وزیر اعظم کا کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ایمنسٹی کا اعلان

وزیر اعظم کا کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ایمنسٹی کا اعلان
وزیر اعظم کا کنسٹرکشن سیکٹر کے لئے ایمنسٹی کا اعلان

  

1200ارب روپے کے معاشی ریلیف پیکیج کے اعلان کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے تعمیراتی شعبے کے لئے ایمنسٹی سکیم کے اعلان کے ساتھ ہی ایسے لگ رہا ہے کہ ممکنہ معاشی بد حالی کا منظر تبدیل ہونے جا رہا ہے اگر زیادہ موثر انداز میں تجزیہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی معاشی معاملات کو بگاڑ سے بچانے اور سد ھار کی طرف لے جانے کی کا وشوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ ویسے تو کہنے والے کہتے رہیں گے کہ ”آدھا گلاس خالی ہے“……لیکن دیکھنے والے اس آدھے خالی گلاس کے نیچے ”آدھا بھرا ہوا گلاس“بھی دیکھ رہے ہیں۔ معاشیات کے ایک طالبعلم کے طور پر ایک بات بڑی واضع ہے کہ ریلیف پیکیج اور ایمنسٹی سکیم گرتی پڑتی قومی معیشت کے لئے ایک حقیقی مہمیز کی حیثیت رکھتی ہے ہم نے معاشیات کی کتابوں میں پڑھا ہے اور اپنے اساتذہ سے مالیاتی پالیسی اور زری پالیسی کے حوالے سے جو دانش حاصل کی ہے اس کے مطابق معیشت میں گردش زر کا اضافہ، اس میں کھلے پن یعنی پھیلاؤ کا با عث بنتا ہے۔

جب معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو جائیں، پیداواری عمل کم ہو جائے، اشیاء و خدمات کا حجم کم ہونے لگے تو پھر حکومت گردش زر میں اضافے کے لئے ترقیاتی /تعمیراتی اخراجات میں اضافہ اور ٹیکسوں میں کمی کرتی ہے، جبکہ شرح سود میں کمی کے ذریعے سرمایہ کا ری کے لئے زر کی طلب میں اضافہ کیا جاتا ہے اس طرح مجموعی طور پر گردش زر میں اضافہ ہوتا ہے سرمایہ کاری کے ذریعے صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے روزگا ر کے مواقع بڑھتے ہیں لوگوں کی قابل تصرف آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے اشیاء و خدمات کی طلب پھیلتی پھولتی ہے دوسری طرف سرکاری اخراجات یعنی تعمیر و ترقی کے اخراجات میں اضافے کے ذریعے روزگار میں اضافہ ہوتا ہے لوگوں کی قابل ِ تصرف آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے اشیاء و خدمات کی طلب بڑھتی ہے جسے پورا کرنے کے لئے سرمایہ کا ر پیدا وار میں اضافہ کرنے کے لئے سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرتے ہیں وہاں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں لوگوں کی قابل تصرف آمدنیوں میں اضافہ ہوتا ہے اشیاء و خدمات کی طلب بڑھتی ہے اس طرح کا عمل مجموعی معاشی سرگرمی کو فروغ دیتا ہے اور معیشت میں بہتری پیدا ہوتی ہے ایسی ہی مالیاتی اور زری پالیسی کو سامنے رکھتے ہوئے، ہمارے پالیسی میکروں نے معاشی ریلیف پیکیج اور تعمیراتی شعبے کے لئے ایمنسٹی سکیم تیار کی جسے ہمارے وزیر اعظم نے قوم کے سامنے پیش کیا جس کے نتائج کے حوالے سے قوی امید ہے کہ آنے والے دنوں میں قومی معیشت میں بہتری،تیزی اور بھلائی کے آثار نمایاں ہونگے۔

وزیراعظم عمران خان نے کم آمدنی والے اور چھوٹے موٹے کا م کرنے والے شہریوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے 14اپریل سے تعمیراتی شعبے کو کھولنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے لئے کئی ایک مراعات کا بھی اعلان کیا گیاہے، تعمیراتی شعبہ کسی بھی ملک کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اس شعبے کے ساتھ 2درجن سے زائد دیگر صنعتیں بالواسطہ جڑی ہوئی ہیں اس کے ساتھ کئی سمال انٹرپرائیزز بھی فعال ہوجاتی ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں دی جانے والی رعائیتوں کے ذریعے اس شعبے کو جمپ سٹارٹ ملے گا۔ درجنوں صنعتوں میں کام کا آغاز ہوگا۔ ایک مکان کی تعمیر و تکمیل میں 23طرح کی مہارتیں عمل پیرا ہوتی ہیں ذراغور کریں 23 مختلف قسم کی مہارتوں کے ذریعے ہی ایک عمارت تکمیل کے مراحل طے کرتی ہے ان 23مہارتی شعبوں کی طرف سے اشیاء و خدمات کی رسد کے لئے ان سے متعلقہ گھریلوں صنعتیں بھی مصروف ِ عمل ہوجاتی ہیں اس طرح معیشت میں مجموعی طور پر کھلاپن پیدا ہوتا ہے اسی لئے اعلان کردہ پالیسیوں کے نتیجے میں بہتری پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں اور لگتا ہے کہ بہتری پیدا ہو گی۔ انشاء اللہ

