کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں پاکستانیوں کی قوت مدافعت کا اہم کردار

  کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں پاکستانیوں کی قوت مدافعت کا اہم کردار

  

لاہور(جاوید اقبال)پاکستان میں کرونا وائرس کی شدت دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہونا اللہ کا خاص کرم اور پاکستانیوں میں وائرس کے مقابلے میں قوت مدافعت کا بہتر ہونا ہے، وائرس سے ہونے والی اموات میں صرف تین اموات خالصتاٗ کرونا وائرس سے ہوئیں باقی جاں بحق ہونے والوں کی اکثریت کو دیگر امراض بھی لاحق تھے زیادہ تر کو ہیپا ٹائٹس،ٹی بی،کینسر اور گردوں کے امراض بھی تھے۔حکومت کا بر وقت لاک ڈاؤن کر کے لوگوں کو گھروں تک محدود کرنا اور سماجی روابط منقطع کرنے جیسی حکمت عملی نے بھی مرض کی شدت اور پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔علاوہ ازیں مریضوں کا زیادہ تعدادمیں سامنے نہ آنا کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت عام نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر شہری سال میں پانچ سے زائد مرتبہ نزلہ زکام اور فلو میں مبتلاء ہوتا ہے جبکہ کرونا وائرس کی ابتدا بھی فلو سے شروع ہوتی ہے اور 80فیصدلوگ ایسے ہیں جن میں اگر کرونا وائرس کا حملہ ہوا بھی توگھروں میں وہ عام دوائی کھانے سے ٹھیک ہو گئے۔ اس حوالے سے کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ پنجاب کے وائس چیئرمین پروفیسر اسد اسلم خان نے بتایاکہ پاکستان میں بھی وائرس وہی ہے جو دیگر ممالک میں ہے لیکن یہاں کے لوگوں کے لائف سٹائل میں بیماری سے لڑنے کیلئے بھرپور قوت مدافعت کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب تک کی صورتحال خطرناک ضرور ہے مگر تشویش ناک نہیں مگر حکومت کو مزید سخت اقدامات کے ذریعے لوگوں کو مزید کچھ عرصہ گھروں میں رکھناہو گا۔

اہم کردار

مزید :

صفحہ اول -