2019آخری سہ ماہی، موبائل فونز کے ذریعے ساڑھے 31کروڑ کی بینکنگ ٹرانزیکشز ہوئیں

2019آخری سہ ماہی، موبائل فونز کے ذریعے ساڑھے 31کروڑ کی بینکنگ ٹرانزیکشز ہوئیں

  

اسلام آباد (اے پی پی) گذشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران موبائل فونز کے ذریعے 31 کروڑ51 لاکھ بینکنگ ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں، خطے کے دیگر ممالک کے مقابلہ میں پاکستان میں موبائل فونز (ای کامرس)کے ذریعے بینکاری کا رجحان کم ہے۔ ای کامرس کے حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2019 ء کے آخری تین ماہ میں اکتوبر تا دسمبر کے دوران 31 کروڑ 51 لاکھ موبائل فونز ٹرانزیکشنز کے ذریعے رقوم کا لین دین کیا گیا ہے جبکہ آن کاؤنٹر بینکاری کے ذریعے اس دوران 49 کروڑ کے قریب ٹرانزیکشنز کی گئی ہیں۔ ایس بی پی کے مطابق گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی کے دوران موبائل فونز کے ذریعے کی جانے والی ٹرانزیکشنز کے ذریعے 100 ارب روپے کا لین دین کیا گیا ہے جو امریکی ڈالرز میں صرف 640 ملین ڈالر بنتے ہیں جبکہ اسی عرصہ کے دوران بنگلہ دیش میں ای کامرس کے ذریعے کی گئی ٹرانزیکشنز کی مالیت 1.6 ارب ڈالر رہی ہے۔

بینکاری اور ای کامرس کے شعبوں کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ای کامرس کے شعبہ کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور گزشتہ چند سال کے دوران اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سمارٹ فونز کے استعمال میں دن بدن اضافہ رہو رہا ہے تاہم ای کامرس کی خدمات کے حوالے سے کم علمی اور تربیت کے فقدان کی وجہ سے موبائل فونز کے صارفین ای کامرس کی سہولیات سے کم استفادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای کامرس کی خدمات کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کر کے موبائل بینکنگ کی شرح میں خاطرہ خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے بینکاری کی سہولت سے استفادہ کرنے والی آبادی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہ

مزید :

کامرس -