ویسے سردست پوری دنیا، اس کے 206 ممالک کرونا کی زد میں ہیں دنیا کی سپریم پاور، امریکہ اس کے آگے بے بس ہو چکی ہے چین جیسی عظیم طاقت اس کی گرفت سے تو نکلی ہوئی نظر آرہی ہے، لیکن اس کی معیشت نے کس قدر نقصان اٹھایا ہے اس کا ابھی اندازہ کرنا شاید ممکن نہیں ہے یورپی ممالک بھی کورونا کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آرہے ہیں دنیا کی مہذب اور تر قی یافتہ اقوام بھی اس وبا ء کے سامنے بے بس نظر ہی نہیں آرہی ہیں بلکہ اپنی اپنی بے بسی کا اعلان بھی کر چکی ہیں۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں بڑی بے بسی کی موت مرے ہیں اب سب سے زیادہ ہلاکتیں امریکیوں کی ہو رہی ہیں اس سے پہلے زیادہ اٹلی میں لوگ مر رہے تھے سپین میں بھی اموات کی شرح بلند ہو رہی ہے ایران بھی کورونا کی ہلاکت خیزی کا شکار ہے حرمین شریفین بھی لاک ڈاون کا شکار ہو چکے ہیں۔ مساجد میں نمازیوں کے اجتماعات پر بھی مکمل پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

تسخیر ِ کا ئنات کا دعویدار انسان، تعمیر و ترقی کی عظیم الشان مسند پر بیٹھا امریکہ اور عظمت کی بلندیوں کے کوہ ھمالیہ کو سر کرتا چین سب قومیں ایک نا دیدہ، نظر نہ آ نے والے بے جان کو رونا کے ہاتھوں انتہائی ذلت آمیز شکست کا شکار ہو چکی ہیں۔ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ وباکب اپنا دم توڑے گی۔ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نہیں، صرف لاک ڈاؤن ہے جو اس کا واحد حل ہے اور دوسری طرف خود اس سے جڑا ہوا ایک عمل کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنا، ماسک پہننا، صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا وغیرہ یہ سب تو ٹھیک ہے مگر کب تک؟اس کا جواب نہ ہونا خود ایک بہت بڑے بحران کا اندیشہ دکھا رہا ہے۔ اس بیماری کی ویکسین کا نہ ہونا تو اپنی جگہ ابھی تک یہ بھی طے نہیں ہوسکا کہ لوگوں کا ٹیسٹ کیسے کیا جائے، کس طرح یہ اندازہ لگایا جائے کہ کتنوں کو یہ بیماری اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور جب تک اس بات کا تعین نہیں ہوتا تب تک اندازہ ہے کہ یہ بیماری دنیا کے بہت سے حصوں تک پھیل چکی ہوگی۔ اگر مستقبل قریب میں اس کی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی تو پھر تمام طبی محقق ا س بات پر متفق ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ ایک سال کے اندریہ وبا دنیا کی لگ بھگ آدھی آبادی کو لگ چکی ہوگی ضروری نہیں کہ اموات زیادہ ہوں مگر یہ وبا دنیا کو ایک سنگین بحران کے شکنجے میں ڈال سکتی ہے۔

دوسری طرف کررونا نے معیشت کے پہیے جام کیے ہیں مگر ماحولیات کے حوالے سے کرونا کی وجہ سے کاربن و دھواں بہت حد تک رک گیا ہے۔ ہمارے کرہ ارض کی اوپر والی سطح پر جو Ozone layer ہے جو کئی جانب سے ٹوٹ رہی تھی وہ دوبارہ سے خود بخود جڑنے لگی ہے چین سے لے کر اٹلی تک ہوامیں ستھرائی آگئی ہے، جو نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو کی فضاؤں میں دھند تھی وہ غائب ہو گئی ہے۔ صرف فروری کے مہینے میں چین کے اپنے حصے کی جو آلودگی تھی اس میں پچیس فیصد یعنی بیس کروڑٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ میں کمی آئی ہے جو کہ برطانیہ کی ماحولیاتی آلودگی کے آدھے حصے کے برابر ہے جو ہر سال فضا میں پیدا ہوتی ہے۔ دنیا میں تیل کی کھپت میں ایک کروڑ بیرل کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اب تک مجموعی طور پر دنیاکی مجموعی پیدا وار میں دس فیصد تک کمی آچکی ہے کروڑوں لوگ بے روز گا ر ہو ئے ہیں یقینا اب اس بحران سے نکلنے کے بعد دنیا ایک نئی حکمت عملی کیساتھ آگے بڑھے گی۔ جمہورتیوں میں ووٹر اب سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالیں گے۔

دنیا میں جو اقوام جنگوں کو ہو ادیتی تھیں ان کی پذایرئی اب نہ ہو پائے گی۔ مگر کم از کم یہ بحران چھ ماہ تک مزید جاری رہتا نظر آرہا ہے اور اگر اس طرح ہم مجموعی طور پر اس کا جائزہ لیں تو اس وبانے معیشت کو بھی بہت نیچے تک لے جانا ہے اور دوسری طرف دنیا کے صحت کے نظام کو بھی کھوکھلا کرکے چھوڑدینا ہے جس سے کئی ممالک میں خانہ جنگی کی صورتحال چھڑ سکتی ہے اور یہ بھی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس وبا پر قابو پالیا گیا تو معیشت ہماری ہو یا دنیا کی، ایک جھٹکے میں ہی دوبارہ اپنی وہی حیثیت بحال کر لے گی جو اس وبا سے پہلے تھی، لیکن اگر بہت دیر ہوئی، مزید اموات واقع ہوئیں تو شائد پھر بہت وقت درکار ہوگا معیشت کو بحال ہونے میں۔ باتی غیب کا علم تو اللہ کو ہے۔ دیکھتے ہیں پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتاہے۔

مزید :

رائے -کالم -