شانگلہ میں کورنا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد5ہو گئی

شانگلہ میں کورنا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد5ہو گئی

  

الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں کورنا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد5ہو گئی ایک متاثرہ شخص محمد زر چل بسا، شانگلہ میں اب تک 57کورونا کے مشتبہ افراد کے نمونے لیب بھیجوا دئے گئے جس میں مجموعی طور پر 40افراد کی ٹسٹ میں وائرس کی تصدیق نہ ہو سکی جبکہ 12افراد کی ٹسٹ انے کا انتظار ہیں۔کورونا سے متاثرہ 14افراد کو اپنے گھروں میں قرنطینہ کرکے وہاں کی علاقے بدستور سیل ہیں۔ پورن کے علاقہ دونکاچہ چوگا سے تعلق رکھنے والے عبد الباعث کا ٹسٹ تیسر مرتبہ کلئیر انے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تاہم علاقہ سیل ہے۔ شانگلہ میں کورونا وائرس سے پہلے موت کے بعد عوام میں شدید خوف و حراس پھیل گیا۔ علاقہ میرہ بشام کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور جان بحق ہونے والے محمد زر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بشام میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں مقامی انتظامیہ کے چند افراد نے شرکت کی۔ شانگلہ میں اب تک انے والے تمام متاثرہ افراد کی ٹرائیول ہسٹری موجود ہونے کے بعد بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ شانگلہ میں وائرس نہیں تاہم یہ باہرمتاثرہ علاقوں سے اپنے گھر ائے ہوئے لوگ ہیں۔کورونا وائرس سے جان بحق محمد زر کاتعلق شانگلہ علاقہ میرہ سے تھا اور وہ گلگت میں باورچی کا کام کرتا تھا اور وہ 29مارچ کو گھر ایا تھا جس کو علامات ظاہر ہونے کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بشام منتقل کر دیا گیا جہاں وہ اپنی زندگی کی بازی ہا ر گیا۔ شانگلہ میں پہلا کیس پورن کے علاقے دونکاچہ چوگا میں عبد الباعث نامی شخص میں پایا گیا جو صحتیاب ہو چکا ہے اور وہ لاہور سے ایا تھا دوسرا کیس بیلے با با میں میل نرس حیدر علی میں پایا گیا جو تا حال اپنے گھر میں قرنطین ہے وہ کالام کے ہسپتال میں کام کرتا تھا تیسرا کیس علاقہ کھنڈروں کروڑہ میں حسن شریف جو رحیم یار خان سے ایا ہے وہ بھی اپنے گھر میں قرنطین میں ہے،چوتھا کیس علاقہ کوزکانا میں فضل حکیم میں وائرس کی تصدیق ہوئی جو درہ ادم خیل سے ایا ہے اور وہ بھی اپنے ہی گھر میں قرنطین ہے جبکہ آخری اطلاعات کے مطابق پانچواں کیس میرہ میں محمد زر نامی شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور وہ ہسپتال بشام میں دم توڑ گئی۔ شانگلہ میں کورونا وائرس کی کیسیز میں ایک ہفتے سے اضافے کے بعد عوام میں شدید خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم بیشتر ماہرین شانگلہ میں کورونا وائرس کی اپنی کیس نہ ہونے کے بعد بتاتے ہیں کہ یہاں سے باہر کام کرنے والوں لوگوں کی تشخیص منظر عام پر لائی گئی ہیں اور لاک ڈاون کے بعد یہ لوگ اپنے گھروں میں ائے اور ملک کی دیگر علاقوں سے وائرس سے پہلے یہ لوگ متاثر ہو چکے تھے۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -