پشاور میں ٹارگٹڈ سرچ آپریشن‘ 2 اشتہاری 4 ملزمان گرفتار

پشاور میں ٹارگٹڈ سرچ آپریشن‘ 2 اشتہاری 4 ملزمان گرفتار

  

پشاور(کرائمز رپورٹر)کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطرتھانہ انقلاب کی حدود میں ٹارگٹڈ سرچ آپریشنز کرتے ہوئے دو مجرمان اشتہاری سمیت 4 ملزمان افرادکو گرفتار کرلیاگیاہے، پولیس نے گرفتار افراد کے قبضہ سے مجموعی طور پر، 3 عدد کلاشنکوف،ایک عدد رائفل، دو عدد پستول، محتلف بو رکے کارتو س برآمد کر لی گئی ہے، گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے ایس ایس پی آپریشن ظہور بابر آفریدی کی خصوصی ہدایت شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر تھانہ انقلاب کی حدود میں انفارمیشن بیسڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز کیا گیا،ڈی ایس ڈی گران اللہ کی نگرانی میں ایس ایچ او احمدجان کے ساتھ ساتھ بی ڈی یو، سنیفر ڈاگ، لیڈیز پولیس اورلوکل پولیس نے حصہ لیا،ٹارگٹڈ آپریشنز کے دور ان د و مجرمان اشتہاری سمیت 4 ملزمان آصف ولد شاہ سید،ثاقب ولد معرفت،عادل ولد مینہ دار اور قیصر ولد شاہ سید ساکنا ن کگہ ولہ کو گرفتار کرلیاگیاہے، پولیس نے گرفتار افراد کے قبضہ سے مجموعی طور پر، 3 عدد کلاشنکوف،ایک عدد رائفل، دو عدد پستول، محتلف بو رکے کارتو س برآمد کر لی گئی ہے، گرفتار ہونے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے میری لڑائی صرف کورونا وائرس سے نہیں بلکہ خود سے بھی ہے کیونکہ اسصورتحال نے مجھے ذہنی تناؤ میں مبتلا کردیا ہے اور کبھی کبھار اپنے وجود کو اپنے بچوں کے لئے خطرہ محسوس کرتی ہوں ’ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی چئیرپرسن کوثر نیازنے کیا ہے جو 26 سال سے خیبرٹیچنگ ہسپتال میں نرسز سپروائزر کے حیثیت سے کام کر رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیالات اور حالات ہر اس نرس، ڈاکٹر او میڈیکل سٹاف ممبر کے ہیں جو اس عالمی وبا میں اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کوثر نیاز نے کہا ہے کہ نرسز، پیرامیڈیکل اور باقی محکمہ صحت کے سٹاف کو حکومت سلام تو کررہی ہیں لیکن وائرس سے ان کو محفوظ رکھنے کے لیے خاطرخواہ اقدامات نہیں کررہی‘ہم 24 گھنٹے ایمرجنسی کے لیے تیاررہتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہماری فیملی بھی ڈپریشن کا شکارہیں، ان کو مناسب وقت بھی نہیں دے پاتے، یہ حال سب نرسز کا ہے، ہم فرنٹ لائن پرکام کررہے ہیں سارا دن ہسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں تو ظاہر ہے انفیکشن بھی ہمارے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور ہمارے گھر والے بھی آسانی سے اس کا شکار ہوسکتے ہیں ’کوثر نیاز نے وضاحت کی۔جب ایک نرس کورونا کے مریضوں کا دیکھ بھال کرتی ہیں تو اس کو قریبا دو ہفتوں تک اپنوں سے دور قرنطینہ میں رہنا پڑتا ہے لیکن اس کے باوجود قرنطینہ مراکز میں بھی ان کو مناسب سہولیات نہیں دی جاتی۔حفاظتی اقدامات اور سہولیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کوثر نیاز نے کہا کہ کورونا مریضوں کی دیکھ بال ڈاکٹروں سے زیادہ نرسز کرتے ہیں لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ انہیں ذاتی حفاظتی سامان یعنی مخصوص یونیفارم، ماسک، کورآل، گاون اور دستانے وغیرہ نہیں مل رہے۔ میڈیا پہ آواز اٹھائی، متعلقہ لوگوں کو بھی آگاہ کیا لیکن پھر بھی بہت کم نرسز کو یہ سامان ملا ہیں جبکہ حکومت بھی کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔۔کوثر نیاز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نرسز سمیت تمام پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی اقدامات کے لیے ضروری سامان مہیا کیا جائے تاکہ ڈپریشن کے ان حالات میں نہ صرف خود کو محفوظ رکھ سکیں بلکہ اپنے خاندان والوں کی حفاظت بھی یقینی بناسکیں کیونکہ فرنٹ لائن پرکام کرنے والوں کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ ہے اور وہ اس سے نہ صرف ذہنی طور پر متاثر ہوئے ہیں بلکہ جسمانی طور پربھی وہ اس مہلک وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔خیال رہے کہ خیبرپختوں خوا میں کورونا وائرس سے اب تک 6 نرسز متاثر ہوئی ہیں َ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -