مظفر گڑھ: کرونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر ز کا ترکی ہسپتال میں ہنگامہ، توڑ پھوڑ

    مظفر گڑھ: کرونا وائرس سے متاثرہ ڈاکٹر ز کا ترکی ہسپتال میں ہنگامہ، توڑ ...

  

مظفرگڑھ، کوٹ ادو(نامہ نگار، تحصیل رپورٹر)کرونا وائرس سے متاثرہ ینگ ڈاکٹرز نے رجب طیب اردوان ہسپتال میں ہنگامہ آرائی،توڑ پھوڑکردی ہسپتال انتظامیہ مظفرگڑھ کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ہسپتال کے شیشے توڑ کر حفاظتی حصار توڑتے ہوئے نزدیکی کالونی میں داخل ہو گئے بغیر حفاظتی انتظامات اپنائے علامہ اقبال کالونی میں داخل ہوکر ینگ ڈاکٹرز نے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں (بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

.ہسپتال انتظامیہ کی اطلاع پر ڈی پی او مظفرگڑھ ندیم عباس اور پولیس موقع پر پہنچ گئے اور پولیس نے متاثرہ ڈاکٹروں کو رہائشی کالونی سے واپس ہسپتال جانے پر مجبور کیا. ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کرونا وائرس سے متاثر 11 ڈاکٹروں کو علاج کے لیے گزشتہ روز رجب طیب اردوان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا کرونا وائرس سے متاثرہ ینگ ڈاکٹرز ہسپتال میں پروٹوکول اور الگ الگ کمرے طلب کررہے تھے. چنانچہ کمشنر ڈیرہ غازیخان کی مداخلت پر ینگ ڈاکٹرز کو دوبارہ ڈی جی خان منتقل کیا گیا. رجب طیب اردوان ہسپتال کی انتظامیہ نے واقعے سے متعلق سیکرٹری ہیلتھ کو رپورٹ بھیج دی. ہسپتال سے ینگ ڈاکٹرز کے شیشے توڑ کر فرار ہونے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے. مظفرگڑھ کے ڈی پی او ندیم عباس نے واقعے کی تصدیق کی ہے. انہوں نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز ہسپتال سے نکل کر علامہ اقبال کالونی کے داخلی راستے پر بیٹھ گئے تھے.ڈی پی او کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کو واپس ڈیرہ غازیخان بھجوادیا گیا. ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلے میں تیزی آنے اور وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے جہاں اقدامات جاری ہیں وہاں مشتبہ مریضوں کی آمدکا سلسلہ بھی تیزہو گیا ہے،گزشتہ روز تحصیل ہیڈ کورٹر ہسپتال کوٹ ادو میں صوابی سے آنے والے تبلیغی جماعت کے 10مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کیلئے چوک سرور شہید ہسپتال سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو کے بنائے گئے25بیڈز پر مشتمل آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیاہے،تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مشتبہ مریضوں کی آمد سے شہریوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے،اس بارے شہریوں نے بتایا کہ مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ یا طبی طور پر علیحدہ رکھنے کے لیے پاک آرمی کی زیر نگرانی ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج کوٹ ادو میں 170بیڈ پر مشتمل آئسولیشن وارڈ او ر چوک سرور شہید میں گورنمنٹ ڈگری کالج میں 150بیڈز پر مشتمل آئسولیشن وارڈ وں کیلئے گزشتہ دنوں دورہ کیا تھا اور وہاں آئسولیشن سنٹروں کو فعال کرنے کے انتظامات بھی کرائے گئے تھے مگر انتظامیہ کی نااہلی کے باعث ان آئسولیشن سنٹروں کو تا حال فعال نہ کیا جا سکا،شہریوں غلام عباس بھٹہ، سجاد حسین، فیض بخش، عبدالغفار،کامران بھٹہ،عبدالحمید بھٹہ، محمد یونس، عبدالغفار خان، محمد عبداللہ،محمد کاشف،محمدنعیم محمد ناصر، کاشف کھگہ، اسلام الدین،بخاری روڈ کے صدرعاشق حسین، امجد گوگھانی ودیگرنے کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کرونا متاثرین کے لیے آئسولیشن وارڈز قائم تو قائم کردیا گیا ہے مگر یہاں مستقل آمد و رفت کے باعث دوسرے مریضوں کو اس وبا سے بچانا مشکل ہوجائے گا،ایک بار یہاں کرونا وائرس کے متاثرین آنا شروع ہو گئے تو اس ہسپتال کو عام افراد اور دوسرے مریضوں کے لیے بند کرناپڑے گا جبکہ اس پرہجوم ہسپتال میں کرونا وائرس باآسانی دوسروں میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

ہنگامہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -