آپ کورونا وائرس کے کیریئر بننا پسند کریں گے؟

آپ کورونا وائرس کے کیریئر بننا پسند کریں گے؟
آپ کورونا وائرس کے کیریئر بننا پسند کریں گے؟

  

کوورنا ایک نادیدہ دشمن ہے، جسے ہم دیکھ نہیں سکتے، لیکن وہ ہمارے آس پاس ہی کہیں موجودہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا دشمن ہے جس کا چند ماہ پہلے تک کسی کو پتہ تک نہ تھا، لیکن آج وہ ہمارے سروں پر آ موجود ہوا ہے، بلکہ ہمارے اندر تک آ گھسا ہے۔ یہ افتاد ہمارے سروں پر آن پڑی ہے۔ اب ایک ہی سوال ہے کہ اس دشمن سے کیسے بچا جائے، اس نئی صورتِ حال سے کیسے نمٹا جائے اور اس دشمن کو کیسے شکست دی جائے۔ اس پر بعد میں بحث کر لی جائے گی کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری میں بنایا گیا ہے یا یہ قدرتی طور پر پیدا ہوا اور یہ کہ یہ کن کن مختلف ذرائع سے ہوتا ہوا انسانوں تک پہنچا ہے۔ فی الوقت اس سے نمٹنے پر ساری توجہ دینی چاہئے اور اس سے نمٹنے کا بہترین طریقہ وہی ہے، جو ہماری اور دُنیا بھر کی حکومتوں نے اختیار کر رکھا ہے۔ اور اس دشمن کو شکست دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے وجود کو ختم کر دیا جائے۔ پچھلے دِنوں واٹس ایپ پر ایک ویڈیو کلپ موصول ہوا، جس کی تھیم یہ تھی کہ ماچس کی تیلیاں ایک قطار میں رکھی گئی ہیں۔

تیلیوں کی اس قطار کے ایک سرے پر آگ لگائی جاتی ہے اور ایک کے بعد ایک تیلیاں جلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ پھر قطار میں رکھی گئی ان تیلیوں کی قطار میں سے ایک تیلی اٹھا لی جاتی ہے تو ماچس کی تیلیوں کے جلنے کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے، جہاں سے ماچس کی تیلی ہٹائی جاتی ہے، اس سے آگے کی سب تیلیاں جلنے سے محفوظ رہتی ہیں۔ اِس وقت جو لاک ڈاؤن کیا گیا ہے اور لوگوں کو گھروں میں رہنے کا جو کہا جا رہا ہے، اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ کرونا وائرس ایک سے دوسرے فرد کو نہ لگے، کیونکہ یہ بڑی آسانی سے ایک سے دوسرے فرد کو منتقل ہو جاتا ہے۔ کورونا وائرس کا اتنے قلیل عرصے میں دنیا کے تقریباً ہر کونے میں پہنچ جانے یا پھیل جانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مہلک خوردبینی جسم کس تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لئے طبی ماہرین کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لئے معاشرتی دوری(سوشل ڈسٹنسنگ) اور وائرس سے متاثر ہونے والوں کو قرنطینہ میں ڈالا جانا ضروری قرار دیتے ہیں۔

یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ لوگ نادانستگی میں کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کو مزید پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومتی اپیلوں اور طبی ماہرین کی ہدایات کو یہاں پاکستان میں نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ بیماری مزید پھیل رہی ہے۔ اکثر لوگ چہرے پر ماسک لگا کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اب کرونا وائرس سے محفوظ ہو گئے ہیں اور یہ وائرس اب کبھی ان کو نہیں لگے گا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ ماسک لگانے سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملتی ہے، لیکن یہ اس مسئلے کا مکمل نہیں، جزوی حل ہے۔ مکمل حل وہی ہے جو حکومت بتا رہی ہے یا طبی ماہرین جس کی تلقین کر رہے ہیں کہ یعنی سوشل ڈسٹنسنگ، کسی فرد کو ٹچ نہ کرنا، ایک دوسرے سے سلام کے لئے ہاتھ نہ ملانا، کسی فرد نے جو چیز پکڑی اسے نہ چھونا، صابن سے بار بار ہاتھ اچھی طرح دھوتے رہیں۔ وضو کرتے رہنے سے یہ مرض آپ سے دور رہے گا۔ کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا چاہئے۔ کھانا مکمل طور پر پکانا چاہئے، کھانا پوری طرح پکا ہوا نہ ہو تو اس مرض کے لاحق ہونے کا اندیشہ رہے گا۔ پانی کو اُبال کر پئیں اور زیادہ سے زیادہ پئیں۔ زکام اور کھانسی کے مریضوں سے دور رہیں۔ پالتو جانوروں سے دور رہیں۔ کسی کی بھی آنکھ، چہرے اور منہ کو مت چھوئیں۔ وائرس میں مبتلا افراد اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال سے گریز کریں۔ وائرس میں مبتلا افراد کی استعمال شدہ چیزوں کو استعمال کرنے سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ فلومیں مبتلا افراد رومال اور ماسک کا استعمال ضرور کریں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے ذرات یا لعاب دہن کے ذریعے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔

پچھلے تین چار ماہ کی صورتِ حال کے جائزے اور چین میں اس بیماری پر قابو پانے کی کامیاب کوششوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ لوگ حکومت کی عائد کردہ پابندیوں پر جس قدر عمل کریں گے، اتنا ہی اس وائرس سے محفوظ رہیں گے اور اس سے لگنے والی ہلاکت خیز بیماری سے بھی۔ حکومت نے اگر لاک ڈاؤن کیا ہے اور پوری تنخواہوں کے ساتھ ملازمین کو گھروں میں بند رہنے کی تلقین کی ہے تو اس میں انہی کا بھلا ہے۔ یہ سب کچھ عوام کی صحت برقراررکھنے اور انہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہی کیا جا رہا ہے۔ اگر حالات کی سمجھ نہیں آ رہی تو ایک نظر امریکہ اور اٹلی کے داخلی حالات پر ڈال لیں،جہاں روزانہ کورونا کے ہزاروں مریض ہلاک ہو رہے ہیں اور انہیں بغیر کسی قسم کے لوازمات کے کپڑے میں لپیٹ کر دفن کیا جا رہا ہے، مرنے کے بعد کی کوئی رسم ادا نہیں کی جا رہی، حتیٰ کہ مرنے والے کو غسل بھی نہیں دیا جاتا، کیونکہ غسل دینے والا خود اس وائرس کا کیریئر بن سکتا ہے اور اگر بیماری شدت اختیار کر گئی تو ہلاک بھی ہو سکتا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسی موت نہیں مرنا چاہے گا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ محتاط رہا جائے۔ ہمارا مشن اس وائرس کی موت ہونا چاہئے اور وائرس اسی وقت مرے گا جب اس کو آگے کوئی کیریئر نہیں ملے گا۔ کیا آپ اس مہلک وائرس کے کیریئر بننا پسند کریں گے؟ اگر آپ کا جواب ”نہیں،، ہے تو فوری طور پر محتاط ہو جائیے، کرونا وائرس جلد آپ کی جان چھوڑ دے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر چین والے زیادہ مریض ہونے کے باوجود اس پر قابو پانے میں کامیاب و کامران ہو سکتے ہیں تو ہم نسبتاً خاصے کم مریض ہونے کے باوجود کامیاب کیوں نہیں ہو سکتے؟

مزید :

رائے -کالم -