” جہانگیر ترین نا اہل ہوئے تو انہوں نے گھر میں مشاورت کے دوران سوچا کہ اس میں عمران خان کا بھی کردار ہو سکتا ہے اور یہ بات وزیراعظم تک پہنچ گئی لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟ “ سینئر صحافی نے ماضی کے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

” جہانگیر ترین نا اہل ہوئے تو انہوں نے گھر میں مشاورت کے دوران سوچا کہ اس میں ...
” جہانگیر ترین نا اہل ہوئے تو انہوں نے گھر میں مشاورت کے دوران سوچا کہ اس میں عمران خان کا بھی کردار ہو سکتا ہے اور یہ بات وزیراعظم تک پہنچ گئی لیکن اس کے بعد کیا ہوا ؟ “ سینئر صحافی نے ماضی کے بڑے راز سے پردہ اٹھا دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی روف کلاسرا نے وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان آنے والی مبینہ دراڑوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کئی بڑے دعوے کر تے ہوئے یوٹیوب پر ویڈیو جاری کر دی ہے ۔

سینئر صحافی روف کلاسرا کا کہناتھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان جو فاصلے آئے وہ دراصل اس وقت شروع ہوئے جب جہانگیر ترین کے خلاف سپریم کورٹ سے فیصلہ آیا اور وہ نااہل ہوئے ،جہانگیر ترین بہت پراعتماد تھے کہ انہیں نااہل نہیں کیا جائے گا ، وہ پر اعتماد تھے کہ میں نے چیزیں ظاہر کی ہوئی ہیں اور مجھے نااہل نہیں کیا جائے گا اور وہ یہی سوچ کر سپریم کورٹ گئے تھے ، لیکن جب وہ نااہل ہوئے تو یہ ان کیلئے بہت بڑا صدمہ تھا ۔

سینئر صحافی کا کہناتھا کہ کیونکہ انہوں نے دس سال پارٹی پر سرمایہ کاری کی ، گھر کے خرچے اور جہاز چلایا جبکہ جلسے اور جلسوں پر بھی خرچ کیا لیکن جب وقت آیا اور پارٹی حکومت میں آ رہی تھی تو انہیں نااہل کر دیا گیا ۔جہانگیر ترین بھاری دل کے ساتھ گھر چلے گئے اور انہوں نے گھر بیٹھ کر اپنے دوستوں کے ساتھ مشاورت کی ہمارے ساتھ کیا ہواہے ، اس کا فائدہ کس کو ہوا، کیونکہ ہماری ساری چیزیں طے تھیں کہ میں نااہل نہیں ہوں گا ۔

روف کلاسرا نے کہاکہ جہانگیر ترین نے کچھ نام لیے کہ ان کو فائدہ ہو سکتا ہے ، تین چار ممکنات پر غور کیا گیا کہ کونسی ایسی طاقتیں ہو سکتی ہیں جن کو فائدہ ہو سکتا ہے ، لیکن ایک مرحلہ ایسا آیا کہ فیملی میں مشاورت ہوئی کہ کہیں عمران خان نے انہیں نااہل کروانے کیلئے کوئی کردار تو نہیں ادا کیا ؟ ۔سینئر صحافی نے کہا کہ میں یہ بات وثوق سے کر رہاہوں ۔

روف کلاسرا کا کہناتھا کہ مشاورت کے دوران کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ جہانگیر ترین بوجھ نہ بن جائے ، ایک معاملہ یہ تھاکہ وہ کہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہ مانگنا شروع کر دیں اور مرکز میں کہیں ڈپٹی پرائم منسٹر کا عہدہ نہ بن جائے ، کیونکہ عمران خان کے بعد سب سے بڑا کلاوڈ جہانگیر ترین کا تھا ، ان کے ذہن میں ایک لمحے کیلئے یہ سوچ آئی کہ ممکن ہے عمران خان کا بھی اس میں کردار ہو؟

سینئر صحافی روف کلاسرا نے بتایا کہ جہانگیر ترین کی بدقسمتی ہے کہ یہ ساری گفتگو جو ان کی گھر میں ہوئی یہ عمران خان تک پہنچ گئی ، ترین کیمپ کا خیال ہے کہ یہ انفارمیشن عمران خان تک پہنچائی گئی ہے ، اس کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان اس مسئلے پر بات بھی ہوئی اور دونوں نے کنفرنٹ کیا ، اس پر خان صاحب دکھی بھی تھے کہ جہانگیر ترین آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں آپ کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کروں گا ۔

سینئر صحافی نے کہا کہ یہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے تعلق میں پہلی دراڑ تھی ،جہانگیر ترین نے عمران خان کو کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بات ہوئی ، لیکن اگر مجھے اس پر یقین ہوتا یا دل میں کچھ ہوتا تو میں آپ کے ساتھ نہ کھڑا ہوتا ، اپنا جہاز استعمال نہ کر رہا ہوتا ، جتنے آزاد امیدوار آئے انہیں پارٹی میں نہ لاتا ، پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے آپ کی مدد نہ کرتا ۔

ان کا کہناتھا کہ عمران خان اس بات پر کافی حد تک قائل ہو گئے اور سمجھ بھی گئے لیکن یہاں پر دل میں ایک بڑی دراڑ آ چکی تھی دونوں طرف سے ، خان صاحب نے اس سب کے باوجود جہانگیر ترین کی زراعت کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ آگے چلے ۔انہوں نے جہانگیر ترین کو رول دینے کا فیصلہ کیا جس پر پارٹی میں بھی مزاحمت ہوئی ، شفقت محمود، اسدعمر اور شاہ محمود قریشی دراصل جہانگیر ترین کے کلاوڈ سے خوش نہیں تھے ۔انہیں فکر ہونا شروع ہو گئی تھی کہ ترین صاحب ’ اَن آفیشلی ‘ طور پر چیف منسٹر بن گئے ہیں ۔

سینئر صحافی نے بتایا کہ جب جہانگیر ترین نے پالیسی معاملات طے اور بیوروکریسی کے حوالے سے فیصلے کرنے شروع کیے کہ کس کو کہاں لگانا ہے ، تو یہ چیزیں وزیراعظم آفس میں رکنا شرو ع ہو گئیں ، جہانگیر ترین نے جب اسے دیکھا تو پتا چلا کہ اعظم خان خوش نہیں ہیں ، عمران خان کی موجودگی میں ایک دن جہانگیر ترین نے یہ بات اٹھائی کہ فلاں فلاں چیزوں کے نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوئے تو اعظم خان نے واضح کہا کہ یہاں دووزیراعظم نہیں ہو سکتے ، وزیراعظم عمران خان سامنے بیٹھے ہیں یہ کہیں تو میں کردوں گا ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -