کرونا سے لڑتے وقت اقبال کو بھی یاد کریں

کرونا سے لڑتے وقت اقبال کو بھی یاد کریں
کرونا سے لڑتے وقت اقبال کو بھی یاد کریں

  

حیران ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں ……کرونا وائرس کا موضوع اچھا بھلا جا رہا تھا۔ میڈیا دن رات لوگوں کی نیندیں حرام کر رہا تھا۔ پوری خدائی گویا دم بخود تھی۔ لاک ڈاؤن کا دور دورہ تھا۔ بچے، بوڑھے اور جوان سب سہمے ہوئے تھے کہ آنے والے دو ہفتوں میں نجانے کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایک حقیقت جو بالکل روشن اور شفاف ہو کر سامنے آ رہی تھی وہ یہ تھی کہ کرونا کا شور جب بھی تھمے گا اور اس کا زور جب بھی ٹوٹے گا اس کے جلو میں ایک جہانِ نو (A new World Order) سامنے آئے گا۔ طاقتور اور کمزور ممالک کی مساوات تبدیل ہو جائے گی۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معاشروں کا وہ امتیازی بھرم ٹوٹ جائے گا جس کا صدیوں پہلے آغاز ہوا تھا۔ ذرا غور کیجئے کہ امریکہ جیسی واحد سپریم پاور میں جب روزانہ کسی معمول کی وجہ کے بغیر ایک ہزار سے زیادہ شہری موت کے گھاٹ اتر رہے ہوں اور اس کے طول و عرض میں درجنوں نوبل انعام یافتہ سائنس دان ہوم لاک ہو کر بیٹھے ہوں اور کرونا کی کوئی ویکسین ہی ایجاد نہ کر سکیں تو ان کا میڈیکل کے شعبے میں نوبل علم و فن کس کام کا؟

گزشتہ کالم میں کہ دو اقساط میں شائع ہوا بتایا گیا تھا کہ یہ وائرس امریکی افواج کو بھی تاخت و تاراج کرنے کی راہوں پر گامزن ہے۔ یو ایس ایس روز ویلٹ جو امریکی طیارہ بردار فورس کا جوہری ری ایکٹر سے چلنے والا وارشپ ہے اور اس کا عملہ جو 5000افراد پر مشتمل ہے اس میں بھی 1000افراد کو گوام (Guam) جزیرے کے ایک بحری مستقر پر ڈاک (Dock) کرنا پڑا ہے اور اس کے کپتان کو اس لئے فارغ خطی دے دی گئی ہے کہ اس نے سچ بولا تھا اور حکامِ بالا کو آنے والے خطرے سے آگاہ کیا تھا اور استدلال کیا تھا کہ ہمارا اصل اثاثہ اس دیوہیکل شپ کا قد و قامت یا اس کا جوہری ری ایکٹر یا اس کے جدید ترین آلات و اسلحہ جات نہیں بلکہ وہ سپاہی (ملاح) اور نیول اور ائر آفیسرز ہیں جو دن رات اس کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ اب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ روز ویلٹ کا یہ کپتان (Skipper) جس کا نام کیپٹن کروزیر ہے اس کو بھی کورونا لاحق ہو گیا ہے اور وہ Positive ڈیکلیئر ہونے کے بعد آئسو لیشن میں چلا گیا۔ شائد اسے اب قیدِ حیات و بندِ غم کے ایک ہونے کا غالبی عرفان و ادراک حاصل ہو جائے۔ اس کے ہم وطنوں کو تو جی بھر کے ہو رہا ہے…… God Bless!

ہمارے جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر امریکہ اس وائرس کے سامنے بے بس ہے تو ہم بے چارے پاکستانی کس باغ کی مولی ہیں؟…… کرونا (یا کورونا) سے مرنے والوں کی تعداد ہمارے ہاں گزشتہ ہفتے 18تھی جو ایک ہفتے میں تین گنا ہو کر 52تک جا پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کا زمانہ ء اوج (Peak) ابھی شروع نہیں ہوا۔ اگر اپریل کے اواخر میں (خدا نہ کرے) پاکستان میں بھی پیک کا زمانہ شروع ہو گیا تو نجانے کیا ہو گا۔

یہ تو خدا بھلا کرے عمران خان کا کہ انہوں نے چینی اور آٹے کے کمیشن کی رپورٹ آؤٹ کر دی ہے۔ کئی وزراء آگے پیچھے کر دیئے گئے ہیں، ایک دو کو چھٹی کرا دی گئی ہے، چند بیورو کریٹوں کو بھی ”کُھڈّے لائن“ (OSD) لگا دیا گیا ہے اور بہت سوں کو 25اپریل تک کی ”نوید“ سنا دی گئی ہے…… فرانزک رپورٹ کئی اوروں کے لئے بھی بیرونی دروازہ دکھانے کا باعث ہو گی…… انشاء اللہ……اب ہمارا سارا میڈیا نامِ خدا کرونا کو چھوڑ کر اس نئے سکینڈل کے بخیئے ادھیڑنے میں مصروف ہو گیا ہے۔ اگر 25اپریل تک اس سکینڈل کی ماتم زنی جاری رہتی ہے تو واثق امید ہے کہ 25 اپریل کے بعد شوگر وائرس، کرونا وائرس سے زیادہ ”مہلک“ ہو کر سامنے آ سکتا ہے…… ہم لوگ کہ نئی خبروں کے متوالے ہیں، کرونا کو بھول جائیں گے اور اس نئے وائرس کی داد و بیداد سننے اور دیکھنے میں اس قدر محو ہو جائیں گے کہ آج جو خطرات، کورونا کے مستقبل کے بارے میں بتائے اور سنوائے جا رہے ہیں وہ بیک برنر پر رکھ دیئے جائیں گے…… خدا کرے ایسا ہی ہو! کرونا کو بھول جانے کا کوئی تو بہانہ ملنا چاہیے!!

کنفیوز کر دینے والی اس کرونائی فضا کا ایک اور رخ بھی ہے اور یہ رخ کم ا زکم پاکستان (اور دوسرے گرم ایشیائی ممالک کی حد تک) کے لئے بڑا حوصلہ افزا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی افواج میں تو کرونا بھلے پھیلے یا نہ پھیلے، پاک افواج میں نہیں پھیلے گا۔ اگر اس نے پھیلنا ہوتا تو اس کی خبریں اب تک میڈیا پر آ چکی ہوتیں۔ یہ دور، ابلاغی یلغار کا دور ہے، اس میں کوئی بات زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی۔ پاکستان آرمی / نیوی/ ائر فورس میں اگر (خدانخواستہ امریکی بحریہ کی طرح کوئی کرونائی وبائی فضا پیدا ہوتی تو اب تک یہ خبر منظرِ عام پر آ چکی ہوتی۔ اگر ان افواجِ ثلاثہ کے ہیڈکوارٹرز چاہیں بھی تو ایسی خبروں کو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے۔ اگر پاکستان کی کسی سروس میں کرونا وائرس پھیل رہا ہوتا تو اس کو اب تک خفیہ نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ اس کی وجہ کچھ بھی ہو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس کا سہرا خود افواج پاکستان کے سینئر کمانڈروں کے سر باندھنا چاہیے کہ انہوں نے احتیاطی تدابیر نافذ کرنے میں از بس فرض شناسی کا مظاہرہ کیا اور غائت درجے کی بیداری ء دل و دماغ کا ثبوت دیا اور خود جوانوں اور افسروں نے بھی احساسِ ذمہ داری کا بے مثال نمونہ پیش کیا۔ تاہم ان باتوں کا جواب آنے والے ماہ و سال دیں گے۔جب کرونا کی گَرد بیٹھ جائے گی تو تب معلوم ہوگا کہ افواجِ پاکستان بمقابلہ افواجِ عالم کہاں کھڑی ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس زیادہ گرم علاقوں / خطوں میں کمزور یا بے اثر ہو جاتا ہے…… شائد ایسا ہی ہو…… اس موضوع پر ماہرینِ امراضِ وبائی، منقسم الرائے ہیں۔ ایک گروپ کہتا ہے کہ کرونا وائرس کی تاثیر میں سرد یا گرم علاقے کو کوئی دخل نہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو ممالک NATO کا حصہ تھے ان میں یہ وائرس زیادہ تیزی سے پھیلا اور ہلاکت انگیزی کا سبب بنا۔ نارتھ اٹلانٹک یعنی شمالی اوقیانوس کے ممالک میں سارا یورپ، سارا شمالی امریکہ (امریکہ اور کینیڈا) اور ترکی تک آتا ہے اور ان ممالک میں واقعی کرونا نے بڑی تباہی مچائی (اور مچا رہا ہے) لیکن وہ ممالک جو جنوبی اوقیانوس یا خطِ جدّی پر واقع ہیں اور ان کی آب و ہوا گرم ہے ان میں کرونا کا پھیلاؤ نسبتاً کم (اور بہت ہی کم) ہے…… ایران البتہ ایک ایسا ملک ہے جو خطِ استوا اور خط جدّی اور اس کے جنوبی علاقوں میں واقع ہے۔ اس لئے ایران پر کرونا وائرس کے حملے کی کوئی مدلل یا سائنٹیفک وجہ سامنے نہیں آئی۔ ایران میں یہ وبا قُم اور مشہد سے شروع ہوئی۔ لیکن ان دونوں شہروں کی آب و ہوا اگرچہ ایران کے باقی جغرافیائی حصوں کی نسبت سر دہے لیکن اس حساب سے دیکھا جائے تو پاکستان کے شمالی علاقے، قُم سے بھی زیادہ سرد ہیں لیکن وہاں بھی تو کرونا کے مریض پائے گئے ہیں (اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے)

وبائی امراض کے ماہرین کرونا پھیلاؤ کی ایک اور وجہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جن ممالک میں سور کا گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے یا اس جانور کی چربی سے جو غذائیں تیار ہو کر ہم جیسے ایشیائی ممالک میں درآمد کی جاتی ہیں، وہ کرونا کا زیادہ شکار ہوئے ہیں۔ ووہان میں کتے، بلیوں اور دوسرے حرام جانوروں کے علاوہ سور کا گوشت بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے اور شراب نوشی کی لَت بھی عام ہے۔ اس لئے اس دلیل میں وزن نظر آتا ہے کہ جو اقوام سور کا گوشت کھاتی ہیں ان کا اعصابی مزاحمتی نظام (Immune System) ان ممالک کے باشندوں کے علی الرغم زیادہ کمزور اور ضعیف ہوتا ہے جو حلال گوشت کھاتے ہیں …… وجہ کچھ بھی ہو ہم پاکستانیوں کا فرض ہے کہ:

1۔ لاک ڈاؤن کی پابندی کریں

2۔سماجی قربت کو بھول جائیں

3۔بِلا ضرورت خود کو نمودہ نہ کریں

4۔ہمہ وقت ٹی وی وغیرہ کے سامنے نہ بیٹھیں

5۔ہلکی پھلکی ورزش (اندرونِ خانہ)کریں

6۔ آج کل پولن بھی پھیلی ہوئی ہے، اس کے اثرات اور کرونا کے ابتدائی حملے کی علامات یکساں ہیں اس لئے یہ علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر کو دکھائیں۔

7۔گاؤں، قصبے اور شہر ایک ہو چکے ہیں۔ ماس کمیونی کیشن سسٹم نے دیر سویر کی تفریق مٹا دی ہے اس لئے دیہات والے اپنی گلیوں کی مسجدوں کے اماموں کے پند و نصائح سے پرہیز کریں۔ یادِ خدا سے غافل نہ ہوں لیکن یاد رکھیں یہ یاد تنہائی میں زیادہ موثر ہوتی ہے اور آسمان تک پرواز کرنے میں زیادہ برق پا ہوتی ہے۔کرونا سے لڑتے وقت ملاؤں کی بجائے اقبال کو یاد کریں جس نے کہا تھا:

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

اے پیرِ حرم! تیری مناجاتِ سحر کیا؟

مزید :

رائے -کالم -