لاک ڈاؤن سے حالات سنگین، حکومت دکانیں کھولنے کی اجازت دے، خواجہ سلیمان صدیقی

لاک ڈاؤن سے حالات سنگین، حکومت دکانیں کھولنے کی اجازت دے، خواجہ سلیمان صدیقی

  

ملتان، وہاڑی، ہارون آباد، شادن لنڈ، قصبہ کالا (نیوز رپورٹر، بیورو رپورٹ،نامہ نگار، نمائندہ پاکستان)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا ہے کہ ملک میں لاک ڈاؤن سے ساٹھ لاکھ چھوٹے تاجر شدید مالی بحران کے علاوہ حکومتی سطح پر نظر انداز کئے جانے پر اذیت ناک صورت حال سے دوچار ہوچکے ہیں۔حکومت نے لاک ڈاؤن کے(بقیہ نمبر61صفحہ6پر)

دورانیہ کو بڑھایا تو تاجر اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔حکومت صبح دس سے شام چھ تک کاروبار کھولنے کی اجازت دے اور بجلی ٹیکسز میں ریلیف دیا جائے۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے پریس کلب ملتان میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔اس موقعہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاویداختر،سٹی صدر خالد قریشی،شیخ اکرم حکیم،جعفر شاہ، آفاق انصاری،ادریس بٹ،مرزا نعیم، اشفاق انصاری،حاجی عبدالجبار قریشی، عبدالطیف بلوچ،شیخ اسلم ودیگر موجود تھے۔خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں جزوی لاک ڈا?ن ہے،50 فیصدٹریفک رواں دواں ہے،یوٹیلٹی سٹورزکے علاوہ بینکوں،نیشنل سیونگز میڈیکل ہالز سبزی وفروٹ منڈیوں بڑے شاپنگ مالز پرعوام کی لمبی لمبی قطاریں ہروقت نظرآرہی ہیں۔ کیاان سے کورونا وائرس نہیں پھیل سکتا۔حکومت نے کریانہ کے علاوہ بینکوں، آٹوورکشاپس اورزرعی سیکٹرسے منسلک بہت سے کاوربارکوکام کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے تاہم اس تمام مراحل میں چھوٹاتاجرنظراندازہورہاہے جبکہ ہردکاندارکے ساتھ کم ازکم 2سے5ملازمین وابستہ ہوتے ہیں کم ازکم ڈیڑھ کروڈ دکانداروں کے ملازمین کے گھروں میں فاقے شروع ہوگئے ہیں جبکہ ہمارے 60لاکھ چھوٹے دکانداروں میں سے 40لاکھ کرایہ کی دکانوں میں کاروبارکررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈا?ن کے وقت بھی حکومت نے ہمارے نمائندوں سے مشاورت نہیں کی اورنہ ہی ریلیف پیکج بناتے وقت ہمارے ساتھ مشاورت کی ہے بلکہ ہمیں نظرانداز کرکے ریلیف پیکج بھی امپورٹرزاورایکسپورٹرزکے علاوہ بڑے کاروباری طبقہ کے لئے دیاگیاہے۔خواجہ سلیمان صدیقی نے کہاکہ اگرلاک ڈا?ن میں اضافہ کیاگیاتوبڑی تعداد میں لوگ گھروں میں بھوک اوردیگرضروریات کے ہاتھوں مجبورہوکر باہر سڑکوں پرآسکتے ہیں۔اس لئے ہم حکومت کاساتھ دیتے ہوئے تجویز دیتے ہیں کہ صبح 10بجے سے شام 6بجے تک کاروبار کی اجازت دی جائے ہم حکومت کویقین دلاتے ہیں کہ سماجی فاصلہ کے علاوہ دیگرتمام تراحتیاطی تدابیر پرپہلے سے بھی زیادہ عمل کریں گے۔لاک ڈاؤن نے تازہ روزی کمانے والے مزدوروں کے چولہے ٹھنڈے کردیئے ہیں اورمزدورطبقہ گھروں سے نکل کرمزدوری تلاش کرنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنے لگامزدوروں محمداختر ربنواز مہرعلی واجد حسین علام مرتضی محمدمتین ودیگرکاکہناتھاکہ ہم رکشہ ڈرائیورز ٹیکسی ڈرائیورز ٹھیلوں پرکھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والے دکانوں پرڈیلی ویجزپرکام کرنے والوں کے علاوہ دیگرمحنت مزدوری کرنے والے اس وقت شدیدمشکلات سے دوچارہیں حکومت کی طرف سے امدادکے اعلان محض جھوٹی تسلی ثابت ہورہی ہے حکومتی امدادکے حصول کیلئے جوشرائط رکھی گئی ہیں ان کاپوراکرناکسی کے اختیارمیں نہیں ہے ان کاکہناتھاکہ اب صورتحال اتنی خراب ہوچکی ہے کہ مخیرحضرات نے بھی آہستہ آہستہ ہاتھ روکناشروع کردیئے ہیں جبکہ لاک ڈاؤن طویل ہوتادکھائی دے رہاہے ان کایہ بھی کہناتھاکہ کوئی ماں باپ اپنے بچوں کوبھوک سے بلکتاہوانہیں دیکھ سکتااگریہی صورتحال کچھ دن مزیدرہی تومزدورطبقہ کاصبرکاپیمانہ لبریزہوجائے گاان کایہ بھی کہناہے کہ حکومت کوئی ایسامناسب راستہ اختیارکرے کہ کوروناکے خطرات سے بھی محفوظ رہاجاسکے اورکاروباربھی جاری رہے تاکہ کوئی کسی پربوجھ نہ بنے انہوں نے وزیراعظم عمران خان ودیگرذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ ہمارے حالات پرہمدردانہ غورکرکے ہمیں مشکلات سے نکالاجائے۔کورونا وائرس کے باعث شہرہارون آباد میں 15ویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری رہا، پولیس، فوج اور رینجرز کے اہلکاروں کا شہر کی مختلف شاہراہوں پر فلیگ مارچ، غیر ضروری طور پر نکلنے والے افرادکی حوصلہ شکنی، شہر میں کاروبار بند ہے سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر، دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدوروں کو ان حالات میں شدید پریشانی کا سامنا جبکہ مخیرحضرات کی جانب سے راشن کی ترسیل کا کام بھی جاری ہے جبکہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت نے لاک ڈاون کا فیصلہ کیا جس کو 20 روز گزر گئے اور اس حکومتی فیصلہ سے غریبوں اور دیہاڑی دار کے علاوہ نجی شعبہ کے ملازم جو کہ ڈیلی ویجز پر تھے بے روز ہو گئے ہر قسم کے کاروبار ٹھپ ہو نے سے غریب لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا حکومت نے متاثرین کی مالی امداد اور گھر گھرراشن پہنچانے کا اعلان کیا مگر 20 روز گزر جانے کے باوجود حکومتی اقدامات کہیں بھی نظر نہیں آئے حالانکہ متاثرین کی مدد کے لئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے مگر متاثرین تک نہ پہنچے گزشتہ 20 روز سے بے روزگار ہو کر گھروں میں قید ہونے والے غریب اور دیہاڑی داراحتیاط کر کے کرونا وائرس سے تو بچ گئے مگر بھوک سے زندہ رہنا مشکل نظر آرہا ہے اتنے بُرے حالات میں بھی حکومت سنجیدہ نظر نہیں آرہی عوام کو مطمئن کرنے کے لیے خالی اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک عملی اقدامات نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے روز بروز عوامی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خواجہ سلیمان

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -