چینی آٹا سکینڈل، گل ودھ گئی اے مختاریا

چینی آٹا سکینڈل، گل ودھ گئی اے مختاریا
چینی آٹا سکینڈل، گل ودھ گئی اے مختاریا

  

چینی اور آٹے پر واجد ضیاء کی سربراہی میں کمیٹی کی انکوائری رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے تہلکہ اس لئے مچا ہے کہ اس میں پردہ نشینوں کے نہیں بلکہ وزیر اعظم کے اردگرد بیٹھے ہوئے نمایاں نشینیوں کے نام آئے ہیں پہلی بار جہانگیر ترین کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اب ان کے وزیر اعظم عمران خان سے تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے۔ حالاتِ حاضرہ میں سب سے بڑی خبر ہی یہ ہے وہ جہانگیر ترین جنہیں عمران خان کی اے ٹی ایم مشین کہا جاتا تھا، جو حکومت کو ہر سرد و گرم سے بچانے کے لئے متحرک ہو جاتے تھے، جن کے جہاز کی اُڑان ناممکن کو ممکن بنانے کے کام کرتی تھی اور سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے کے باوجود عمران خان نے جہانگیر ترین کو نمبر ٹو کا عہدہ دیا ہوا تھا، اب خود کہہ رہے ہیں کہ ان کی عمران خان سے دوریاں چل رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ عمران خان کے دوست ہیں اور اب بھی ان کے وفادار رہیں گے۔ میرے نزدیک اگر اس انکوائری رپورٹ میں جہانگیر ترین کا نام نہ ہوتا تو اتنا بڑا دھماکہ بھی نہیں ہونا تھا۔ کیونکہ عمران خان اور جہانگیر ترین کو قربت کی وجہ سے ایک ہی سمجھا جاتا تھا۔ عمومی خیال یہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان انہیں بچا لیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور بالآخر وہ دراڑ جو ایک عرصے سے دونوں شخصیات میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، ڈال دی گئی، اس سے جہانگیر ترین کو تو بڑا سیاسی نقصان ہوا تاہم عمران خان کے سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ ہو گیا کہ وہ احتساب کے معاملے میں اپنے قریب ترین لوگوں کو بھی کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔

چینی سکینڈل کے بارے میں اس رپورٹ نے صرف جہانگیر ترین ہی کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ اس کارٹل مافیا کا ذکر کیا ہے جو برسہا برس سے اس ملک کے غریب عوام کو لوٹ رہا ہے۔ اس کا طریقہ واردات بھی اس رپورٹ میں بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ یہ کارٹل مافیا اپنے بے پناہ سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر ہر دور میں سبسڈی بھی لیتا ہے اور چینی کی مصنوعی مہنگائی پیدا کر کے اس کی قیمتیں بھی بڑھاتا ہے۔ فی الحال اس رپورٹ کے بعد شوگر ملوں کا فرانزک آڈٹ ہو رہا ہے، جس کے بعد اس امر کے ثبوت بھی سامنے آئیں گے کہ سبسڈی لے کر چینی کو بیرونِ ملک بھجوانے کی بجائے اسے ذخیرہ کر لیا جاتا ہے اور پھر اس کی کمیابی سے فائدہ اٹھا کر بلیک میں فراہم کی جاتی ہے۔

ابھی تک کوئی بھی حکومتی شخصیت اس بات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکی کہ جب اس بات کا علم تھا کہ چینی کی ملک میں کمی ہو سکتی ہے تو اسے ایکسپورٹ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی۔ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس پر تین ارب کی سبسڈی کیوں دی گئی۔ جس وقت ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی اس وقت چینی کا ریٹ 56 روپے کلو گرام تھا۔ اس کے کچھ عرصے بعد اچانک چینی کا ریٹ بیس روپے کلو بڑھا دیا گیا۔ یعنی یہ تو مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہے۔ ایک طرف عوام کے ٹیکسوں سے تین ارب روپے سبسڈی کی مد میں حاصل کر لئے اور دوسری طرف چینی کی بیس روپے کلو قیمت بڑھا دی۔ میں نے کئی بار جہانگیر ترین کو یہ کہتے سنا کہ چینی کی قیمت اس لئے بڑھی ہے کہ گنے کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جبکہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ گنے کی قیمت صرف دس روپے من بڑھی لیکن وہ بھی کاغذوں میں کیونکہ عملاً ملیں گنا 160 روپے من کے حساب سے خریدتی رہیں، جس پر کسانوں کی تنظیم نے باقاعدہ احتجاج بھی کیا۔

سوال یہ ہے کہ دس روپے من اضافے پر گنا ملے تو چینی کی قیمت بیس روپے فی کلو گرام بڑھائی جا سکتی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوائے جہانگیر ترین کے اور کسی شوگر مل مالک نے چینی کی مہنگائی کے لئے یہ عذر پیش نہیں کیا تو کیا یہ سمجھا جائے کہ جہانگیر ترین شوگر ملز کارٹل کے اصل سرپرست ہیں اور سب کچھ ان کی نگرانی میں ہوتا رہا۔

چینی کے بارے میں یہ انکوائری رپورٹ گزشتہ چار برسوں کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان چار برسوں میں ہر سال چینی کے لئے حکومت کی طرف سے سبسڈی دی گئی گویا شہباز شریف دور میں بھی پنجاب حکومت نے سبسڈی دی۔ اس بار ہاہا کار شاید اس لئے زیادہ مچی کہ دہرا منافع کمانے کے لالچ نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں۔ اگر شوگر ملز مالکان صرف سبسڈی تک ہی رہتے تو شاید اتنا شور نہ مچتا، مگر انہوں نے اس کے ساتھ چینی کو بلا جواز 56 روپے سے بڑھا کر 76 روپے کر دیا۔ لوگ دہاڑیں نہ مارتے تو شاید چینی کی قیمت سو روپیہ فی کلو کر دی جاتی۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ چینی کی کھپت اتنی ہی ہے، جتنی گزشتہ چار برسوں میں تھی۔ گنے کی قیمت اور دیگر مدات میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا، صرف ساڑھے تین فیصد سیلز ٹیکس نافذ کیا گیا، جس کا مطلب ہے چینی کی قیمت میں اگر اضافہ ہونا بھی تھا تو دو چار روپے ہوتا اور وہ 56 روپے سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 60 روپے فی کلو ہو جاتی، مگر یہاں تو کارٹل مافیا نے یکدم قیمت 80 روپے کلو تک پہنچا دی۔ اب سوچنے کا مقام یہ ہے کہ چینی مہنگائی کرنے والوں میں اتنی بے خوفی کیسے آئی۔ یہ کام تو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ چینی مہنگی کرنے والوں میں اتنی بے خوفی کیسے آئی۔

یہ کام تو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ کسی نے نہیں پوچھنا، پورا سسٹم ہماری گرفت میں ہے۔ ایسا سوچنے والے وزیر اعظم عمران خان کے قریب رہ کر بھی یہ حقیقت نہ جان سکے کہ وہ یہ وعدہ کر کے اقتدار میں آئے ہیں کہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑیں گے اور کسی کو عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت دیں گے۔ آج جہانگیر ترین اپنے خلاف انکوائری رپورٹ کو رد کرتے ہوئے یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے، وہ وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری اعظم خان کو الزام دیتے ہیں کہ سب کچھ ان کا کیا دھرا ہے۔ حالانکہ یہ انکوائری واجد ضیاء کی سربراہی میں ہوئی ہے، اور اس میں ملک کی تمام ایجنسیوں اور اسٹیٹ بنک کے نمائندے شامل تھے، پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کیہ ے کہ واجد ضیاء وہی آفیسر ہیں جنہوں نے پانامہ کیس کی انکوائری کی تھیا ور شریف فیملی بھی ان کی رپورٹ پر وہی الزام لگاتی تھی، جو آج جہانگیر ترین لگا رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہیں نے لکھا کہ چینی بحران کے ذمہ دار صرف جہانگیر ترین ہیں لیکن ان کا ردعمل کچھ ایساہ ے کہ جیسے انہی کو ٹارگٹ کیا گیا ہے، حالانکہ اسی رپورٹ میں وفاقی وزیر خسروبختیار کے بھائی کی شوگر مل اور میاں منیر کی رحیم یار خان قائم مل کا ذکر بھی ہے، جنہیں سبسڈی دی گئی اس وقت تو حکومت کرونا وائرس کے بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔

لکین اس سے پہلے جب بیکوقت آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہوا، دونوں چیزیں اچانک نایاب ہو گئیں تو عمران خان سخت دباؤ میں آ گئے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ چینیا ور آٹے کے بحران میں ملوث ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ایک بار تو انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر اس میں ان کے اپنے لوگوں کا ہاتھ ہوا تو وہ انہیں نشان عبرت بنا دیں گے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جہانگیر ترین سے عمران خان کی سردمہری بھی انہی دنوں شروع ہوئی جب چینی ا ور آٹے کے بحران نے سر ابھارا، انہی دنوں جہانگیر ترین نے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے یوٹیلٹی سٹور کو بازار سے کم قیمت پر چینی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی، جسے قبول نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے لئے یہ ایک بہت بڑا ٹیسٹ کیس ہے اس ٹیسٹ میں اگر وہ پاس ہو جاتے ہیں اور ذمہ داروں کو بغیر کسی دباؤ اور تعلق کو خاطر میں لائے احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں تو عوام کی نظر میں وہ ایک ایسے عادل حکمران کا مقام بنا لیں گے جس کی اس سے پہلے ملک میں مثال نہیں ملتی۔

مزید :

رائے -کالم -