انوکھے فیصلے، نشترمیں انتظامیہ، ڈاکٹر ز آمنے سامنے

  انوکھے فیصلے، نشترمیں انتظامیہ، ڈاکٹر ز آمنے سامنے

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)نشتر ہسپتال انتظامیہ جو پہلے ہی کورونا کے حوالے سے اپنے عملے کی حفاظت میں ناکام ہو چکی ہے اب نشتر میڈیکل کالج انتظامیہ کی جانب سے بھی غیر منطقی (بقیہ نمبر50صفحہ6پر)

انوکھے فیصلے کئے جا رہے ہیں،نشتر میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین کی جانب سے ہسپتال کے اہم شعبہ جات کے سینئر رجسٹرارز کو انوکھا حکم جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کورونا آئی سو لیشن وارڈ میں دن میں دو بار ہر سینئر رجسٹرار لازمی دورہ کر کے حاضری لگائے گا چاہے مریض ہو نا ہو تاہم اس حوالے سے ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی سے ملاقات کی جس پر وائس چانسلر نے یقین دہانی کروائی کہ بلاوجہ متعلقہ شعبہ کا مریض نہ ہونے کے باوجود چکر لگانا واقعی ہی تمام سٹاف کے لئے مسئلہ ہو گا اس کا کوئی اور حل نکالا جائیگا تاہم ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے پرنسپل نشتر میڈیکل کالج کو اس معاملے کا کوئی اور حل نکالنے کا کہا تاہم پرنسپل نے صاف انکار کر دیا جس پر گزشتہ روز ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن ملتان کا دوبارہ اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کے تمام کنسلٹنٹ جو آئسولیشن وارڈ میں آن کال ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں وہ روزانہ مارننگ شفٹ میں اٹینڈنس لگائیں گے اور بقیہ وقت فون پر آن کال ہونگے۔اور جب کبھی کسی مریض کو دیکھنے کی ضرورت ہوئی تو دن ہو یا رات مریض کو فوری طور پر اٹینڈ کر کے دیکھا جائے گا۔اگر کسی کنسلٹنٹ کو انتظامیہ کی طرف سے نشانہ بنایا گیا تو ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان اور پاینیر یونٹی گروپ کے صدور نے بھی اظہار یکجہتی کا اظہار کیا اور انتظامیہ کو پیغام دیا کہ کسی کنسلٹنٹ کے ساتھ زیادتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور بغیر حفاظتی سامان اور لباس کے کوئی مریض نہیں دیکھا جائے گا۔ ہم کام کرنے کے لئے پرعزم ہیں اور ہر وقت تیار ہیں مگر انتظامیہ کے فیصلوں کو نہیں مانتے،اس حوالے سے وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

آمنے سامنے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -