تشدد درست نہیں، طبی عملے کو حفاظتی سامان دیں

تشدد درست نہیں، طبی عملے کو حفاظتی سامان دیں

  

بلوچستان میں پیرا میڈیکل سٹاف نے پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کام چھوڑ دیا،او پی ڈی اور ایمرجنسی بند ہو گئی ہیں پہلے ہی ہسپتال پوری طرح کام نہیں کر رہے تھے، ڈاکٹر حضرات اور پیرا میڈیکل سٹاف کا مطالبہ تھا کہ کورونا کے علاج کے دوران متعدد ڈاکڑ اور نرسیں حفاظتی آلات اور سامان کی عدم موجودگی کے باعث خود متاثر ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ان سب نے احتجاج کے لئے مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا، کوئٹہ پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا اور مظاہرین کو گرفتار کر لیا اور حوالات میں بند کر دیا، اس پر صوبے بھر کے عملے نے کام چھوڑ دیا، اس سے نہ صرف ہسپتالوں کا رہتا سہتا علاج معالجہ بند ہو گیا، بلکہ کورونا کا علاج بھی متاثر ہوا ہے۔ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کا کہنا ہے کہ جائز مطالبے کے عوض تشدد کیا گیا، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا موقف ہے کہ ان لوگوں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی اور اجتماع بھی کیا جو ایس او پی کورونا کی بھی خلاف ورزی ہے، حکومت اور حکام نے اپیل کی کہ انسانیت کے نام پر بائیکاٹ ختم کر دیا جائے،تاہم اب تک متاثرین سے کسی نے رابطہ کر کے مذاکرات نہیں کئے۔اس سلسلے میں حزبِ اختلاف کے تمام رہنماؤں نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے مشکل وقت میں یہ تشدد ناقابل قبول ہے۔جو بھی ہوا اچھا نہیں حالات حاضرہ میں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تحمل سے کام لے، تحفظ کے آلات اور سامان تو خود حکومت کو مہیا کر دینا چاہیے تھا اگر مسیحا کسی حفاظت کے بغیر کام کرتے ہوئے خود بیمار پڑ گئے تو مریضوں کو کون سنبھالے گا اور اس وبا سے کیسے نمٹا جائے گا، اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو جلد از جلد مداخلت کرکے حالات کو معمول پر لانا چاہیے، ملک بھر کے طبی عملے کو آلات اور حفاظتی سامان بھی فوراً دیا جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -