ہائیکورٹس کافیصلہ کالعدم، سپریم کورٹ کا انڈر ٹرائل قیدیوں کی دوبارہ گرفتار کاحکم

ہائیکورٹس کافیصلہ کالعدم، سپریم کورٹ کا انڈر ٹرائل قیدیوں کی دوبارہ گرفتار ...

  

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) سپریم کورٹ نے کرونا کے باعث انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر ہائیکورٹس کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سنگین جرائم، نیب اور منشیات کے مقدمہ میں دی گئی ضمانتیں منسوخ کر تے ہوئے رہا کئے گئے قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔، سپریم کورٹ نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہائیکورٹس کے احکامات کو بھی کالعدم قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی تجاویز منظور کرلیں۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے باعث ہسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو آٹے اور چینی کا مسئلہ بنا ہوا ہے، حکومت خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر رہی ہے، بڑے بڑے لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کوکریڈٹ دینا چاہیے کہ آٹا چینی بحران کی انکوائری رپورٹ سامنے لائی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کرونا کی وبا سے لڑنے کیلئے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، پارلیمنٹ کو نئے قانون بنانے چاہئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے باعث ہسپتالوں کی بندش اور سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کے حوالے سے کیا اطلاعات ہیں؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بتایا کہ تمام ڈاکٹرز کو چھوڑ دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ڈاکٹرز صورتحال پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تاہم ڈاکٹرز کی اکثریت بہترین فرائض سر انجام دے رہی ہے، اٹارنی جنرل کے مطابق گرفتار ہونے والے ڈاکٹرز کی مستقلی کا معاملہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کس کی جرات ہے حکومت کو بلیک میل کرے، حکومت قانون سازی کرے پکڑے ان کو۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان کو حکم دیا کہ موجودہ صورتحال میں ڈاکٹرز کو جو چیزیں چاہئیں وہ روزانہ کی بنیاد پر فراہم کریں، جتنی کٹس اور سہولیات دستیاب ہیں وہ فراہم کریں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مقامی حکومتیں ہوتیں تو لوگوں کی نچلی سطح پر مدد ہوتی، حکومت نے مقامی حکومتوں کو خود غیر موثر کردیا۔۔عدالت نے حکومت کو تفتان، چمن، طور خم پر فوری طور پر ایک ہزار بستروں پر مشتمل قرنطینہ مراکز بنانے اور انہیں ایک ماہ میں مکمل فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان داخلی راستوں پر کورنٹین سنٹر بنانے میں ناکام رہی، ملک بھر کے ڈاکٹرز کو کورونا وائرس سے حفاظتی کٹس فوری طور فراہم کی جائیں، اگر عدالتی احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت سوموارتک ملتوی کردی۔

فیصلہ کالعدم

مزید :

صفحہ اول -