کرونا سے اموات کی شرح 1.4فیصد، کل سے امداد ی چیک ملیں گے: وفاقی وزراء

کرونا سے اموات کی شرح 1.4فیصد، کل سے امداد ی چیک ملیں گے: وفاقی وزراء

  

اسلام آباد(آن لائن)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح 1.4ہے، پاکستان میں اب تک 54افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ کرونا کے تشویشناک 28مریض ابھی بھی آئی سی یو میں وینٹی لیٹر ز پرہیں۔وفاقی وزیر اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ 24گھنٹوں میں کچھ قرنطینہ سینٹرکے نتائج ہمارے ڈیٹا بیس سسٹم میں شامل کئے گئے۔ جس کے مطابق ملک میں 3ہزار 434مصدقہ کیسز ہیں۔ بڑی تعداد ریکوری کی اسٹیج میں ہے۔ ملک میں 429افراد مکمل طور پرصحت یاب ہوچکے ہیں۔ پچھلے 24گھنٹوں میں 577نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ مستقبل میں کرونا کی کٹس لاکھوں میں دستیاب ہوں گی جبکہ مستقبل میں لیبارٹریز کی تعداد 32اور پھر40تک لے جائیں گے۔ ملک میں اس وقت 18 لیبارٹریز ہیں جو کرونا وائرس کے پی سی آرٹیسٹ کرسکتی ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ 39ہزار500حفاظتی کٹس صوبوں کو فراہم کی جاچکی ہیں۔ اس میں آزاد کشمیراور بلوچستان کے 4،اسلام آباد کے7، خیبرپختونخوا کے 21، پنجاب کے75اورسندھ کے 42ہسپتالوں میں حفاظتی کٹس پہنچائیں گے۔ اپریل کے آخر میں 25ہزار یومیہ ٹیسٹ کی کوشش کریں گے۔ جن ہسپتالوں میں 4وینٹی لیٹرزہیں، ان کو ترجیحی بنیادوں پر وینٹی لیٹر فراہم کریں گے۔کرونا وائرس سے مقابلے کیلئے ٹیسٹنگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے،اس پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ پہلے 700 سے 800ٹیسٹ روزانہ کیے جارہے تھے اور اب اسے2ہزار یومیہ تک لے گئے ہیں۔مزید ٹیسٹنگ مشینیں لائی جارہی ہیں۔ حکومت نے ہدف متعین کیا ہے کہ اپریل کے آخرتک روزانہ 25ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی جائے گی۔ اسد عمر نے کہا کہ کفالت پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کی مالی معاونت کریں گے، جمعرات سے چیک تقسیم ہونا شروع ہو جائیں گے۔ 12ہزار روپے پہنچانے کی تیاری کرلی گئی ہے اور 9اپریل سے 40لاکھ خاندانوں تک 16ہزار 923تقسیم کے پوانٹس کے ذریعے رقم کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے طبی عملے کیلئے حفاظتی سامان صوبوں کو دیا جارہا تھا تاہم جمعرات سے وفاق یہ سامان اور آلات براہ راست ہسپتالوں تک پہنچائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کے بعض نمائندوں کی جانب سے شکایت کی جارہی ہے کہ وفاق انہیں فنڈز فراہم نہیں کررہا۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ وفاق طبی عملے کو سامان کی فراہمی، ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کی مالی معاونت اور یوٹیلیٹی اسٹورز وغیرہ کے ذریعے ہی مدد کرے گا براہ راست رقوم فراہم نہیں کی جائیں گی۔

وفاقی وزراء

مزید :

صفحہ اول -