حوثیوں کی انسانیت دشمنی اور مقدس سرزمین

حوثیوں کی انسانیت دشمنی اور مقدس سرزمین
حوثیوں کی انسانیت دشمنی اور مقدس سرزمین

  

سعودی عرب جسے حجاز مقدس بھی کہا جاتا ہے یہ وہ سرزمین ہے جس پر انبیا ء تبلیغ کرتے رہے اور اس خطہ ارض پر اللہ کے آخری محبوب نبی حضرت محمد ﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور جس شہر میں وہ پیدا ہوئے یعنی مکہ اللہ تعالی نے اس شہر کی قسمیں قرآن میں کھائی ہیں جو اس سرزمین مقدس کیلئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔اسی سعودی عرب میں مسلمانوں کیلئے دوسرا مقدس ترین شہر مدینہ منورہ ہے جہاں اللہ کے نبی ﷺ ہجرت کر کے گئے اور وہاں ریاض الجنۃ کی صورت میں جنت کا ایک ٹکڑا مسجد نبوی میں ہے جو اللہ نے جنت سے اتارا ہے۔مکہ مکرمہ میں حرم شریف ہے جس کی طرف مسلمان منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں اور مدینہ میں مسجد نبوی ﷺ ہے جس میں ایک نماز پڑھنے کا ثواب پچاس ہزار نمازیں ادا کرنے کے برابر ہے۔انہی دو مقدس مقامات کی وجہ سے سرزمین حجاز کو حرمین شریفین بھی کہتے ہیں اور سعودی عرب پر حکمرانی کرنے والے خادم الحرمین شریفین کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ہر مسلمان اس سر زمین سے دل وجان سے محبت کرتا ہے اور ہر لمحہ منتظررہتا ہے ہم کب اللہ کے گھر کی زیارت کر سکیں گے اور اس کیلئے ہر مسلمان اپنی پوری زندگی محنت و مزدوری میں بھی گزاراتا ہے تا کہ وہاں جا کر ان مقدس مقامات کی زیارت سے برکتیں سمیٹ سکے۔خیر بات ہو رہی تھی اس سرزمین کی تو جہاں اربوں لوگ اس سرزمین مقدس سے پیار کرتے ہیں وہاں کچھ عاقبت نااندیش ایسے بھی ہیں جو اقتدار کے لالچ میں اندھے ہوئے ہیں اور آئے روز سعودی عرب پر حملہ کرنے کی نیت سے میزائل داغتے ہیں۔ کچھ دن قبل سعودی عرب کے شہر جیزان اور دارالخلافہ ریاض پر میزائل حملہ کیا گیا اس سے قبل بھی سعودیہ پر میزائل حملے کیے گئے ہیں یہ حملہ اس وقت کیا جا رہا ہے جب پوری دنیا کوکورونا نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جو اللہ کی جانب سے وبا لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور پوری انسانیت اس سے بچنے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے اور اس وبا نے ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ایسے وقت میں یہ حملہ اس بات کی غمازی ہے کہ حملہ کرنے والوں کے دلوں میں انسانیت کا کوئی درد نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس مقدس سرزمین کا کوئی احترام کرتے ہیں۔سعودی عرب کے فوجی ترجمان کرنل ترکی المالکی کے مطابق ان میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر کے دشمنوں کے ناپاک ارادوں کو فضا میں ہی نیست و نابو د کر دیا گیا اور اس طرح مقدس سرزمین کسی بھی بڑی تباہی سے بچ گئی۔ یہ حملے کرنے والے حوثی باغی ہیں جو یمن کے امن کے بھی دشمن ہیں کیوں انہی حوثی باغیوں نے یمن کی منتخب حکومت پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یمن کے لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔یہ حملے پہلی بار نہیں ہو رہے اس سے قبل بھی سعودی عرب پر یہ حملے کئے جا چکے ہیں،آراسکو کی آئل فیلڈ پر ہونے والے حملے میں ان باغیوں نے سعودی عرب کی معیشت کو بھی تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔لیکن اس وقت ہونے والا حملہ بہت معنی رکھتا ہے کیوں کہ جب پوری دنیا کورونا سے نمٹنے میں مصروف ہے ایسے میں یہ حملہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کچھ لوگوں کیلئے انسانیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔کیوں کہ پوری دنیا اس وقت گھروں میں مقید ہے لیکن یہ باغی ان حالات کا فائدہ اٹھا کر سعودی عرب پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی۔

اس وقت حملہ کرنا انسانیت دشمنی ہے حالانکہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان پوری دنیااور انسانیت سے ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے لوگ ہیں جب بھی پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک پر کوئی آفت آتی ہے اپنے امدادی سامان روانہ کرنے میں تاخیر نہیں کرتے۔اب جب کے کورونا کی وجہ سے پوری دنیا پریشان ہے تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس ابتلا کے دور میں بھی اپنی انسانیت نوازی کو نہیں چھوڑا اور انہوں نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو اس وبا سے نمٹنے کیلئے ایک کروڑ ڈالر کی خطیر رقم دی ہے تا کہ اس وبا کی دوا تیار کر کے جلد از جلد انسانیت کو اس سے نجات دلائی جا سکے۔سعودی عرب نے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک میں اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ہنگامی طور پر ایشیا، افریقہ اور یورپ میں مالی، طبی اور غذائی امداد بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت کے تعاون سے دنیا بھر میں فلاحی و انسانی کام کرنے والی تنظیم جو مسلمانوں کے مابین مذہبی ہم آہنگی کیلئے کام کرتی ہے میری مراد رابطہ عالم اسلامی ہے وہ بھی اس موقع پر کسی سے پیچھے نہیں رہی اور رابطہ عالم اسلامی بھی کورونا وائرس جیسی وبا سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی نے کہا رابطہ عالم اسلامی نے وبائی بیماری کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کو بے شمار اور متعدد طرح کی امداد فراہم کی ہے۔

سعودی عرب کی تنظیم رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے پاکستانی عوام کیلئے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے تھرمل سکینر گنز، ماسک، ٹیسٹنگ کٹس، سینٹائزرز اور دیگر سامان کا عطیہ کیا گیامذکورہ سامان قومی ادارہ صحت کے ڈی جی ہیلتھ کے سپرد کیا گیا۔سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کی امداد کی جب سب دنیا کو کورونا وبا کی صورتحال میں اپنی اپنی پڑی ہے سعودی عرب کی امداد پاکستان سے دیرینہ دوستی اور برادرانہ تعلقات کا ثبوت ہے پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف احمد بن سعید المالکی کا کہنا تھا کہ مشکل وقت گزر جائے گا پاکستان سے تعاون جاری رہے گا۔امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس بھی اس وقت حرمین شریفین میں اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہے ہیں کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے خود سپرے کررہے ہیں، دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ حرم میں عالم اسلام سمیت پوری انسانیت کے لئے دعائیں کر رہے ہیں جو ان کی انسانیت نوازی کی اعلی مثال ہے۔حوثی باغیوں کی جانب سے ایسے وقت میں حملہ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ ایسی قوتیں ہیں جو چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کے مقدس ملک کا امن تباہ کیا جا سکے۔مسلمانوں کو اپنی صفوں میں سے ایسے بھیڑوں کو نکال باہر کرنا چاہئے جو مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے میں مصروف ہیں اورمسلمان ممالک میں امن کو تہہ و بالا کرنے کیلئے اپنی مذموم حرکتیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -