جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شکیل الرحمن کوکنفرم کرنیکی سفارش کردی

جوڈیشل کمیشن نے جسٹس شکیل الرحمن کوکنفرم کرنیکی سفارش کردی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)ججوں کے تقررسے متعلق جوڈیشل کمیشن نے لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شکیل الرحمن خان کوکنفرم کرنے کی سفارش کر دی، کنفرمیشن کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی سینیارٹی لسٹ بھی تبدیل ہوجائے گی،مسٹر جسٹس شکیل الرحمن خان گزشتہ سال کنفرم نہ ہونے کے باعث اپنے بیچ کے 4ججوں سے جونیئرہوگئے تھے،مسٹر جسٹس شکیل الرحمن خان اس وقت سنیارٹی لسٹ میں 41ویں نمبر پر ہیں جبکہ کنفرمیشن کے بعد اپنی تاریخ پیدائش کی بنا پر وہ 37ویں نمبر پر آجائیں گے۔مسٹر جسٹس شکیل الرحمن خان کی کنفرمیشن کا فیصلہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیاگیا۔لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے فاضل جج کی کنفرمیشن کی سمری جوڈیشل کمیشن کو بھجوائی تھی۔مسٹر جسٹس شکیل الرحمن 23 اکتوبر 2018 ء کو لاہورہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج مقررہوئے تھے۔ 2019ء میں ان کی شدید بیماری کی بنا پر انہیں کنفرم کرنے کی بجائے 6ماہ کی توسیع دی گئی تھی۔مسٹر جسٹس شکیل الرحمن ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی رہے ہیں۔وہ لاہورہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خلیل الرحمن خان کے صاحبزادے ہیں۔جسٹس (ر)خلیل الرحمن خان سپریم کورٹ کے ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیاتھا۔

کنفرم سفارش

مزید :

پشاورصفحہ آخر -