشنی میں جانچنا اور پرکھنا چاہئے۔ پورے ملک میں جتنی چینی بنتی اور فروخت ہوتی ہے اس میں ان کی شوگر ملوں کا حصہ20فیصد ہے، پانچویں حصے کے سٹیک ہولڈر ہونے کی وجہ سے ہر اُونچ نیچ میں اُن کا کردار مسلمہ ہے، وہ صنعت کار ہیں اور اپنی ملوں کو زیادہ سے زیادہ منافع بخش بنانا اُن کے پیش ِ نظر رہتا ہے۔چینی کی ایکسپورٹ پر اُنہیں یا دوسرے برآمد کنندگان کو پنجاب حکومت سے جو سبسڈی ملی وہ اُن کا قانونی حق تھا۔ یہ سوال اگرچہ اپنی جگہ ہے کہ یہ سبسڈی دی جانی چاہئے تھی یا نہیں،لیکن دوسروں کی طرح سبسڈی کی رقم وصول کر کے انہوں نے کوئی خلافِ قانون کام نہیں کیا۔دوسرا فائدہ جو اُنہیں پہنچا وہ اندرون ملک مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تھا، یہ اضافہ کیوں ہوا اس میں ان کا کتنا ہاتھ تھا۔ آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اِس سلسلے میں اپنا موقف ہے اِس بحث میں پڑے بغیر کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے جہانگیر ترین کے بارے میں یہ فرض کر رکھا تھا کہ وہ ستائش یا صلے کی تمنا کے بغیر سب کچھ کر رہے ہیں تو یہ اس کی سادہ لوہی تھی، وہ عبدالستار ایدھی بہرحال نہیں تھے، صنعت کار تھے اور سیاست دان بھی، انہیں جہاں سے فائدہ ملا انہوں نے اٹھا لیا۔ اب وہ کہتے ہیں کہ انہیں جس عہدے سے ہٹایا گیا یہ تو کبھی اُن کے پاس تھا ہی نہیں، زراعت کے متعلق اجلاسوں میں وہ ہمیشہ شریک رہے اور فیصلوں میں ان کا ہاتھ ہوتا تھا۔

پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ خودھری نے ازخود استعفا دے دیا ہے، آٹے کے بحران میں ان کا ذکر آتا رہا ہے،کیونکہ فلور ملوں کو گندم کی سپلائی جو محکمے جاری کرتے تھے، وہ اُنہی کے ماتحت تھے ابھی گزشتہ روز ہی انہوں نے کہا تھا کہ بحران میں اُن کا کوئی ہاتھ نہیں،ایسی صورت میں تو انہیں استعفا دینا ہی نہیں چاہئے تھا اگر وہ اپنے آپ کو کسی غلط کام کا مرتکب ہی نہیں گردانتے تو پھر استعفا دینے میں اتنی عجلت دکھانے کی کوئی وجہ بظاہر نظر نہیں آتی،ممکن ہے اُنہیں خدشہ ہو کہ کہیں ان کے خلاف بھی ایکشن نہ ہو جائے،اِس لئے انہوں نے حفظ ِ ماتقدم کے طور پر یہ قدم اٹھا لیا، ویسے اپوزیشن تو الزام لگاتی ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے،جس طرح کی صورتِ حال بن گئی ہے اس میں بعض انہونیاں بھی ہو جاتی ہیں اِس لئے بعید نہیں کہ ایسا ہوا ہو۔

بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا مشیر بنایا گیا ہے اس تقرر پر حیرت اِس لئے ہے کہ بابر اعوان نہ تو پارلیمینٹ کے ایوانِ زیریں کے رکن ہیں اور نہ ایوانِ بالا کے،بہتر ہوتا کہ پارلیمانی امور کے متعلق ہر قسم کی ذمے دار ی کسی منتخب رکن کو سونپی جاتی، لیکن بہت سے دوسرے حضرات کی طرح پارلیمانی امور کا منصب بھی ایک غیر منتخب شخص کو دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ پارلیمینٹ کے ارکان میں مطلوبہ اہلیت کے لوگوں کا قحط ہے اِس لئے باہر سے لوگوں کو مناصب دیئے جا رہے ہیں،مجموعی طور پر کابینہ پر نگاہ ڈالی جائے تو غیر منتخب ارکان ہی حاوی نظر آتے ہیں،پارٹی کے اندر اس پر بے چینی بھی ہے، جس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے،اس تقرر سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ وزیراعظم منتخب لوگوں کو زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔تحقیقاتی رپورٹ جب وزیراعظم کو پیش کی جائے گی تو ممکن ہے وہ ذمے داروں کے خلاف اقدامات اٹھائیں، جو رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں بہت سے نام ایسے ہیں جن سے ابھی تک کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔

پنجاب کے وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت نے جو وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی ہیں،کہا ہے کہ شوگر ایکسپورٹرز کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کابینہ نے کیا تھا، میرے محکمے نے اس کی حوصلہ شکنی کی اور سبسڈی کے مسئلے پر کسی جانبداری کا اظہار نہیں کیا، کابینہ کے جس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔اس میں محکمہ خزانہ نے سبسڈی دینے کی مخالفت کی تھی اور یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے،محکمہ خزانہ نے سبسڈی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے اسے معاشی معاملات میں خرابی کا موجب قرار دیا۔ہاشم جواں بخت کے بیان کے بعد یہ بات اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ پھر وہ کون سا دباؤ تھا، جس کے تحت پنجاب حکومت نے برآمد کنندگان کو سبسڈی دی، کیونکہ بنیادی طور پر تو معاملے کا تعلق وفاق سے تھا۔ پنجاب حکومت نے اگر کاشتکاروں کے مفاد کے نام پر سبسڈی دی تو یہ مقصد بھی حل نہیں ہوا، صدر عارف علوی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اُنہیں پہلی مرتبہ پتہ چلا ہے کہ سبسڈی کا فائدہ کسانوں کو نہیں پہنچا۔یہ صورتِ حال اِس بات کی متقاضی ہے کہ وزیراعظم وفاقی کابینہ میں ردوبدل سے فارغ ہوں تو پنجاب کی جانب سے سبسڈی دینے کے معاملے پر بھی توجہ فرمائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -