قیدیوں کی رہائی میں تاخیر، طالبان کاافغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان، دوحہ معاہدہ پر مکمل عملدرآمد، ورنہ فوج واپس، امداد بند، امریکہ کا اشرف غنی حکومت کو انتباہ

قیدیوں کی رہائی میں تاخیر، طالبان کاافغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا ...

  

واشنگٹن،دوحہ(اظہر زمان، بیورو چیف،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ٹرمپ نے کابل انتظامیہ کو دھمکی دی ہے کہ جس طرح دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا وہ طالبان کیساتھ بات چیت کر کے سمجھوتہ کریں ورنہ وہ افغانستان میں موجود تمام امریکی فوج فوراً واپس بلا لیں گے ”این بی سی“ ٹیلی ویژن نے ایک تازہ نشریے میں انکشاف کیا ہے کہ یہ سخت پیغام امر یکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ذریعہ پہنچایا گیا جنہوں نے دو ہفتے قبل دارالحکومت کابل جا کر افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور بعد میں قطر میں طا لبا ن لیڈر ملا برادر سے بات چیت کی تھی اور قطر معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا تھا، قطر معاہدہ صدر ٹرمپ کے تین سالہ دور اقتدار کی سب سے بڑی فارن پالیسی کامیابی قرار دیا گیا تھا، اسلئے وہ کسی صورت اسے ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتے، کابل انتظامیہ کے لیڈر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شدید اختلافات کے باعث افغانیوں کی متحدہ حکومت قائم کر نے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، انہوں نے طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے جو ٹیم تیار کی تھی اسے طالبان نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس میں افغان سوسائٹی کے تمام طبقوں کی نما ئند گی نہیں ہے ”این بی سی“ ٹیلی ویژن کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کابل انتظامیہ پر واضح کر دیا تھا کہ اگر انہوں نے قطر کے امن معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کیا تو امر یکہ نہ صرف پوری فوج افغانستان سے نکال کر اس کی سکیورٹی ختم کر سکتا ہے بلکہ ان کو دی جانیوالی ایک ارب ڈالر کی امداد بھی بند کر دی جائیگی، معاہدے کے مطابق کابل انتظامیہ اور طالبان کے درمیان 10 مارچ سے مذاکرات کا آغاز ہونا تھا، لیکن اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں انتظامیہ کے دونوں دھڑوں میں اختلافات کے باعث ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔دوسری طرف افغان حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلا ن کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو قیدیوں کی رہائی کے عمل کی تصدیق کیلئے کابل بھیجا گیا تھا تاکہ تصدیق کی جاسکے کہ معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع ہوا ہے یا نہیں۔سیاسی دفتر کے ترجمان نے کہا بدقسمتی سے قیدیوں کی رہائی کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے اور صرف بہانے بنائے جارہے ہیں، تاہم اب قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ہماری ٹیم کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔

امریکہ انتباہ

مزید :

صفحہ اول -