کراچی میں بچوں کا وفاقی حکومت کا ہسپتال کرپشن کی آماہ جگا بن گیا

    کراچی میں بچوں کا وفاقی حکومت کا ہسپتال کرپشن کی آماہ جگا بن گیا

  

کراچی(این این آئی)کراچی کے وفاقی اسپتال کی ملکیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تاحال عمل نہ ہوسکا،این آئی سی ایچ کی انتظامیہ نے حکومتوں کے تنازعے میں کرپشن کابازار گرم کردیا،نجی سیکیورٹی کی آڑ میں کروڑوں روپے کی مبینہ خوردبرد،صوبائی انسداد بدعنوانی کے اداروں کو قابو میں رکھنے کے لئے ادارے کے ڈائریکٹر نے جیالے کو خلاف قانون اپنا پی اے بنالیا۔تفصیلات کے مطابق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی انتظامیہ کے سربراہ ڈاکٹر جمال رضا نے ادارے کی ملکیت کا تنازعہ زیر سماعت ہونے کے دوران اسپتال کی سیکیورٹی کی آڑ میں ماہانہ لاکھوں روپے کی کرپشن کا منظم راستہ نکا ل لیا جس کے مطابق تینوں شفٹوں میں سیکیورٹی کے لئے ایک نجی سیکیورٹی ادارے کو ایک پاکٹ این جی او کے تحت سیکیورٹی کا ٹھیکہ دیاگیا ہے لیکن اسپتال کے مستقل سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈ مقررہ تعداد کے مقابلے میں 25فیصد گارڈ زڈیوٹی کرتے ہیں اور 75فیصد گارڈ زکی تنخواہ کے لاکھوں روپے ماہانہ مبینہ طورپر ملی بھگت کے ذریعے ہڑپ کرلئے جاتے ہیں اور یوں اب تک کروڑوں روپے لوٹے جاچکے ہیں جبکہ ڈائریکٹر ڈاکٹر جمال رضا نے صوبائی انسداد بدعنوانی کے اداروں کی جانب سے کسی شکایت کی صورت میں انکوائری اور گرفتاری کے خوف سے جیالے وارڈ بوائے گریڈ 5کے سلیمان میمن کو حیرت انگیز طورپر خلاف قانون اپنا پی اے مقرر کررکھا ہے جس کی بدعنوانیاں اور لوٹ مار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے وہ اپنے اس غیر قانونی منصب کی آڑ میں نہ صرف مرتے بچوں کے اینکو بیٹر کے لئے نجی اسپتالوں کے اینکو بیٹر کی بکنگ کے بروکر کا کردار ادا کررہاہے بلکہ ڈیوٹی سے غائب رہ کر سارادن کبھی سندھ سروسز اسپتال میں مریضوں کی فرضی نسخوں پر لوکل پرچیز کی پرچیاں بنواکر انہیں لوگوں کے ذریعے فروخت کرواتا ہے بلکہ ضلعی صحت افسروں سے زبردستی اپنی نجی کار کے پیٹرول کی پرچیاں بھی وصول کرتاہے۔این آئی سی ایچ کے ایمان دار ملازمین نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان سے ڈائریکٹر اور اس کے پی اے سمیت دیگر کرپٹ مافیا کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کی اپیل کی ہے۔

مزید :

رائے -راولپنڈی صفحہ آخر -